واپس گھوڑوں کی طرف ۔ ۔ ۔

پٹرول کی نئی قیمت سن کر میرے اندر ایک عجیب سا سکون اتر آیا۔ ایسا سکون جو عام حالات میں شاید کسی درویش کو چلہ کاٹنے کے بعد نصیب ہوتا ہے۔ خبر آئی کہ پٹرول اب 321 روپے 17 پیسے فی لٹر ہو گیا ہے اور ڈیزل 335 روپے 86 پیسے فی لٹر۔ میں نے فوراً دل ہی دل میں حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

آخر کوئی تو ہے جو میرے خوابوں کی تعبیر میں لگا ہوا ہے۔
میں برسوں سے دل میں چند معصوم سے خواب پالے بیٹھا تھا۔ ایک خواب یہ تھا کہ یہ جو گاڑیوں کا ہجوم ہے، یہ جو سڑکوں پر لوہے کے ڈبوں کی فوجیں دوڑتی رہتی ہیں، ایک دن یہ سب ختم ہو جائے۔ انسان واپس اپنی اصل طرف لوٹ آئے۔ وہ زمانہ واپس آ جائے جب لوگ گھوڑے رکھتے تھے، گدھے رکھتے تھے، خچر رکھتے تھے اور سائیکلیں چلاتے تھے۔

اسی کے ساتھ میرے دل میں دو اور چھوٹے چھوٹے خواب بھی تھے۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ کاش ایک دن ایسا بھی آئے جب بجلی اور انٹرنیٹ جیسی سہولتیں بھی ہماری زندگی سے غائب ہو جائیں۔ لوگ پھر شام کو صحن میں بیٹھیں، آسمان کو دیکھیں، ایک دوسرے سے بات کریں، اور زندگی کو اس سادگی کے ساتھ گزاریں جس سادگی کے ساتھ ہمارے بزرگ جیا کرتے تھے۔

یہ خواب میں نے کبھی کسی سے بیان نہیں کیے، اس لیے کہ لوگ ہنس پڑتے۔ کہتے:

“انتصار صاحب، آپ کس صدی میں رہتے ہیں؟”
لیکن اب مجھے لگنے لگا ہے کہ شاید کسی نے میرے دل کی بات سن لی ہے۔

حکومت وقت کی مہربانی سے گاڑیوں کا مستقبل تاریک اور گھوڑوں کا مستقبل روشن ہوتا نظر آ رہا ہے۔ جس انتھک محنت اور شبانہ روز کوششوں میں یہ حکومت لگی ہوئی ہے بہت جلد ہم بجلی اور انٹرنیٹ جیسی سہولتوں سے بھی جائیں گے۔

اب سوچیں، آج کل گاڑیوں کے لیے ہر چیز آن لائن دستیاب ہے۔ پاک ویل ڈاٹ کام پر آپ گاڑی تلاش کرتے ہیں، شوروم سے خریداری کرتے ہیں، اور قیمتیں موازنہ کرتے ہیں۔ چند سال بعد یہی منظر گھوڑوں کے لیے ہوگا۔ پاک گھوڑا خچر ڈاٹ کام پر آپ گھوڑے، خچر خرید سکتے ہیں، موازنہ کر سکتے ہیں، اور اپنی پسند کا چارہ آن لائن منتخب کر سکتے ہیں۔

شوروم؟ اب وہ جگہ گھوڑوں کی منڈی بن جائے گی، جہاں لوگ گھوڑوں کی قیمت، صحت، اور دن میں کتنی دوری طے کر سکتے ہیں، سب چیک کریں گے۔ گاڑیوں کی ہارن بجانے کی جگہ گھوڑوں کی ٹاپ کی گونج سنائی دے گی۔ پارکنگ کے لیے جگہ نہیں، گھوڑوں کی گھاس کی پیڑھی بچھائی جائے گی۔

تصور کریں، آج کل لوگ گاڑی کی قیمت کے لیے قرض لیتے ہیں، اقساط پر خریدتے ہیں۔ مستقبل میں لوگ گھوڑے خریدنے کے لیے ادھار کا فارم بھریں گے:
“گھوڑا نمبر A-32: دو سالہ، روزانہ 25 کلومیٹر، بغیر ہڑتال کے چلتا ہے۔ ادھار 12 اقساط میں قابل ادائیگی۔”

یہ سب محنت حکومت کی ہے۔ حکومت نے یہ بھی طے کر دیا ہے کہ لوگ زیادہ سہولتیں نہ لیں، تاکہ پیدل چلنے اور گھوڑے چلانے کی عادت دوبارہ پیدا ہو۔

یہی نہیں، بلکہ گھوڑوں کے لیے بھی انشورنس کا نظام آئے گا۔ آپ سوچیں:

“گھوڑا نمبر 7: ٹانگ میں چھوٹا زخم، روزانہ 20 کلومیٹر چل سکتا ہے، بیمہ پریمیم 500 روپے ماہانہ۔”

لوگ اب گاڑی کی رفتار کا مقابلہ نہیں کریں گے بلکہ گھوڑوں کی دوڑ کا مقابلہ کریں گے۔ اور یہ سب اس حکومت کی محنت کا نتیجہ ہے، جس نے عوام کے لیے سہولتیں محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

پھر وہ لمحہ آئے گا جب پٹرول پمپوں کی جگہ اصطبل ہوں گے، بجلی کے تاروں کی جگہ درختوں کی شاخیں ہوں گی، اور انٹرنیٹ کے وائرز کے بجائے گھوڑوں کی ٹاپیں گونجیں گی۔

پہلے لوگ گاڑی میں پٹرول ڈلواتے تھے، اب گھوڑے کو چارہ ڈلوائیں گے۔

پہلے ڈرائیور گاڑی کے انجن کی آواز سنتے تھے، اب لوگ گھوڑے کی ہنہناہٹ سے اس کی طبیعت کا اندازہ لگائیں گے۔

سڑکوں کی خالی جگہیں صحت مند زندگی، خوشگوار بات چیت اور قدرتی ماحول کے لیے دستیاب ہوں گی۔ لوگ پیدا ہونے والے شور سے محفوظ ہوں گے، اور فضا میں صرف گھوڑوں کی ٹاپیں اور سائیکل کی گھنٹیاں سنائی دیں گی۔

مجھے یقین ہے کہ چند سال بعد پاکستان دنیا کا سب سے صحت مند ملک بن جائے گا۔ لوگ پیدل چلنے اور سائیکل چلانے کی عادت ڈالیں گے، موٹاپا کم ہوگا، دل مضبوط ہوں گے اور ذہن پرسکون ہوگا۔ ڈاکٹر حضرات حیران ہوں گے کہ اب مریض کہاں گئے۔

یہ سب اس حکومت کی مہربانی سے ممکن ہو رہا ہے۔ وہ محنت اور حکمت عملی جس سے عوام کے لیے سہولتیں کم کی جا رہی ہیں، حقیقت میں ہماری صحت، معاشرتی تعلقات اور سادگی کی تربیت کر رہی ہے۔ یہ حکومت وقت کی مہربانی ہے جو ہمیں زندگی کے بنیادی سبق سکھا رہی ہے: کم سہولتیں، زیادہ خوشی، اور سچی زندگی۔

اور جب یہ دن آئے گا، میں اپنے دروازے کے باہر گھوڑا باندھ کر بیٹھا ہوں گا، مہمان آئے گا تو کہوں گا:
“آئیے جناب، شہر چلتے ہیں۔”
وہ پوچھے گا:
“کس پر؟”
میں فخر سے کہوں گا:
“گھوڑے پر

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے