دنیا کی تاریخ نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ مظلوم کی حمایت اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہر مسلمان کے لیے بنیادی فریضہ ہے۔ عالم اسلام میں سامراجی طاقتوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے مسلم ممالک پر حملے کیے، زمینیں قبضے میں لیں اور انسانی جانوں کو ہتھیار کے زور پر روند ڈالا۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا موقف کیا ہونا چاہیے اور امت مسلمہ کے اجتماعی مفاد کی روشنی میں کس طرح فیصلے کرنے چاہئیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر جدوجہد نہیں کرتے جو ظلم کا شکار ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس ظالم بستی سے نکال اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار پیدا فرما۔” (سورۃ النساء، آیت 75) یہ آیت واضح کرتی ہے کہ مظلوم کی حمایت صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ دینی فریضہ ہے۔
اسلام میں مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کا تصور بہت واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اگر اہل ایمان کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ، پھر اگر ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو اس کے خلاف لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔” (سورۃ الحجرات، آیت 9) یہ اصول ظاہر کرتا ہے کہ مسلمانوں کا معیار نام یا مسلک نہیں بلکہ عدل و انصاف اور مظلوم کی حمایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے دشمن کے حوالے کرتا ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث 2580) اسی طرح ایک اور حدیث میں فرمایا گیا کہ اپنے بھائی کو ظلم سے بچانا بھی مدد کا حصہ ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث 2444)
سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں متعدد مواقع پر امت کے اجتماعی مفاد کو مقدم رکھا گیا۔ مدینہ میں منافقین کا ایک گروہ، جس کی قیادت عبداللہ بن ابئی کرتا تھا، بظاہر مسلمان ہونے کے باوجود اسلام کے لیے خطرہ تھا۔ ایک موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے اس کو قتل کرنے کی اجازت دی جائے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے مسلمان ساتھیوں کو بھی قتل کرتے ہیں۔ (صحیح بخاری، حدیث 4905) اسی حکمت عملی اور صبر کی بنیاد پر صلح حدیبیہ اور حبشہ ہجرت جیسے واقعات امت مسلمہ کے لیے اصولی رہنمائی ہیں۔
تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ برصغیر کے علماء نے بھی اپنے ذاتی یا مسلکی اختلافات کو محدود رکھ کر مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کے لیے قربانیاں دیں۔ 1936ء میں مسلم پالیمنٹری کے قیام کے موقع پر جمعیت علماء نے مسلم لیگ کے ساتھ تعاون کیا تاکہ مسلمانوں کے نمائندے کامیاب ہو سکیں اور امت کے بڑے مفاد کو یقینی بنایا جا سکے۔ مولانا حسین احمد مدنیؒ، مفتی کفایت اللہ دہلویؒ اور دیگر علماء نے ذاتی جذبات کو پس پشت ڈال کر امت مسلمہ کے لیے قربانی دی۔ بعد میں مسلم لیگ نے وعدوں سے انحراف کیا، لیکن اس موقع پر علماء کا مقصد امت کے بڑے مفاد کی حفاظت تھا۔ یہ واقعہ آج کے عالمی تناظر میں بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ امت کو کس طرح اصولی موقف اپنانا چاہیے۔
فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ امت مسلمہ کی حمایت بھی اسی اصول کی بنیاد پر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی عوام مسلسل ظلم و جبر کا شکار ہیں۔ ان کی زمینیں چھینی گئیں، گھروں کو مسمار کیا گیا اور انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے کوئی رعایت نہیں کی گئی۔ علماء اور امت مسلمہ نے ہمیشہ فلسطینی مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جائے: مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ۔ (صحیح بخاری، حدیث 1189) اس سے واضح ہوتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف سیاسی نہیں بلکہ دینی اور روحانی اہمیت رکھتا ہے۔
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے اس بات پر بارہا زور دیا ہے کہ امت مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اجتماعی مفاد کو مقدم رکھے اور جہاں بھی مسلمانوں کے حقوق پر حملہ ہو، وہاں خاموشی اختیار نہ کرے۔ مفتی صاحب کے مطابق ایران کے معاملے میں، چاہے اس کے مسلکی نظریات سے اختلاف ہو، لیکن جب وہ مظلوم فلسطینیوں اور اسلامی مفادات کے حق میں کھڑا ہے تو اس کی حمایت امت کے اجتماعی مفاد میں آتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ ذاتی یا مسلکی جذبات کو محدود رکھیں اور عالمی سامراجی طاقتوں کے ظلم کے خلاف کھڑے ہوں۔
موجودہ عالمی سیاست میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر دباؤ، پابندیاں اور عسکری جارحیت اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ عالمی طاقتیں مسلمانوں کی آزادی اور مفادات کو محدود کرنا چاہتی ہیں۔ ایران کی حمایت صرف مسلکی اختلاف سے نہیں بلکہ امت مسلمہ کے اجتماعی مفاد اور مظلوم کی حمایت کے اصول سے جڑی ہے۔ اس موقف کو سمجھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ عالمی طاقتوں کی بربریت کے سامنے اصولی اور واضح موقف اختیار کر سکے۔
ایران کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس کے تمام نظریات یا مقامی پالیسیوں سے متفق ہیں۔ اصل مقصد وہی اصولی موقف ہے جو اسلام نے سکھایا ہے: مظلوم کی حمایت، ظلم کی مخالفت، اور امت کے اجتماعی مفاد کو ذاتی یا مسلکی اختلافات پر مقدم رکھنا۔ یہی اصول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت، صحابہ کرام کے اعمال اور تاریخی واقعات میں نظر آتا ہے۔
ظلم کے خلاف خاموش رہنا، ذاتی یا مسلکی اختلافات کو جواز بنا کر مظلوم کی حمایت نہ کرنا، یا عالمی طاقتوں کے حق میں پروپیگنڈا کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ایران کی حمایت، اصولی اور اجتماعی مفاد کے تناظر میں، امت مسلمہ کے لیے منطقی اور فطری موقف ہے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو محدود رکھیں، مظلوم کی حمایت کریں اور عالمی طاقتوں کی بربریت کے سامنے حق و انصاف کی آواز بلند کریں۔ یہی اصول قرآن، حدیث، سیرت اور علماء کے موقف کی روشنی میں امت مسلمہ کے لیے رہنما ہے۔
ہماری صف بندی کبھی مسلک کی بنیاد پر نہیں بلکہ مظلوم کی بنیاد پر ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس لمحے جارح کون ہے اور جس پر حملہ ہوا، وہ کون ہے۔ جب کوئی طاقتور ریاست اپنی عسکری برتری کے نشے میں کسی ملک کی سرحدیں روندتی ہے، قیادت کو نشانہ بناتی ہے اور بین الاقوامی قوانین کو محض کاغذی اعلان بنا دیتی ہے، تو بحث یہ نہیں رہتی کہ ہمیں کون پسند ہے، بلکہ بحث یہ ہوتی ہے کہ ہمیں ظلم سے کتنی نفرت ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مداخلتیں اور غزہ کی تباہی اس بات کی واضح مثال ہیں کہ طاقتور بھی معصوم شہریوں کو قتل کر سکتے ہیں، اور اس کے خلاف آواز بلند کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایران کے حق میں کھڑا ہونا صرف علاقائی سیاست کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی، اخلاقی اور اسلامی اصولوں کا تقاضا ہے۔ اصول ایک ہونے چاہیے: جو بھی ظلم کرے، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کی مخالفت لازمی ہے۔ یہی موقف امت مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری اور اسلامی غیرت کی نمائندگی کرتا ہے۔
عالمی منظرنامے میں اس وقت جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ دنیا ایک نئے توازن کی طرف بڑھ رہی ہے۔ طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں اور مختلف خطوں میں نئی صف بندیاں سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے وقت میں امت مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذباتی ردِعمل کے بجائے دانشمندانہ اور اصولی موقف اختیار کرے۔ کیونکہ وقتی نعروں سے زیادہ اہم وہ اصول ہوتے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے راستہ متعین کرتے ہیں۔
مسلمانوں کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب بھی امت نے اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر بڑے مقصد کے لیے اتحاد قائم کیا، وہ عزت اور وقار کے ساتھ آگے بڑھی۔ لیکن جب داخلی انتشار غالب آیا تو بیرونی قوتوں نے اس کمزوری سے فائدہ اٹھایا۔ اس لیے آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے اختلافات کے باوجود انصاف اور مظلوم کی حمایت کے اصول پر متحد ہوں۔
بالآخر یہ حقیقت واضح رہنی چاہیے کہ اسلام کا پیغام کسی ایک قوم یا خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ اس پیغام کی روح عدل، رحم اور انسانی حرمت کا احترام ہے۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنی سوچ اور عمل کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف امت کے اندر اتحاد پیدا ہو سکتا ہے بلکہ دنیا کے سامنے ایک ایسا اخلاقی معیار بھی قائم کیا جا سکتا ہے جو ہر قسم کی جارحیت اور ناانصافی کے خلاف مضبوط آواز بن سکے۔
اسی اصولی موقف میں امت کی عزت بھی ہے اور مستقبل کی سلامتی بھی۔ کیونکہ جب قومیں اصولوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں تو تاریخ انہیں صرف ایک سیاسی قوت کے طور پر نہیں بلکہ ایک اخلاقی مثال کے طور پر یاد رکھتی ہے۔