عامر لیاقت کی تیسری اہلیہ دانیہ شاہ کو ضمانت ملنے کے بعد وومن جیل کراچی سے رہا کردیا گیا۔
دانیہ شاہ کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل میں مقدمہ الزام نمبر 73/2022 زیر دفعہ 20,21,24 پیکا ایکٹ 2016 کے تحت درج تھا۔
ملزمہ دانیہ شاہ کے خلاف مقدمہ عامر لیاقت کی بیٹی دعا عامر نے درج کروایا تھا۔
ملزمہ دانیہ شاہ پر الزام تھا کہ اس نے عامر لیاقت کی نازیبا ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر وائرل کی ہیں اور یو ٹیوبر کو فراہم کی ہیں۔
ملزمہ دانیہ شاہ کو ایف آئی اے لودھراں سے مورخہ 15.12.2022 کو گرفتار کرکے کراچی لائی تھی۔
ملزمہ کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت جوڈیشنل مجسٹریٹ کورٹ نمبر 1، کراچی ایسٹ میں مقدمہ چل رہا ہے۔
ملزمہ کے وکیل لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ نے ٹرائل کورٹ اور سیشن جج شرقی کی عدالت درخواست ضمانتیں داخل کیں تھیں جوکہ مسترد ہوئیں تھیں۔
ملزمہ دانیہ شاہ کے وکیل لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ نے ٹرائل کورٹ اور سیشن جج کے آرڈر کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
ملزمہ دانیہ شاہ کی سندھ ہائیکورٹ نے 14 فروری 2023 کو مبلغ 20 لاکھ روپے میں منظور کی تھی۔
سندھ ہائیکورٹ نے ملزمہ کے وکیل۔لیاقت گبول ایڈووکیٹ کی درخواست ذر ضمانت 20لاکھ روپے کم کر کے5 لاکھ روپے کردی تھی۔
ملزمہ کی والدہ کی طرف سے ٹرائل کورٹ میں پانچ لاکھ روپے ضمانت کے مچلکے جمع کرانے کے بعد ٹرائل کورٹ ریلیز آ رڈر جاری کرتے ہوے جیل حکام کو ملزمہ کو رہا کرنے کردیا۔
ملزمہ کے وکیل لیاقت گبول ایڈووکیٹ نے جیل کے باہر دانیہ شاہ اور اس کی والدہ کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوے کہا کہ دانیہ شاہ بے قصور ہے اس پر لگاے گیے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔
ایف آئی اے دانیہ شاہ کے خلاف الزام ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
عدالت کے بھی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ایک بے گناہ کو انصاف فراہم کیا۔
ایف آئی اے نے دانیہ شاہ کے خلاف کمزور کیس بنایا ہے۔
ایف آئی اے نے مقدمہ درج کرنے سے پہلے کسی قسم کی کوئی تحقیقات نہیں کیں۔
یہ واحد کیس ہے جس میں ایف آئی اے دلچسپی لے رہی ہے جبکہ بہت سے کیسز کا حشر سامنے ہے۔
ایف آئی اے نے اس کیس آ ئین اور قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔
دانیہ شاہ کو اغوا کرکے لودھراں سے مجسٹریٹ کے سفری ریمانڈ کے بغیر کراچی لایا گیا۔ لیاقت علی خان گبول ایڈووکیٹ ایف آئی اے ٹیم نے آئین کے آرٹیکل 9 اور 10 کی خلاف ورزی کی ہے۔
ایف آئی اے مدعیہ کی ایماء پر دانیہ شاہ کے خلاف کام کررہی ہے جن لوگوں نے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کی ان کے خلاف آ ج تک کاروائی نہیں کی۔
امید ہے کہ عدالت دانیہ شاہ کے ساتھ انصاف کرے گی۔دانیہ شاہ کی جیل رہائی کے وقت پور ی لیگل ٹیم جن میں سکندر علی جج ایڈووکیٹ، شفیق ویسر ایڈووکیٹ، محمد علی کندھار ایڈووکیٹ، راجہ طیب ارسلان ایڈووکیٹ، توصیف ایڈووکیٹ، اجمل جتوئی ایڈووکیٹ، ودیگر موجود تھے۔
دانیہ شاہ جیل سے رہائی کے بعد اپنے آبائی گاؤں لودھراں واپس چلی گئی۔
ٹرائل کورٹ نے دانیہ شاہ کے کیس کی سماعت 9 مارچ تک ملتوی کی ہوئی ہے۔