سیاست اور عوام

ماہ مبارک چل رہا ہے لیکن رمضان کی برکات سمیٹنے کے بجائے آٹے کے تھیلے سمیٹنے کے لیے قطاریں لگی ہیں کیونکہ پیٹ کا دوزخ بھی تو بھرنا ہے ، ملک میں سیاسی اور معاشی افراتفری کا عالم ہے۔ غربت ہے بے روزگاری ہے، جہاں روزگار ہے وہاں کام زیادہ اور تنخواہ کم ہے۔ ایک تھیلے آٹے کے حصول کے لیے لوگوں کی عزت نفس کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ۔۔۔

جوں جوں مہنگائی بڑھ رہی ہے توں توں لوگوں کی سفید پوشی کا بھرم بھی ختم ہو رہا ہے۔ یوں بھی خالی ہاتھ اور خالی پیٹ کاہے کے بھرم۔ مفت آٹے کے حصول کے لیے چھینا جھپٹی ہو یا زکوۃ خیرات کی تقسیم پر کسی کو کچلنا پڑے ہر کوئی بس اپنی ضروریات پوری کرنے کی کوشش میں ہے.

ان مشکل حالات میں جب ایک طرف ملک معاشی بدحالی کا شکار ہے، متوسط طبقہ بھی اپنے اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہے، کلائمینٹ چینچ کے باعث بارشوں کا سلسلہ نہیں تھم رہا کھڑی فصلیں تباہ ہو رہی ہیں، گزشتہ سال والے سیلاب متاثرین تاحال صاف پانی تک سے محروم ہیں، یو این ڈی پی کے مطابق سیلاب سے 3 کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 90 لاکھ مزید لوگ غربت میں جا سکتے ہیں۔ پاکستان میں بےروزگاری کی شرح یہ ہے کہ 65 لاکھ نوجوان بےروزگار ہیں۔

دوسری جانب سیاسی میدان میں گرمی ہے، پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی ملک کو اور عوام کو بجائے اس بحران سے نکالنے کے سیاسی پوائینٹ سکورنگ میں مصروف ہیں۔ مسلسل الزامات کا سلسلہ ہے کہ کس نے کیا کیا، لیکن اب کون کیا کر رہا ہے اس پر خاموشی ہے۔

سیاسی مفادات کے لیے مذاکرات اور ایک ہو جانے والے سیاست دان ان حالات میں جب عوام بھوک سے مر رہی ہے، اس بحران سے نکالنے کے لیے کوئی حکمت عملی نہیں بنا رہے۔ بس پی ٹی آئی موجودہ حکومت پر اور موجودہ حکومت پی ٹی آئی پر تنقید کر رہی ہے۔

صورتحال یہ ہے کہ سیاسی اختلافات کی بنا پر مقدمے پر رہے ہیں۔ من پسند افراد نوازے جا رہے ہیں ناپسندیدہ افراد کے ساتھ انتقامی کاروائی ہو رہی ہے۔ انصاف فراہم کرنے والے آپس میں دست و گریبان ہیں۔ سرحدوں کے محافظ اقتدار کے ایوانوں کے فیصلوں میں مصروف ہیں۔ اس سیاسی اور معاشی افراتفری میں تکلیف میں صرف وہ ہیں جن کی سوچ آج بچوں کو کیا کھلاوں گا کہ گرد گھوم رہی ہے۔

ایتھوپیا کی کرنسی پاکستان سے بہتر ہو گئی ہے۔ بنگلہ دیش ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ بھارتی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ اور پاکستانی ابھی تک اس بحث میں ہیں کہ پاکستان دیوالیہ ہو گا یا نہیں ۔ تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتیں بھی عام آدمی کی دسترس میں نہیں ہیں۔ سری لنکا نے معاشی بحران کے نمٹنے کے لیے اپنی فوج پچاس فیصد کم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے سیاست دانوں کی بیٹھک ناگزیر ہے۔ ہر سیاست دان جس کو عوام اپنا لیڈر سمجھتی ہے اپنا ووٹ دیتی ہے اس کا فرض ہے کہ سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر عوام کے مینڈیٹ کا بھرم رکھے اور ملک بچانے اور غربت مٹانے کے لیے ایک پیچ پر آئے ورنہ تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے