فریڈم اور فیمنزم، یعنی آزادی اور تانیثیت کے حوالے سے حالیہ جنگوں کے دوران بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کسی علاقے پر بارود برسا کر وہاں کے لوگوں کو آزادی نہیں دلا سکتے۔ جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے بچے اور خواتین ہی ہوتے ہیں، چاہے وہ موت ہو یا زندہ بچ جانے کے بعد کی دربدری۔ جلاوطنی اپنے آپ میں ایک عجیب سزا ہے۔ یادش بخیر، جب ریاستِ پاکستان میں آئی ڈی پیز کے کیمپ لگنے لگے تو الیکٹرانک میڈیا کے ظہور کے باعث ان لوگوں کے انٹرویوز بھی نشر ہوئے۔ ایک ادھیڑ عمر خاتون اس روز روتے ہوئے یہی پوچھ رہی تھی: ہم اپنے وطن واپس کب جائیں گے؟ برسوں گزر جانے کے باوجود آج بھی ان علاقوں میں شورش، آپریشن اور جنگ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ کون جانے کل کو ہماری ریاست کی پالیسی کیا ہو۔
خواتین کو کتنی آزادی چاہیے؟ یہ سوال پوچھتے اور اس کے جواب دیتے دیتے مدت گزر گئی۔ پارلیمان میں متناسب نمائندگی مل جانے کے لالی پاپ سے لے کر ہر میدان تک کچھ ایسی علامتی کامیابیاں دکھائی جاتی ہیں جو سب کو نظر آتی ہیں۔ اگر ہم اسی پر اکتفا کر لیں تو آئینہ مزید دھندلا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم انسان نما باندروں کے ہاتھ میں ایسا ہتھیار آ لگا ہے جو شہرت تو دیتا ہے، مگر روایات کے نام پر یہی شہرت معمولی سی آزادی کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست کی رٹ نظر آنی چاہیے۔ مگر عجیب سیاست کی غضب کہانی یہ ہے کہ ریاست کی رٹ اکثر صرف ان لوگوں پر چلتی ہے جو کسی کالے کرتوت پر تنقید کرتے ہوں۔ اگر دو بھائی مارے جائیں اور تیسرا کسی شرط پر چھوڑ دیا جائے تو ریاست کو تھوڑی بہت شرم تو آ ہی جانی چاہیے، مگر شاید اب شرم و حیا بھی سیاست کی نذر ہو چکی ہے۔
ریاست کی رٹ آپ کو ماہ رنگ بلوچ، ایمان مزاری یا عورت مارچ اسلام آباد سے گرفتار کی گئی خواتین پر تو نظر آتی ہے، مگر اسی ریاست کی رٹ تب کہیں نظر نہیں آتی جب اسی شہر میں کم عمر لڑکے باپ کے پیسے پر عیاشی کرتے ہوئے دو جوان لڑکیوں کو مار ڈالیں، یا امتحان دینے آئے نوجوانوں کو تیز رفتار گاڑیاں کچل کر نکل جائیں۔ ریاست کی رٹ آپ کو غریب کا ٹھیلا الٹ دینے والے افسر کی رعونت میں تو دکھائی دیتی ہے، مگر جب طاقتور سے ٹیکس لینے یا اپنے اللے تللے ختم کرنے کی باری آئے تو زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔
جب زندگی تنگ کر دی جائے، جینا حرام اور مرنا دشوار بنا دیا جائے تو انسان کے پاس محدود وسائل اور چند آپشن ہی بچتے ہیں۔ مگر وہ بھی غاصبوں کو ناگوار گزرتے ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی گھر کے دروازے باہر سے توڑ کر حملہ آوروں کی طرح داخل ہو کر آزادی دینے کا دعویٰ کرے تو یہ بات سمجھنے سے قاصر رہتا ہے کہ اگر اندر بیٹھا شخص قید ہے تو ہی آزاد ہو سکتا ہے، اور اگر وہ پہلے ہی آزاد ہے تو یہ دراندازی جرم ہے۔ ایسے کرتوت سے انسان کو سہمایا تو جا سکتا ہے، مگر قائل نہیں کیا جا سکتا۔ گھر کی پناہ چھن جانا، عزیزوں کا مارا جانا، بارود کی بدبو، کمیاب ہوتے وسائل، فضائی آلودگی اور موت کی خاموشی بانٹتے شور سے نہ آزادی ملتی ہے اور نہ حقوقِ نسواں کی راہیں کھلتی ہیں۔
حجاب لینا ہے یا اتارنا ہے، اس کا فیصلہ کرنے کے لیے بھی زندہ رہنا ضروری ہے۔ زندگی کے چلتے انسان بہت کچھ کر سکتا ہے اور بہت کچھ چھوڑ بھی سکتا ہے، مگر یہ زندگی کبھی اپنے چھین لیتے ہیں اور کبھی پرائے۔ کبھی بھری جوانی میں اور کبھی سائنس کے نام پر پیدائش سے پہلے ہی یہ کہہ کر کہ بیٹی ہے، اس سے جان چھڑا لی جاتی ہے۔
کہیں زمین تنگ ہو رہی ہے اور زبان تلخ، تو کہیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر رنگین تصاویر اور حقوقِ نسواں کے یکساں مواقع کا چرچا ہے۔ کہیں کے پی آئیز کی دوڑ ہے اور کہیں رشتوں کی میراتھن۔ کہیں خاموشی ہے تو کہیں خوشی۔ حقیقت یہ ہے کہ من مرضی کی آزاد وہی ہے جس کی زندگی، لباس، تعلیم، تنخواہ اور فیصلوں پر اس کی اپنی مرضی چلتی ہو۔
کچھ کام انفرادی سطح پر کرنے کے ہوتے ہیں اور کچھ جگہوں پر ریاست کو نظر آنا چاہیے۔ موٹرسائیکل پر ایم ٹیگ چسپاں کر کے آپ نے ابھی ریاست کی موجودگی کا ایک نیا انداز دیکھا ہوگا۔ ایک لین کراس کرنے پر چالان ایپ پر فوراً نظر آ جاتا ہے۔ پھر یہی ریاست تب کیوں غائب ہو جاتی ہے جب مجرم طاقتور ہو؟ کیوں عام کسان لوٹ لیا جاتا ہے اور بڑی کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے؟ بہت سے سوالوں کے جواب اس بات میں چھپے ہوتے ہیں کہ ایک سڑک کو ماڈل بنانے کے بجائے پوری کالونی کی سڑکیں قابلِ استعمال کیوں نہیں بنائی جاتیں۔
قانون بنا دینے سے ہر مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔ معاشرتی شعور آہستہ آہستہ ہی بیدار ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ایسے لوگوں کے لیے بھی آواز اٹھانی چاہیے جو اپنے لیے بول نہیں سکتے۔ اکثر اداروں میں اونچے عہدے والوں کو بٹھا کر انگریزی میں ہراسمنٹ کے سیشن ہو جاتے ہیں، مگر جس اکثریت کو مقامی زبان میں سمجھانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ معمولی عہدے پر بیٹھ کر جو چھوٹی موٹی بےغیرتیاں کی جاتی ہیں وہ دراصل کیا ہیں، اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔
میرے کچھ پڑھے لکھے دوست کہتے ہیں کہ “میرا جسم میری مرضی” کا نعرہ انہیں اچھا نہیں لگتا، اس کے بجائے “زن، زندگی، آزادی” بہتر ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نعرہ کوئی بھی ہو، اس کے پیچھے کھڑے لوگوں کو اکثر اپنے حصے کی مار کھانی پڑتی ہے۔ حقوق کبھی کسی کو پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیے جاتے۔ ہر دور کے نعرے باز اپنے حصے کی گالیاں اور تکلیف برداشت کرتے ہیں۔
کوشش کم از کم یہ ہونی چاہیے کہ آپ کے ہاتھ سے کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ اگر آپ اپنی خاتون کی کفالت کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں تو اسے احسانِ عظیم بنا کر جتانے کی ضرورت نہیں۔ بیٹیوں کو زندگی جینے کا حق دیں۔ ہم سائیکلوں پر آتے جاتے تھے، آج بچیاں سکوٹی چلا رہی ہیں۔ انہیں گھورنے سے آپ کی کوئی بیماری ٹھیک نہیں ہو گی۔ ایک دن وہ جان جائیں گی کہ سکوٹی چلانی ہے تو ہیلمٹ پہننا ضروری ہے، عبایا یا چادر نہیں۔
اگر آپ کے حصے میں بیٹی کی پرورش آئی ہے تو وہ باپ بنیں جو صبح اسے موٹرسائیکل پر سکول چھوڑنے جاتا ہے، نہ کہ وہ جو چودہ برس کی عمر میں اس کی شادی کر دیتا ہے۔ فتوے کا کیا ہے، جو چاہیں مل جائے گا۔ مگر لوئر اور مڈل کلاس لڑکیوں کے لیے زندگی بہتر بنانے کا راستہ تعلیم اور ہنر سے ہو کر گزرتا ہے۔ ان راستوں پر چلنے والوں کی حفاظت ریاست اور اداروں کی ذمہ داری ہے۔ نیشن اسٹیٹ کا کام صرف پریس کانفرنسوں میں ریڈ لائنز بتانا نہیں بلکہ تمام شہریوں کے مساوی حقوق کو یقینی بنانا بھی ہے۔