میرا تعلق ایک ایسے گاؤں سے ہے، جہاں نہ اسپتال ہے اور نہ کوئی اچھا اسکول دستیاب ہے۔ شاہد ایک دو اسکول ہوں گےمگر آپ کو وہاں استاد نظر نہیں آتے ۔ وہاں کے طلبا و طالبات اسکول تو جاتے ہیں لیکن پڑھنے کی بجائے اسکول کے گراؤنڈ میں کھیل رہے ہوتے ہیں یا ایک دوسرے کے ساتھ لڑ رہے ہوتے ہیں۔
اسکول تو کسی کو نہیں پڑھاتا، اسکول کے ہونے سے کوئی تعلیم یافتہ نہیں ہوتا جیسا کہ ایک گھر میں اگر ماں یا باپ نہ ہو ں تووہ گھر گھر نہیں رہتا، اسی طرح اگر اسکول میں استاد نا ہوں وہ اسکول نہیں ہوتا۔
استاد ہونے سے اسکول ہوتا ہے ، ایک ایسا استاد اسکول میں موجود ہوتا ہے جو ہمارے بچوں کو تعلیم دے سکتا ہےتو شاید آنے والے کل کو ہزار ایسے استاد پیدا ہوں گے جو ہمارے آنے والی نسل کو ڈاکٹر ،انجینئر ،استاتذہ سمیت اچھے انسان پیدا کرسکتے ہیں جن سے آج تک ہم محروم ہوتے چلے آ رہے ہیں۔
اگر میں لڑکوں کی بات کروں وہ پھر بھی کسی نہ کسی شہر میں جا کر پڑھ رہے ہیں وہ بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے کسی قریبی شہر میں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہے ہوں گے۔ اس وقت ہمارے معاشرے میں ایسے سینکڑوں لڑکے موجود ہیں جو پڑھنے کا شوق رکھتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں ، کبھی غربت آڑے آتی ہے تو کبھی بھوک اور افلاس تعلیم کے آگے آہنی دیوار بن کر سنہری خوابوں کو چکنا چور کردیتی ہے۔
ا
میں نے اپنے گاؤں میں کئی ایسے بھی بچے دیکھے ہیں کہ وہ پڑھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، وہ اعلی تعلیم کاخواب آنکھوں میں سجائے ہوتے ہیں مگر وہ معاشی مجبوریوں کے سامنے بے بس ہوتے ہیں۔
میں جب بھی شہر کی تنگ و تاریک گلیوں سے نکل کر اپنے گاؤں کا رخ کرتی ہوں تو نیچر کے مناظر سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے گاؤں کے باسیوں کو اداس بھری نگاہوں سے دیکھتی ہوں۔ جب اپنے ہم عصر لڑکیوں کو دیکھتی ہوں تو کوئی بچے کو دودھ پلا رہی ہوتی ہےتو کوئی حاملہ ۔۔کوئی جنگل سے لکڑیاں چن کر آرہی ہوتی ہے تو کوئی سماجی اور معاشرتی زنجیروں میں قید ایک بند کمرے میں زندگی کے شب و روز گزاررہی ہوتی ہے۔
اگر میں غلط نہ ہوں تو میرے گاؤں کی محض دو فیصد لڑکیاں حصول تعلیم کے لئے شہروں کا رخ کرتی ہیں۔ یہ دو فیصد لڑکیاں وہی ہیں جن کے رشتہ دار یا تو شہروں میں رہائش پذیر ہیں یا ان کے خاندان گاؤں سے نقل مکانی کرچکے ہیں۔
یہ سوچتے سوچتے میں نیند کی آغوش میں چلی جاتی ہوں کہ نئی صبح ہمارے گاؤں کے لئے خوشی کی نوید لے کر آئے گی کہ ہمارے گاؤں میں اچھے سکول قائم ہوں گے جہاں بچے اور بچیاں جدید تعلیم سے آراستہ ہوکر آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی اہل ہوں گے۔ یہاں بنیادی مراکز صحت کے مراکز قائم ہوں گے۔ آپریشن اور بڑی بیماریوں کی علاج نہ سہی حاملہ اور دوران زچگی خواتین کی موت کی ریشو کم ہو گی۔
انہیں خیالات سے نکل کر جب روشنیوں کے شہر کراچی کے لیے رخت سفر باندھ لیتی ہوں جہاں مجھے جامعہ کراچی میں اپنے کلاس اٹینڈ کرنے ہوتے ہیں اور گاؤں والے کسی مسیح کے منتظر ہوتے ہیں۔ جب کراچی پہنچ کر بڑی بڑی عمارات پر میری نظر پڑتی ہے تو یہاں بڑے ہسپتال اور یونیورسٹیز کے بورڈ آویزاں نظر آتے ہیں اور میرے دل سے ایک آہ نکلتی ہے کاش ہمارے گاؤں میں یونیورسٹی نہ سہی ایک اچھا اسکول ہوتا جہاں بچے اور بچیاں الف سے انار اور ب سے بکری سیکھ جاتے۔
نائیلہ گنج بلوچ کا تعلق آواران کے پسماندہ گاؤں کولواہ سے ہے اور جامعہ کراچی میں زیر تعلیم ہیں۔ وہ سماجی اور خواتین کے مسائل پر قلم آزمائی کرتی ہے.