حالیہ دنوں میں پاکستان کے وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کے ایک بیان نے ملک میں آئینی آزادیوں، ریاستی اختیار اور خارجہ پالیسی پر عوامی بحث کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
وزیرِ قانون نے میڈیا اور تجزیہ کاروں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر ایسے تبصرے یا منظرنامے پیش کرنا جن میں یہ سوال اٹھایا جائے کہ پاکستان کو ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے یا وہ پہلے سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ کیوں اور کیسے وابستہ ہے، آئین کے مطابق مناسب نہیں اور ایسے معاملات ریاست پر چھوڑ دینے چاہئیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اگر اس معاملے میں “سرخ لکیر” عبور کی گئی تو قانون حرکت میں آسکتا ہے۔
یہ بیان بظاہر ایک سیاسی انتباہ ہے، لیکن اس نے ایک بنیادی آئینی سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا واقعی پاکستان کا آئین خارجہ پالیسی پر عوامی بحث کی اجازت نہیں دیتا؟ اگر آئینِ پاکستان کو دیکھا جائے تو اس میں خارجہ امور کو وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں ضرور رکھا گیا ہے، لیکن کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ اس موضوع پر عوام، میڈیا یا ماہرین رائے نہیں دے سکتے۔ آئین کا آرٹیکل 19 شہریوں کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے، البتہ اس آزادی پر کچھ معقول پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں، جیسے ریاست کی سلامتی، عدلیہ کی توہین، یا عوامی نظم و ضبط کا تحفظ۔ لیکن عام طور پر ان پابندیوں کا اطلاق ایسے معاملات پر کیا جاتا ہے جہاں ریاستی راز افشا ہوں یا براہِ راست قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، نہ کہ علمی یا سیاسی تجزیے پر۔
جمہوری معاشروں میں خارجہ پالیسی پر بحث ایک معمول کی بات ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں میڈیا، پارلیمنٹ اور تھنک ٹینکس مسلسل حکومت کی خارجہ پالیسی کا تجزیہ کرتے ہیں، اس پر تنقید کرتے رہتے ہیں اور متبادل تجاویز اور تجزیئے بھی دیتے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف پالیسی زیادہ مضبوط بنتی ہے بلکہ عوام میں اعتماد بھی پیدا ہوتا ہے کہ ریاستی فیصلے عوام کے اعتماد، شفافیت اور بحث کے بعد کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان کی موجودہ علاقائی صورتحال بھی خاصی پیچیدہ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن مسلسل تبدیل ہو رہا ہے اور خاص طور پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان مسابقت نے کئی ممالک کو سفارتی توازن برقرار رکھنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ پاکستان نے تاریخی طور پر کوشش کی ہے کہ وہ دونوں ممالک کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھے۔ اس کی ایک وجہ مذہبی، معاشی اور سفارتی تعلقات ہیں جبکہ لاکھوں پاکستانی محنت کش خلیجی ریاستوں خصوصاً متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں۔ اسی لیے پاکستانی خارجہ پالیسی اکثر محتاط انداز اختیار کرتی ہے تاکہ کسی بھی دوست ملک، اور فریق کو ناراض نہ کیا جائے۔
تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اس توازن کو برقرار رکھنے کے لیے عوامی بحث کو محدود کرنا ضروری ہے؟ بہت سے آئینی ماہرین اور سیاسی مبصرین کے مطابق ایسا نہیں ہے۔ ان کے نزدیک ریاست کے پاس خارجہ پالیسی بنانے کا اختیار ضرور ہے، لیکن اس اختیار کا مطلب یہ نہیں کہ شہری اس پالیسی پر سوال نہ اٹھائیں یا اس کا تجزیہ نہ کریں۔ جمہوریت میں عوامی رائے اکثر حکومتوں کو بہتر فیصلے کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ بھی اس حساسیت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ ماضی میں اکثر یہ تاثر رہا ہے کہ خارجہ اور سلامتی سے متعلق اہم فیصلے محدود ریاستی حلقوں میں طے ہوتے ہیں اور پارلیمانی بحث نسبتاً کم ہوتی ہے۔ جب بھی حکومت یا ریاستی ادارے عوامی مباحثے کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ خدشات دوبارہ ابھر آتے ہیں کہ شاید پالیسی سازی میں شفافیت کی کمی ہے۔ حالانکہ حکومت عوامی بحث کو خوش آئند کہتے ہوئے ان کی پیش کردہ تجاویز کو عوامی بحث کے طور پر محفوظ رکھ سکتی ہے یا پھر پارلیمنٹ میں عوام کے نمائندے ایسی تجاویز پر بحث کرکے قانون سازی کرسکتے ہیں جس میں دوست اور اتحادی ممالک پر تنقید سے مممالک کے درمیان خلیج پیدا ہوسکتی ہے۔ جو ممالک اندھا دھند تنقید کو خوش آئند قرار نہیں دیتے یہ ان کا حق ہے کہ ان کو اس سے محفوظ بھی رکھا جائے تاہم اس کے بدلے میں اپنی عوام کا آزادی رائے کے اظہار پر پابندیاں غیر ضروری محسوس کی جاتی ہیں۔
عوامی ردِعمل بھی اس معاملے میں منقسم نظر آتا ہے۔ کچھ حلقے وزیرِ قانون کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے کی نازک صورتحال میں غیر ذمہ دارانہ تبصرے پاکستان کے سفارتی مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض اوقات میڈیا میں پیش کیے جانے والے قیاس آرائیوں پر مبنی تجزیے بین الاقوامی سطح پر غلط پیغام دے سکتے ہیں۔
دوسری جانب صحافیوں، دانشوروں اور سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد اس بیان کو غیر ضروری اور آئینی روح کے خلاف قرار دے رہی ہے۔ ان کے نزدیک یہ سوال اٹھانا کہ پاکستان کو خطے میں کس حد تک غیر جانبدار رہنا چاہیے یا کن ممالک کے ساتھ تعلقات کو کس نوعیت کا ہونا چاہیے، ایک جائز قومی بحث ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے سوالات کو دبانے کے بجائے ان پر کھلے انداز میں مکالمہ ہونا چاہیے۔
مزید یہ کہ ڈیجیٹل دور میں معلومات اور تجزیے کو محدود کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے عام شہریوں کو بھی عالمی سیاست پر اظہارِ رائے کا موقع دیا ہے۔ اس لیے کسی ایک بیان یا انتباہ کے ذریعے پورے قومی مکالمے کو روکنا عملی طور پر ممکن نہیں رہتا۔
اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیرِ قانون کا بیان شاید آئینی حکم سے زیادہ ایک سیاسی پیغام ہے، جس کا مقصد میڈیا کو محتاط رہنے کی تلقین کرنا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستانی معاشرہ اب خارجہ پالیسی جیسے موضوعات پر بھی فعال بحث کرنا چاہتا ہے۔
بالآخر خارجہ پالیسی ریاست کی ذمہ داری ضرور ہے، مگر اس کی مضبوطی کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ وہ عوامی تنقید اور سوالات کا سامنا کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر پالیسی واقعی قومی مفاد کے مطابق ہو تو کھلی بحث اسے کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ پاکستان جیسے جمہوری معاشرے میں شاید یہی وہ توازن ہے جسے برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔