اگر آپ لوگوں کو یاد ہو تو کلاس میں یہ ڈسکشن ہوئی تھی کہ پاپولسٹ، فسطائی، ریڈیکل نظریاتی، نسل پرستی پر مبنی اور ریڈیکل انقلابی لیڈروں اور ان کے زیر اثر چلنے والی تحریکوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ یہ معاشرے کو ایک مخصوص کمیونٹی، اشرافیہ، طبقے یا نسل کے خلاف غصے سے بھر دیتے ہیں۔ اس غصے کے اظہار کے لئے یا تو پھر کسی پڑوسی ملک سے جنگ کرنی پڑتی ہے اور اگر جنگ کے امکانات معدوم ہوں تو پھر معاشرے یہی غصہ اپنے اوپر نکالتا ہے۔
آٹھ اور نو مئی کو جو کچھ ہم نے دیکھا ہے یہ اس غصے کے اظہار کا صرف ٹریلر ہے جس کی پوری فلم ابھی چلنی باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے شر سے بچائے۔ انارکی اور سول وار ایسی آفت ہے جس سے بچنے کے بارے میں اللہ کے رسول سے خصوصی ہدایات مروی ہیں۔ پاکستانی سیاست میں نئی مڈل کلاسز کے ذہنوں میں گزشتہ تین چار دہائیوں میں منظم طریقے سے اشرافیہ کے خلاف جس طرح کا ہیجان انگیز بیانیہ anti elite extremism پیدا کیا گیا اور جو نفرت بھری گئی، اس کے اظہار کے چند مناظر ہم نے ملاحظہ کر لئے ہیں۔
اس کو ڈی فیوز کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ یہ پیدا کرنے والے خود ذمہ داری سے آگے بڑھ کر منظم طریقے سے لوگوں کو اور بالخصوص اپنے چاہنے والوں کو آئیڈیل ازم اور رومانویت پسندی کی اس کیفیت سے بتدریج نکالیں اور لوگوں کو آیئڈیل سے کم تر کے درجے پر راضی رہنے کی تربیت دیں۔
ورنہ دوسرا طریقہ پھر خودکار طریقے سے نمودار ہوگا اور یہ ہے کہ ریاستی عملداری پورے جبر کے ساتھ قائم ہوگی اور لوگوں کے تشدد کی کیپیسٹی سے برتر تشدد کے ذریعے سے سوسائٹی کو نارمل حالت میں لایا جائے گا۔
یہ دونوں آپشنز استعمال نہیں ہوئے تو پھر سوسائٹی کے مختلف طبقات جن میں ریاستی ادارے بھی شامل ہیں، اسی غصے کو ایک دوسرے پر نکالیں گیں۔ سول وار ہوگی۔ انجام تباہی ہوگی اور پھر ریاستی جبر سے ہی آرڈر ریسٹور ہوگا۔ اس لئے اگر بڑی تباہی سے بچنا ہے تو ابھی سے پیش بندی کریں۔