نیشنل پریس کلب کے انتخابات اور چند ضروری باتیں

السلام علیکم دوستو

پریس کلب کے انتخابات ہر سال آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں، لیکن ذاتی طور پر مجھے ہمیشہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ الیکشن بہرحال ایک تقسیم کا عمل ہوتا ہے۔ ایک طرف بھی ہمارے دوست ہوتے ہیں اور دوسری طرف بھی، اور دونوں طرف ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو ذہین، محنتی اور پروفیشنل صحافی ہیں۔

ایسے میں انسان ایک عجیب کیفیت سے گزرتا ہے۔ جب آپ ایک گروپ کے دوستوں سے ملتے ہیں تو دوسری طرف کے دوست بھی ذہن میں ہوتے ہیں۔ میرا اپنا مزاج بھی ایسا نہیں کہ میں بہت شدت کے ساتھ کسی کی مخالفت میں کھڑا ہو جاؤں۔ میری زندگی میں ویسے بھی جینوئن مخالفتیں بہت کم رہی ہیں۔ اس لیے میرے لیے ہمیشہ یہ مشکل ہوتا ہے کہ میں کسی ایک انتہا پر جا کر کھڑا ہو جاؤں۔

البتہ وقت کے ساتھ انسان سیکھتا ہے، اور میں نے بھی یہ سیکھا ہے کہ اعتدال کے ساتھ چلنا چاہیے۔ پہلے شاید میں ایسا نہیں تھا، مگر زندگی انسان کو سکھاتی ہے اور پھر وہ سیکھ کر آگے بڑھتا ہے۔

کل پریس کلب کا الیکشن ہو رہا ہے۔ میرا اپنا معاملہ یہ تھا کہ ڈیموکریٹس پینل کی طرف سے میں نائب صدر کے عہدے کے لیے انتخابات میں کھڑا ہوا تھا۔ بعد میں ہمارے دوست، بھائی اور استاد مطیع اللہ جان صاحب کو ڈیموکریٹس پینل میں شامل کرنے کے لیے مجھے ذمہ داری دی گئی کہ میں ان سے بات کروں۔ چنانچہ میں اور اعظم خان صاحب ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے گزارش کی کہ وہ ہمارا پینل جوائن کریں۔

انہوں نے ہم سے پوچھا کہ آپ لوگوں کا منشور اور تصور کیا ہے۔ ہم نے عرض کیا کہ پریس کلب دراصل صحافیوں کے اٹھنے بیٹھنے، ملنے جلنے اور اپنے دکھ سکھ بانٹنے کی جگہ ہوتا ہے۔ صحافی ایک مشکل، دباؤ بھرے اور ٹف ماحول میں کام کرتے ہیں، اس لیے ان کا یہ حق ہے کہ انہیں ایک ایسا ماحول میسر ہو جہاں وہ سکون سے بیٹھ سکیں، ایک دوسرے سے بات کر سکیں اور باوقار انداز میں وقت گزار سکیں۔

ہم نے یہ بھی عرض کیا کہ میڈیا مالکان کے خلاف ہماری جو جدوجہد ہے، حکومت کے ساتھ جو ہمارے ایشوز ہیں، اور صحافتی حقوق کی جو لڑائی ہے، اس کے لیے ہمارے پاس الگ پلیٹ فارم موجود ہیں۔ جیسے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور ڈیجیٹل میڈیا کے لیے ڈیجیٹل میڈیا الائنس فار پاکستان۔ وہ جدوجہد ہم وہاں سے کرتے ہیں۔ پریس کلب بنیادی طور پر ایک کلب ہے، اور کلب میں ہر قسم کے لوگ آ کر بیٹھتے ہیں، وہ لوگ بھی جن کے نظریات ہم سے مختلف ہوتے ہیں، جن کے عقائد الگ ہوتے ہیں، جو مختلف زبانیں بولتے ہیں۔

میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ نیشنل پریس کلب ہم سب کے لیے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ یہاں سرائیکی، پشتو، سندھی، اردو، بلوچ ،سندھی اور دیگر زبانیں بولنے والے صحافی اکٹھے ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے لوگ بھی ہوتے ہیں، کشمیر کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ آپ یقین کریں کہ جب اتنی مختلف زبانوں، علاقوں اور پس منظر کے لوگ ایک جگہ بیٹھتے ہیں تو ایک نہایت خوبصورت منظر بنتا ہے۔ ایک جاندار، رنگا رنگ اور بامعنی فضا پیدا ہوتی ہے۔

ہم سب کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ اس جگہ کو زیادہ بہتر ہونا چاہیے، زیادہ کشادہ دل اور زیادہ باوقار ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے کچھ ایسے واقعات بھی ہوئے جو بہت تکلیف دہ تھے۔ مثال کے طور پر ایک موقع پر پولیس پریس کلب کے اندر داخل ہوئی، صحافیوں پر تشدد ہوا، اور یہ ہمارے لیے بہت اذیت ناک بات تھی۔

اسی طرح ہمارے دوست دانش ارشاد صاحب نے ایک کتاب لکھی تھی، مگر اس کی تقریب رونمائی پریس کلب میں نہ ہونے دی گئی ۔ مجھے اس بات کا بہت دکھ ہوا، کیونکہ پاکستان میں صحافیوں کے ہاں کتاب لکھنے کا رواج ویسے ہی بہت کم ہے۔ جب کوئی صحافی کتاب لکھتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، اسے سراہا جانا چاہیے، نہ کہ اس کے لیے راستے بند کیے جائیں۔

پھر ایک اور واقعہ یہ ہوا کہ ہمارے سینئر صحافیوں نے ایک خوبصورت سلسلہ شروع کیا تھا جس میں ہر جمعہ مختلف شخصیات کو بلایا جاتا تھا اور ان کے ساتھ فکری اور علمی نشست ہوتی تھی۔ اس میں ضیاء الدین صاحب جیسے معتبر نام بھی شامل تھے، مگر ایک موقع پر انہیں بھی پریس کلب میں بیٹھ کر یہ تقریب کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور وہ پریس کلب کے باہر سڑک کے کنارے بیٹھ کر گفتگو کرتے رہے ۔ میرے لیے یہ سوال آج بھی بہت تکلیف دہ ہے کہ ہم پریس کلب کو مکالمے کا مرکز بنانے کے بجائے وہاں بھی دیواریں کیوں کھڑی کر رہے ہیں۔

ایک بار ایسا بھی ہوا کہ ایک تنظیم کے رہنما کو پریس کلب کے باہر سے گرفتار کیا گیا۔ اگرچہ گرفتاری پریس کلب کی حدود کے باہر ہوئی، لیکن پھر بھی اس پورے واقعے نے یہ سوال ضرور اٹھایا کہ کیا یہ جگہ واقعی ایک محفوظ اور آزاد مکالمے کی جگہ ہے؟ میرا خیال ہے کہ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ اس ادارے کو ایک پناہ گاہ، ایک مکالماتی مرکز اور ایک جمہوری جگہ کے طور پر محفوظ بنائیں۔ آج پارلیمنٹ میں بھی ہر مسئلے پر بات نہیں ہو سکتی، لیکن کم از کم پریس کلب کے اندر تو ہمیں یہ مزاحمت ضرور کرنی چاہیے کہ یہاں ہر طرح کی بات چیت ہو سکے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ہم اس ادارے کو اس نہج تک کیوں نہیں لے جا سکے جہاں اسے ہونا چاہیے تھا۔ اس کے لیے ایک وژنری لیڈرشپ کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ پریس کلب کی اپنی عمارت کیوں نہیں ؟ شہر بیچوں بیچ اربوں روپے کی جگہ موجود ہے لیکن اس کا جتنا فائدہ اٹھانا چاہیے وہ ممکن نہیں ہو رہا ۔

اسی سارے پس منظر میں، میں ڈیموکریٹس پینل کے ساتھ ہوں، یہ پینل ہمارے دوست اور بھائی عبدالرزاق سیال صاحب کی صدارت میں انتخابات میں حصہ لے رہا ہے لیکن دوسری طرف محترم افضل بٹ صاحب کی سربراہی میں جرنلسٹس پینل میں بھی اچھے دوست موجود ہیں۔ ادھر بھی اچھے لوگ ہیں، اِدھر بھی اچھے لوگ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پریس کلب کے انتخابات میں بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کچھ ووٹ ادھر چلے جاتے ہیں اور کچھ اُدھر، کیونکہ دونوں طرف دوستیاں بھی ہوتی ہیں، تعلقات بھی ہوتے ہیں اور بعض ذاتی کمٹمنٹس بھی ہوتی ہیں۔

تاہم، میری گزارش صرف اتنی ہے کہ دوستیوں، تعلقات اور ذاتی وابستگیوں کے باوجود ہمیں یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ وہ کام کیا ہے جو پریس کلب کے فائدے میں ہے اور جو ہم سب کے فائدے میں ہے ۔ نیشنل پریس کلب سمیت ملک کے تمام پریس کلبز کی خوبصورتی یہ ہے کہ انتخابات میں شکست کے بعد ہارنے والے جیتنے والوں کے گلے میں ہار ڈالتے ہیں ۔ گلے ملتے ہیں اور ایک دن کی جنگ وہیں ختم ہو جاتی ہے ۔ یہ معمول کی بات ہوتی تھی لیکن اب یہ بات خبر بن جاتی ہے کیونکہ ہمارے رویے بہت زیادہ متشدد ہو گئے ہیں ۔ امید ہے کہ ہم ان رویوں کو فروغ دیں گے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو جنگ بنانے گریز کریں گے ۔ ہمیں یہ بھی جاننا چاہیے کہ زندگی ایک روزہ جدوجہد کا نام نہیں ہوتی ، روز جنگ لڑنی پڑتی ہے اور تاز دم ہونے کے لیے سونا پڑتا ہے ۔ سو قدم آگے بڑھانے کے لیے دو سو قدم پیچھے ہٹنا پڑتا ہے ۔ میں زمین پر کھڑے ہوکر ، دائیں بائیں اپنے فیصلے کرنے کا قائل ہوں ۔

کل الیکشن کا دن ہے۔ میری گزارش ہے کہ تقسیم کو مزید گہرا کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے گلے ملیں، ایک دوسرے کا احترام کریں، اور ووٹ ضرور ڈالیں۔ میں ذاتی طور پر ڈیموکریٹس پینل کو سپورٹ کر رہا ہوں، اور میری خواہش ہوگی کہ آپ ووٹ وہاں ڈالیں، لیکن میں جانتا ہوں کہ حقیقت ہمیشہ اتنی سادہ نہیں ہوتی۔ پریس کلب کے انتخابات میں کچھ جگہوں پر پینل ووٹ پڑتے ہیں اور کچھ جگہوں پر لوگ اپنے دوست احباب کو بھی ووٹ دے دیتے ہیں۔

بہر حال، یہ ہماری اپنی جگہ ہے۔ یہ جرنلسٹس پینل والوں کی بھی جگہ ہے اور ڈیموکریٹس پینل والوں کی بھی۔ یہ ہم سب کا مشترکہ گھر ہے۔

اس لیے کل فیصلہ ضرور کیجیے، مگر ایسا فیصلہ کیجیے جس سے آپ کا دل اور ضمیر مطمئن ہو، اور ایسا فیصلہ کیجیے جس سے پریس کلب واقعی بہتر ہو۔ اللہ آپ سب کو اپنی امان میں رکھے . آمین

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے