یومِ ولادت: حسن بن علی رضی اللہ عنہ ؛ صبر، حلم اور اتحادِ اُمت کا روشن مینار

پندرہ رمضان المبارک یومِ پیدائش ہم شبیہ مصطفیٰ نواسئہ رسول جگر گوشہِ بتول پانچواں خلیفہ راشد سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ.

سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بڑے بیٹے ہیں۔ آپ کی ولادت 3 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی والدہ کا نام سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ہیں۔

سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی شخصیت بہت ہی بلند و بالا تھی۔ آپ نے اپنے بچپن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت زیادہ محبت اور شفقت دیکھی۔ آپ نے اپنے والد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بہت سی جنگوں میں حصہ لیا جس میں سے جنگ جمل جو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جنگ سفین حضرت علی اور امیر شام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم جنگ نہروان جو حضرت علی اور خوارج کے درمیان ہوئی ان سب میں شرکت کی اور آپ کے ساتھ بہت سے سفر بھی کیے۔

سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی ایک خاص خصوصیت یہ تھی کہ آپ بہت ہی صابر اور متحمل مزاج تھے۔ آپ نے اپنے دور حکومت میں بہت سے مشکلات کا سامنا کیا، لیکن آپ نے کبھی بھی صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔

سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے 49 ہجری میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کر لی اور خلافت کو معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا۔ اس صلح کے بعد آپ مدینہ منورہ میں رہنے لگے اور عبادت و ریاضت میں مشغول ہو گئے۔

سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کا وصال 50 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوا۔ آپ کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ کی وفات کے بعد، آپ کے بھائی سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے آپ کی وفات کا اعلان کیا اور آپ کا جنازہ پڑھایا.

سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی زندگی ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔ آپ کی صبر و تحمل، آپ کی عبادت و ریاضت، اور آپ کی سخاوت و کرم ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنے فرائض کو پورا کرنے کے لیے کتنی محنت کر سکتے ہیں۔ آپ کی زندگی ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے