چور ڈاکوؤں کے ہینڈلر سن لو ہم تمھیں کبھی قبول نہیں کریں گے : عمران خان

لاہور: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی لانگ مارچ کا لبرٹی چوک سے آغاز ہوگیا جو ایک ہفتے میں اسلام آباد پہنچے گا۔

پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز عمران خان نے لاہور لبرٹی چوک سے کیا۔ عمران خان مرکزی کنٹینر پر چڑھ گئے اور خطاب کیا۔ حقیقی آزادی مارچ میں بڑی تعداد میں کارکن شریک ہیں۔ خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد بھی وہاں موجود ہے۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں۔

پہلے دن لانگ مارچ لاہور میں ہی رہے گا ۔ لبرٹی چوک سے اچھرہ، مزنگ،ایم او کالج، جنرل پوسٹ آفس چوک ،داتا دربارسے آزادی چوک پہنچے گا۔

لانگ مارچ اگلے دن شاہدرہ سے شروع ہوگا۔ دوسرے روز ہفتے کو مریدکے ،کامونکی سے گوجرانوالہ پہنچے گا۔ ڈسکہ سے ہوتا ہوا سیالکوٹ پہنچے گا۔

لانگ مارچ ، سمبڑیال، وزیر آباد سے ہوتا ہوا گجرات پہنچے گا۔ لالہ موسی کھاریاں سے جہلم جائے گا۔ گوجر خان سے راولپنڈی اور چار نومبر جمعے کو راولپنڈی سے اسلام آباد میں داخل ہوگا۔

عمران خان نے لانگ مارچ کی پلاننگ میں تھوڑی سی تبدیلی کردی۔ انہوں نے حکمت عملی بتاتے ہوئے کہا کہ لاہور میں لانگ مارچ میں عوام پیدل چلیں گے اور گھروں سے جوگرز پہنچ کر آئیں کیونکہ آج صرف مینار پاکستان تک جانا ہے، درمیان میں 4 سے 5 مقامات پر خطاب ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ گاڑیاں پیچھے ہوں گی اور لوگ پیدل مارچ کے ساتھ ساتھ آگے آگے چلیں گے ۔ جہاں جہاں آبادی سے لانگ مارچ گزرے گا لوگ پیدل چلیں گے۔ اگلے جمعہ کو ہم راولپنڈی پہنچیں گے۔

[pullquote]اچھرا میں کارکنوں سے خطاب[/pullquote]

عمران خان کا کنٹینر اچھرا پہنچنے پر عوام نے پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی کی۔ یہاں شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ قانون کی بالا دستی اور انصاف پر مبنی معاشرہ چاہتے ہیں کیونکہ اس وقت ملک میں طاقتوروں کے لیے الگ انصاف ہے جبکہ جیلیوں میں سائیکل اور کبوتر چوری کرنے والوں کو ڈالا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اربوں روپے لوٹنے والوں کو وزیر اعظم بنا دیا، ظلم کا معاشرہ نہیں چل سکتا، گوال منڈی میں پیدا ہونے والے خود کو برطانوی ملکہ کا رشتے دار ظاہر کرتے ہیں، چور ڈاکووں کے ہینڈلر سن لو ہم تمھیں کبھی قبول نہیں کریں گے۔

[pullquote]پی ٹی آئی رہنماؤں کی پریس کانفرنس[/pullquote]

لانگ مارچ قبل پی ٹی آئی کے رہنماؤں اسد عمر، فواد چوہدری، عمران اسمعیل، عمر اہوب اور مسرت جمشید چیمہ نے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس بھی کی۔

اسد عمر نے کہا کہ الحمدللہ لاہور سے آزادی پاکستان کی بعد حقیقی آزادی کا آخری مرحلہ شروع ہونے جارہا ہے، آج کے بعد مزید لوگ پابند سلاسل نہیں کیے جائیں گے، چوہدری غلام رسول کی گرفتاری میں بینکنگ کورٹ کا کوئی معاملہ نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے دن کے حقیقی مارچ کا سلالہ آزادی چوک پہنچ کر اختتام ہوگا، دوسرے دن شاہدرہ سے شروع ہوگا اور اختتام کامونکی پر ہوگا، تیسرے روز کامونکی سے گوجرانولہ پہنچیں گے، سوموار کو گوجرانولہ سے ڈسکہ اور سیالکوٹ پہنچ کر اختتام ہوگا، منگل کو سیالکوٹ سے گجرات اور بدھ کو لالہ موسی کھاریاں سے جہلم اختتام ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام لوگوں کے قیام کا انتظام پنڈی میں علامہ اقبال پارک میں کیا جارہا ہے، جمعہ کو پشاور سے آنے والے لوگ آئیں گے اور ٹیکسلا میں ان کا انتظام ہوگا، ہفتہ، اتوار اور سوموار کو ایچ نائن پارک میں ملکی تاریخ کے عظیم الشان جلسے ہوں گے، ہمارا ہدف پاکستان میں حقیقی آزادی ہے کیوں کہ پاکستان حقیقی طور پر آزاد نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پورے لانگ مارچ میں بھرپور خواتین شریک ہوں گی، اس بات کا فیصلہ ہوجائے گا کہ آئندہ سے اس عوام کے بارے میں کوئی اور فیصلے نہیں کرے گا بلکہ عوامی نمائندہ خود کرے گا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اس وقت صحافیوں پر جبر اور ظلم کیا جارہا ہے، آج کا دن ارشد شریف کے نام کرتے ہیں اور انہی کے لہو سے انقلاب آئے گا، اٹھانے والوں کو پیغام ہے کہ آپ نے آج 78 سالہ بزرگ کو اٹھایا ہے ان کی عزت نفس مجروح نہیں کیجیے گا جیسا کہ 75 سالہ اعظم سواتی اور شہباز گل کے ساتھ کیا گیا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کبھی کسی کو جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی ننگا نہیں کیا گیا، سپریم کورٹ کے ججز نے آئین پر عمل کیا ہوتا تو ارشد شریف کا جنازہ نہیں اٹھتا، اگر آئین پر عمل ہی نہیں ہونا تو آپ کو اتنا بڑا بجٹ اور اداروں کا کیا فائدہ؟ رانا ثناءاللہ اور شہباز شریف کی حکومت میں ایسے واقعات ہورہے ہیں ان 6 ماہ میں ملک کو بدترین نقصان پہنچا۔

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اگر آپ نظام بدلنا چاہتے ہیں تو حقیقی مارچ میں شامل ہوں ورنہ گلے سڑے نظام میں رہیں، اس نظام کو بدلنے کی طاقت صرف عمران میں ہے اور وہ کوشش کررہا ہے، پاکستانی عوام کو بند کمروں کے فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے باہر نکلنا چاہیے، پاکستان کا مستقبل حقیقی آزادی کی کامیابی اور ناکامی سے منسلک ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے