عام طور پر بڑے اور تناور درخت کے سائے میں ننھے پودے پروان نہیں چڑھ پاتے، مگر سید قمر عباس نے پشاور کی سرزمین پر اس روایت کو توڑتے ہوئے اپنی الگ پہچان قائم کی۔ ان کے والد، معروف ترقی پسند شاعر و ادیب سید فارغ بخاری، ایک معزز سادات گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور شعر و ادب، صحافت اور سیاست کے میدانوں میں ان کا نام سند کی حیثیت رکھتا تھا۔ تقریباً 38 کتابوں کے مصنف، ترقی پسند تحریک کے سرخیل اور آزادیِ صحافت کے علمبردار ہونے کے ناتے انہوں نے بارہا قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور جلاوطنی کا کرب جھیلا، مگر آخری دم تک اپنے مجاہدانہ موقف پر قائم رہے۔ فارغ بخاری خود ایک تناور درخت کی مانند تھے، لیکن سید قمر عباس نے اپنے کردار، جدوجہد اور عوامی خدمت کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ اصل وراثت محض نام نہیں بلکہ عمل ہے، اور یوں انہوں نے اپنی انفرادی شناخت کو زندہ جاوید بنایا۔
سید قمر عباس بخاری تین بہنوں اور تین بھائیوں پر مشتمل ایک خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے جنہوں نے اپنی زندگی علم، ادب، سیاست اور عوامی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ وہ 19 اکتوبر 1950 کو پشاور کے محلہ خداداد میں پیدا ہوئے۔ پشاور، جسے "پھولوں کا شہر” کہا جاتا ہے، کی خوشبو اور رنگوں نے ان کی شخصیت میں بھی ایک نرم خوئی اور دل آویزی پیدا کی۔ سادگی، خلوص اور وقار ان کے کردار کی پہچان تھے، ان کی گفتگو میں دانائی اور شائستگی جھلکتی تھی، اور وہ عوام کے درمیان رہ کر خدمت کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ اسی شہر کی فضا میں پروان چڑھ کر انہوں نے عوامی خدمت اور اصولی سیاست کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔
قمر عباس کی شادی 1986 میں فرحت عباس سے ہوئی، جن سے ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ بڑے بیٹے کا نام حیدر عباس ہے، جبکہ دوسرے بیٹے کا نام ثمر عباس ہے، اور بیٹی کا نام معصومہ عباس ہے۔ تینوں بچوں نے اپنی تعلیم اور عملی زندگی میں والدین کی اقدار اور اصولوں کی پیروی کی، اور خدمتِ خلق، علم دوستی اور اصول پسندی کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔ قمر عباس کی خاندانی زندگی نہایت سادہ مگر باوقار تھی، اور وہ اپنے بچوں کی تربیت میں انہی اقدار کو بنیادی حیثیت دیتے رہے۔ قمر عباس کی شہادت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے اُن کی قربانی کا احترام کرتے ہوئے فرحت عباس کو چھ سال کے لیے سینیٹر شپ دی، یوں پارٹی نے اپنے شہید کی لاج رکھی اور اُن کے خاندان کو عزت و وقار کے ساتھ یادگار بنایا۔
سید قمر عباس نے اپنی علمی زندگی کا آغاز 1966 میں میٹرک کے امتحان کی کامیابی سے کیا۔ اس کے بعد انہوں نے لاہور بورڈ سے کامرس کے ڈپلومے یعنی سی کام (1967) اور ڈی کام (1968) مکمل کیے۔ 1969 میں انہوں نے پشاور بورڈ سے اردو آنرز کیا، جس میں ان کی غیر معمولی کارکردگی نے انہیں نمایاں مقام دلایا۔ 1970 میں انہوں نے یونیورسٹی آف پشاور سے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور پھر 1973 میں قائداعظم کالج آف کامرس، پشاور یونیورسٹی سے بی کام مکمل کیا۔ علم و ادب سے گہری وابستگی کے باعث انہوں نے 1976 میں ایم اے اردو کیا، جس میں انہیں آنرز کے ساتھ گولڈ میڈل ملا، جو ان کی علمی قابلیت کا روشن ثبوت ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایم اے اسلامیات بھی کیا اور 1977 میں لا کالج، یونیورسٹی آف پشاور سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ یوں وہ بی کام، ایل ایل بی، ایم اے اردو اور ایم اے اسلامیات سمیت مختلف علمی و ادبی شعبوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہمہ جہت شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ ان کی علمی زندگی محض ڈگریوں تک محدود نہ رہی بلکہ وہ عملی طور پر بھی علم و ادب کے فروغ کے لیے سرگرم رہے۔ یونیورسٹی کے زمانے میں مباحثوں اور ادبی تقریبات میں بھرپور حصہ لینے سے ان کی شخصیت میں اعتماد، فکری گہرائی اور دلیل کی قوت پیدا ہوئی۔ اردو ادب اور اسلامیات میں دلچسپی نے انہیں ایک ہمہ جہت دانشور بنایا، جبکہ قانون کی تعلیم نے عوامی مسائل کو قانونی تناظر میں سمجھنے اور حل کرنے کا شعور دیا۔ یہی علمی پس منظر بعد میں ان کی سیاسی زندگی میں بھی جھلکتا رہا، اور وہ عوامی خدمت کو محض نعرہ نہیں بلکہ ایک علمی و عملی جدوجہد سمجھتے تھے۔ ان کی گفتگو میں دانائی، شائستگی اور دلیل کی قوت نمایاں تھی، جو انہیں ایک منفرد رہنما کے طور پر پہچان دیتی تھی۔
وراثت میں ملی ہوئی کتاب دوستی اور قلم سے رشتہ داری نے عباس کو مکمل طور پر اپنے رنگ میں رنگ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ادب میں ان کی نثر کی کئی کتابیں موجود ہیں۔ ان میں سے چند کا تعارف ذیل میں پیش ہے۔
کتاب "تکمیلِ انسانیت” سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر لکھی گئی ہے، جو انسان کو اخلاقی و روحانی ارتقا اور معاشرتی ذمہ داریوں کے شعور کی طرف رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ یہ تصنیف قاری کو اپنی ذات کی اصلاح اور سیرتِ طیبہ ﷺ کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
کتاب "سرچشمۂ ہدایت” قرآنِ مجید کی مختلف سورتوں کے اہم نکات پر مرتب کی گئی ہے، جو قاری کو دینی بصیرت، فکری روشنی اور عملی زندگی کے لیے رہنمائی عطا کرتی ہے۔ یہ کتاب دراصل قرآن کو سمجھنے اور اس کی تعلیمات کو روزمرہ زندگی میں اپنانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔
کتاب "وزیرِ جیل سے اسیرِ جیل تک” ایک منفرد اور فکری نوعیت کی تحریر ہے جس میں سیاست، حالات اور ذاتی تجربات کی جھلک ملتی ہے۔ اس میں سید قمر عباس نے اپنی سیاسی زندگی کے نشیب و فراز، جیل کے ایام اور عوامی جدوجہد کے تلخ و شیریں پہلوؤں کو بیان کیا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ایک ذاتی روداد ہے بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ اور جمہوری جدوجہد کا آئینہ بھی ہے۔ اس کے مطالعے سے قاری کو معاشرتی حقیقتوں اور سیاسی قربانیوں کا گہرا شعور حاصل ہوتا ہے، اور یہ اسے جدوجہد، صبر اور عوامی خدمت کے حقیقی معنی سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔
کتاب "موضوعاتِ قرآن” (غیر مطبوعہ) اگرچہ شائع نہ ہو سکی، لیکن اس کا موضوع اور انداز اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مصنف قرآن فہمی اور دینی فکر کو عام کرنے میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ اس میں قرآن کے اہم موضوعات کو منظم اور تحقیقی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جو ان کی علمی سنجیدگی اور دینی وابستگی کا ثبوت ہے۔ اگر یہ کتاب منظرِ عام پر آتی تو یقیناً قرآن فہمی کے میدان میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوتی۔ یہ کام دراصل قاری کو قرآن کی گہرائیوں میں جھانکنے اور اس کی تعلیمات کو عملی زندگی میں اپنانے کی دعوت دیتا ہے۔
قمر عباس نے جیل میں اپنے قیام کے دوران اپنے والد سید فارغ بخاری کی نامکمل سوانحِ حیات مکمل کی، جو بعد ازاں "مسافتیں” کے نام سے شائع ہوئی۔ یہ کارنامہ نہ صرف ان کی علمی وابستگی کا ثبوت ہے بلکہ والد کی ادبی وراثت کو زندہ رکھنے کی ایک عظیم کوشش بھی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قمر عباس نے مشکل حالات میں بھی علم و ادب کی خدمت کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔
روزنامہ مشرق پشاور میں راھرو كے نام سے ان کی کالم نگاری کو خاص مقام حاصل تھا۔ یہ اخبار خیبر پختونخوا کے علمی و ادبی حلقوں میں ایک معتبر پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے، جہاں سنجیدہ فکر اور معاشرتی مسائل پر بحث کی جاتی تھی۔ سید قمر عباس کے کالم اسی روایت کا حصہ تھے۔ وہ روزنامہ مشرق پشاور میں مستقل کالم نگار رہے، جہاں ان کی تحریریں سادہ مگر فکر انگیز انداز میں قارئین کو سنجیدہ سوچ کی دعوت دیتی تھیں۔ ان کی تحریروں میں اسلامی فکر، انسانی اقدار اور معاشرتی اصلاح نمایاں نظر آتی تھی۔
سید قمر عباس ، جنہیں محبت سے "یارو ں کا یار” کہا جاتا تھا، اپنی دوستانہ طبیعت اور مخلصانہ رویے کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔ یہ لقب انہیں اس لیے دیا گیا کہ وہ نہ صرف محبت بھری شخصیت کے مالک تھے بلکہ تعلقات کو نبھانے اور دوستوں کا ساتھ دینے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ قریبی حلقوں میں وہ ایک ایسے فرد سمجھے جاتے تھے جو ہر حال میں دوسروں کے کام آتا اور خلوص و وفا کی مثال قائم کرتا۔
سید قمر عباس کو سیاست اپنے والد سے ورثے میں ملی اور ایوب خان کے دور میں پاکستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے عملی سیاست کا آغاز کیا۔ وہ معراج محمد خان سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور جب ذوالفقار علی بھٹو شہید نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی اور صوبہ سرحد کا دورہ کیا تو قمر عباس نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ 1971ء میں انہوں نے پشاور یونیورسٹی میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن قائم کی اور کامرس کالج کی یونین کے صدارتی انتخابات دو مرتبہ جیتے۔ پیپلز پارٹی کے پہلے دورِ اقتدار میں تنظیمی اختلافات کے باعث وہ قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلتے رہے، مگر بھٹو شہید کی ہدایت پر رہا ہوئے۔ بھٹو کی فکر اور نظریے کے گرویدہ ہونے کی وجہ سے وہ تاحیات پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے اور اپنی خطابت کے ذریعے عوامی مقبولیت حاصل کی۔ ان کی تقاریر اس قدر پراثر ہوتیں کہ بڑے بڑے رہنما، حتیٰ کہ آفتاب شیرپاؤ جیسے سیاستدان بھی اپنی تقریر ان سے پہلے کرنے پر مجبور ہو جاتے تاکہ قمر عباس کے خطاب کے بعد پنڈال خالی نہ ہو جائے۔
سید قمر عباس سیاست اور سماجی خدمت میں ایک نمایاں اور ہمہ جہت شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز بلدیاتی انتخابات سے کیا، جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے پشاور شہر کے کونسلر منتخب ہوئے اور دوسری مرتبہ سابق ڈپٹی میئر و صوبائی وزیر کو شکست دے کر اپنی عوامی مقبولیت کو مزید مستحکم کیا۔ 1988ء کے عام انتخابات میں وہ حلقہ 2-پی ایف سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور ہاؤسنگ و فزیکل پلاننگ اور پارلیمانی امور کے وزیر مقرر ہوئے، جبکہ 1993ء کے انتخابات میں دوبارہ کامیاب ہو کر صوبائی اسمبلی کے رکن بنے اور محکمہ جیل خانہ جات و عوامی شکایات کے وزیر رہے۔ دونوں وزارتوں کے دوران انہوں نے عوامی خدمت کو اپنا شعار بنایا، پشاور کے عوام کے مسائل حل کیے اور ریکارڈ ترقیاتی منصوبے مکمل کر کے اپنی عوامی قیادت کو مزید مستحکم کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی صوبہ سرحد کے سینئر نائب صدر کی حیثیت سے انہوں نے پارٹی کی تنظیمی اور عوامی جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ جماعتِ سعادت پاکستان کے سیکریٹری جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، یوں سیاست، عوامی خدمت اور انسانی حقوق کی جدوجہد ان کی زندگی میں ایک دوسرے سے جڑی رہیں اور انہیں ایک منفرد و ہمہ جہت رہنما کے طور پر پہچان دلائیں۔
سید قمر عباس کبھی سیکرٹریٹ کے سرکاری دفتر میں نہیں بیٹھے بلکہ گلبہار میں اپنے گھر کے قریب ایک کرائے کے مکان کو عارضی دفتر بنایا۔ یہی جگہ ان کے حلقے کے عوام، دوست احباب اور ضرورت مندوں کے لیے مرکز تھی، جہاں وہ دن بھر بیٹھ کر لوگوں کے مسائل سنتے اور حل کرتے۔ یہ عارضی دفتر دراصل عوامی خدمت کا عملی نمونہ تھا، جہاں وہ رسمی سیاست سے ہٹ کر براہِ راست عوام کے ساتھ جڑے رہتے اور ان کی مشکلات کا ازخود حل تلاش کرتے تھے۔
قمر عباس کی وزارت کے دوران اُن کے نمایاں کارناموں میں جدید شہروں اور رہائشی منصوبوں کی تعمیر شامل ہے۔ ان منصوبوں میں پشاور کا حیات آباد، پشاور رنگ روڈ، مردان میں شیخ ملتون سٹی، سوات مینگورہ میں کانجو ٹاؤن سٹی، کوہاٹ میں کے ڈی اے ٹاؤن شپ اور بنوں ٹاؤن شپ جیسے بڑے پروجیکٹس شامل تھے۔ ان منصوبوں کا مقصد پرانی آبادیوں کے دباؤ کو کم کرنا اور شہریوں کو جدید سہولتوں سے آراستہ رہائش فراہم کرنا تھا۔ قمر عباس نے ان تمام شہروں کو اسلام آباد کی طرز پر ڈیزائن کروایا تاکہ عوام کو بہتر معیارِ زندگی میسر ہو۔ آج بھی یہ علاقے اُن کی محنت، وژن اور دل سے کیے گئے کام کی گواہی دیتے ہیں۔
قمر عباس کے دور سے پہلے پشاور اگرچہ پاکستان کے نقشے میں شامل تھا، مگر عملی طور پر پنجاب کی سرحد پار کرنا نہایت مشکل تھا۔ اٹک پل پر بسوں اور گاڑیوں کو روک کر ہر مسافر کو سواری سے اتار کر سخت اور طویل تلاشی لی جاتی، جو اکثر گھنٹوں پر محیط ہوتی۔ اس عمل کا مقصد سیکیورٹی کم اور مسافروں کو بلیک میل کر کے پیسے بٹورنا زیادہ ہوتا تھا، یہاں تک کہ غریب آدمی پشاور سے خریدی ہوئی معمولی چیز بھی ساتھ نہیں لے جا سکتا تھا۔قمر عباس نے اس ظلم کو بے نقاب کرنے کے لیے ایک دن میڈیا کے دوستوں کو ساتھ لیا اور پشاور کے حاجی کیمپ اڈے سے ایک عام بس میں روانہ ہوئے۔ مسافروں کو یہ علم نہ تھا کہ اس بس میں وزیر بھی موجود ہیں۔ جب بس اٹک پل پر پہنچی تو کسٹم اہلکاروں نے حسبِ معمول جامع تلاشی شروع کر دی۔ مگر جیسے ہی انہیں اندازہ ہوا کہ بس میں وزیر اور میڈیا موجود ہے، تو ایک عجیب منظر سامنے آیا: کئی اہلکاروں نے فوراً اپنی وردیاں اتار دیں، اور یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ چیک پوسٹ پر عام دکاندار اور ریڑھی بان وردی پہن کر مسافروں کو لوٹنے کا دھندا کر رہے تھے۔قمر عباس کے اس اسٹنگ آپریشن کے بعد کئی لوگ دریائے كابل میں چھلانگ لگا کر فرار ہوئے، اور اگلے دن اخبارات میں یہ خبر شہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہوئی۔ بالآخر قمر عباس نے اسمبلی سے بل پاس کروا کر اس بلیک میلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ کیا، جس سے خیبر پختونخوا کے عوام کو پنجاب میں داخل ہونے کے دوران برسوں سے جاری ذلت اور مشکلات سے نجات ملی۔
سید قمر عباس کی سیاسی وابستگی اور سماجی خدمات ایک ہمہ جہت اور منفرد شخصیت کی آئینہ دار ہیں۔ وہ دو برس تک بیگم نصرت بھٹو کے پرائیویٹ سیکریٹری رہے، جس سے ان پر پارٹی قیادت کا بھرپور اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔ سیاست کے ساتھ ساتھ وہ سماجی و فکری اداروں سے بھی گہری وابستگی رکھتے تھے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، گندھارا ہندکو بورڈ، گورنمنٹ کونسل اسلام آباد ٹینس کلب اور فیڈرل کونسل پیپلز پارٹی کے رکن رہے۔ علمی و ادبی میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں رہیں؛ وہ قائداعظم کالج آف کامرس، پشاور یونیورسٹی کے صدر رہے، ہندکو زبان کے پہلے ماہنامے اور ماہنامہ کہکشاں پشاور کے مدیر رہے، پیپلز میڈیا فاؤنڈیشن اسلام آباد کے نائب چیئرمین اور پاکستان ریسلنگ ایسوسی ایشن صوبہ سرحد کے صدر بھی رہے۔ بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ احتجاج کے دوران ایک واقعہ میں جب لاٹھی چارج ہوا تو ایک بینک کے سکیورٹی گارڈ کمال حسین نے بیگم صاحبہ کو بچانے کے لیے اپنا ہاتھ ان کے سر پر رکھ دیا، جس پر بیگم صاحبہ نے متاثر ہو کر انہیں قمر عباس کے حوالے کر دیا اور یوں وہ طویل عرصے تک ان کے ذاتی محافظ رہے۔
قمر عباس کی حیثیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ انہوں نے بے نظیر بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کے درمیان معاملات کو سلجھانے کی ایک سنجیدہ کوشش میں اہم کردار ادا کیا، اگرچہ تقدیر کو یہ منظور نہ تھا کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوتے۔ یوں سیاست، سماجی خدمت، انسانی حقوق اور ادبی و ثقافتی سرگرمیوں میں ان کی ہمہ گیر وابستگی نے انہیں ایک منفرد، فعال اور عوامی خدمت کے لیے وقف رہنما کے طور پر منوایا۔
سید قمر عباس ابتدا ہی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے صفِ اول کے رہنماؤں کے قریب شمار ہوتے تھے اور جنرل نصیر اللہ بابر کے ساتھ اُن کے خصوصی تعلقات اُن کی سیاسی اہمیت کا مظہر تھے۔ بیگم نصرت بھٹو کے پرائیویٹ سیکریٹری کی حیثیت سے اُن پر پارٹی قیادت کا بھرپور اعتماد تھا، جس نے انہیں اعلیٰ قیادت کے حلقۂ احباب میں شامل کر دیا۔ وہ پیپلز پارٹی کے بڑے رہنماؤں کے ساتھ قریبی روابط رکھتے رہے، جن میں بیگم نصرت بھٹو، بینظیر بھٹو، مخدوم امین فہیم، یوسف رضا گیلانی، جہانگیر بدر، آفتاب شعبان میرانی، راجہ پرویز اشرف، غلام مصطفی جتوئی، عبدالحفیظ پیرزادہ، ڈاکٹر مبشر حسن اور دیگر نظریاتی و تنظیمی ستون شامل تھے۔ ان تعلقات نے نہ صرف اُنہیں قومی سطح پر ایک معتبر اور قابلِ اعتماد شخصیت کے طور پر پہچان دلائی بلکہ پارٹی کے اندرونی فیصلوں اور تنظیمی ڈھانچے میں بھی اُن کی رائے کو اہمیت دی گئی۔ قمر عباس کی سیاسی وابستگی، عوامی خدمت اور اعلیٰ قیادت کے ساتھ قریبی تعلقات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ محض صوبائی سیاست تک محدود نہیں تھے بلکہ قومی سطح پر بھی ایک ہمہ جہت اور مؤثر رہنما کے طور پر سامنے آئے، جن کی موجودگی نے پیپلز پارٹی کے تنظیمی اور عوامی جدوجہد کو مزید تقویت بخشی۔
بھٹو شہید کی شہادت کے بعد سید قمر عباس کو ضیاء الحق کے سیاہ دور میں بدترین تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ الذوالفقار طیارہ اغوا کیس میں انہیں گرفتار کیا گیا، اور چونکہ وہ دو برس تک محترمہ نصرت بھٹو کے پرائیویٹ سیکرٹری رہ چکے تھے، جنرل فضلِ حق نے کوشش کی کہ وہ بیگم صاحبہ کو اس سازش میں ملوث کرنے کے لیے جھوٹی شہادت دیں۔ یہ ان کی زندگی کا سخت ترین دور تھا، جب انہیں شاہی قلعہ لاہور سے لے کر قلعہ بالا حصار پشاور تک مختلف عقوبت خانوں میں منتقل کیا گیا۔ اس دوران ان کے ناخن نوچے گئے، گردن کے مہرے متاثر ہوئے، حتیٰ کہ بی بی سی نے ان کی موت کی خبر بھی نشر کر دی۔ آزادی اور جمہوریت کی جدوجہد میں انہوں نے تقریباً ساڑھے آٹھ برس مختلف مواقع پر جیل میں گزارے اور مارشل لا کے دوران قلعہ بالا حصار میں ناقابلِ بیان جبر برداشت کیا، یہاں تک کہ اسپتالوں کو بھی ان کا علاج کرنے سے روک دیا گیا۔ مگر اللہ نے انہیں زندگی عطا کی اور اپنے نظریے پر قائم رہنے کا حوصلہ دیا۔ سیاست، عوامی خدمت اور انسانی حقوق کی جدوجہد ان کی زندگی میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں، جو انہیں ایک ہمہ جہت اور منفرد رہنما بناتی ہیں۔ والدِ محترم فارغ بخاری کی وفات 13 اپریل 1997 کو ہوئی تو قمر عباس جیل میں تھے، اس لیے انہیں اسپیشل پیرول پر بکتر بند گاڑی کے ذریعے جنازے میں شرکت کے لیے لایا گیا۔ یہ منظر نہ صرف ان کی زندگی کے کٹھن حالات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ان کے عزم اور جدوجہد کی شدت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
سید قمر عباس ایک انقلابی سوچ رکھنے والے نوجوان تھے جن کے موضوعات میں طبقاتی جدوجہد اور عوامی خدمت نمایاں رہی۔ وہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس کمیشن کے سرگرم رکن رہے اور سماجی خدمت کو عملی مشن بنایا۔ 2005ء کے زلزلے میں جب پارٹی کی جانب سے ہزارہ گئے تو باقی لوگ جلد واپس آگئے، مگر وہ پچیس دن تک متاثرین کے ساتھ رہے، بیماری کے باوجود پشاور سے مسلسل رابطے میں رہ کر ادویات اور عطیات پہنچاتے رہے۔ بنیادی طور پر وہ ایک سوشل ورکر تھے اور جس تنظیم کی کارکردگی سے متاثر ہوتے، اس کے ساتھ کارکن کی حیثیت سے کام کرنے پر آمادہ رہتے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں حبیب جالب ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ادبی و سماجی میدان میں بھی وہ سرگرم رہے؛ ہندکو زبان کے پہلے ماہنامے اور ماہنامہ کہکشاں پشاور کے مدیر رہے، پاکستان ریسلنگ ایسوسی ایشن (صوبہ سرحد) کے صدر اور پیپلز میڈیا فاؤنڈیشن اسلام آباد کے وائس چیئرمین بھی رہے۔ ان کی یہ ہمہ جہت وابستگیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ نہ صرف سیاست بلکہ سماجی، ادبی اور ثقافتی میدانوں میں بھی فعال اور مؤثر کردار ادا کرتے رہے، اور اپنی شخصیت کو ایک منفرد، عوامی خدمت کے لیے وقف رہنما کے طور پر منوایا۔
ایک بار سید قمر عباس کے گھر پر ادبی دوستوں کی ایک طویل اور خوشگوار محفل سجی۔ محفل کے بعد جب مہمان رخصت ہونے لگے تو ایک دوست کی گاڑی نے اچانک اسٹارٹ ہونے سے انکار کر دیا۔ سب نے کافی دیر تک کوشش کی مگر گاڑی نہ چلی۔ اس موقع پر قمر عباس، جو اس وقت وزیر تھے، نے ہنستے ہوئے خود کو طنزیہ انداز میں کہا کہ "وزیروں کو بھی کبھی کبھی دھکا لگانا پڑتا ہے!” پھر وہ اپنے باڈی گارڈ کے ساتھ مل کر گاڑی کو دھکا دینے لگے۔ یہ منظر نہ صرف حاضرین کے لیے تفنن کا باعث بنا بلکہ قمر عباس کی سادگی اور بے تکلفی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ وزارت اور منصب اپنی جگہ، مگر ان کی شخصیت میں عاجزی اور دوستانہ رویہ غالب تھا، جو انہیں ایک منفرد اور یادگار انسان بناتا تھا۔
وزیر جیل سید قمر عباس جب چترال کے دورے پر گئے تو پی آئی اے کی فوکر فلائٹ سے اترنے کے بعد حیران رہ گئے کہ ایئرپورٹ پر لینے کوئی نہیں آیا۔ خود ہی گاڑی کا بندوبست کیا اور جیل پہنچے تو جیلر کو بلوایا۔ ذہن میں بڑے شہروں کے جیلروں کا رعب و دبدبہ تھا، مگر یہاں جیلر عام شلوار قمیض میں کریانے کی دکان چلا رہا تھا۔ مزید کمال یہ کہ جیل میں صرف دو قیدی تھے، اور وہ بھی موجود نہیں تھے ایک کھیتوں کو پانی دینے گیا تھا اور دوسرا اپنی والدہ کو اسپتال لے گیا تھا۔ جیلر نے بڑے سکون سے کہا: "فکر نہ کریں، شام تک واپس آ جائیں گے۔” یہ منظر دیکھ کر قمر عباس ہنس بھی پڑے اور حیران بھی ہوئے کہ جیل قیدیوں سے زیادہ ایک کھلی دکان کی طرح چل رہی تھی۔
سن 1997ء کے عام انتخابات کے دوران پشاور کے تاریخی حلقہ این اے ون سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سرفراز خان مومند کی اچانک وفات کے باعث پولنگ ملتوی کر دی گئی۔ بعد ازاں ضمنی انتخاب میں پارٹی نے سید قمر عباس کو ٹکٹ دیا، جہاں ان کا مقابلہ عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی غلام احمد بلور سے ہوا۔ انتخابی دن ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں غلام احمد بلور کے صاحبزادے شبیر بلور، انجینئر محمد خان اور علاقہ ایس ایچ او فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے جبکہ سید قمر عباس اپنے بھانجے اسد علی ممتاز عروف بلو کے ہمراہ شدید زخمی ہوئے۔ اس واقعے میں دو طرفہ ایف آئی آر درج ہوئیں اور قمر عباس ڈھائی سال تک جیل میں رہے، تاہم عدالت نے بعد ازاں انہیں باعزت بری کر دیا۔ اس کے باوجود صلح کی کوششیں ناکام رہیں اور وہ مسلسل حملوں اور دھمکیوں کا نشانہ بنتے رہے۔
قمر عباس، 6 مئی 2007 کو پشاور میں اپنے ساتھی اخونزادہ محمد علی کے ہمراہ موٹر سائیکل پر ایک شادی کی تقریب سے واپس آرہے تھے کہ ہشت نگری میں فقیرا آباد پل كے نیچے نامعلوم قاتلوں نے ان پر فائرنگ کر دی۔ دونوں شدید زخمی حالت میں لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیے گئے، مگر زخموں کی تاب نہ لا سکے اور شہادت پا گئے۔ اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ اخونزادہ محمد علی، تحریکِ جعفریہ پاکستان کے رہنما اخونزادہ انور علی کے فرزند تھے، جو چار برس قبل ایک حملے میں شہید ہو گئے تھے، اور قمر عباس کے برادرِ نسبتی بھی تھے۔ یہ سانحہ نہ صرف ان کے خاندان بلکہ سیاسی، ادبی اور سماجی حلقوں کے لیے بھی گہرے صدمے کا باعث بنا، جس پر پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے لاشیں جی ٹی روڈ پر رکھ کر احتجاج کیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ قربانیوں اور شہادتوں سے بھری پڑی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل، محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت، اور بے شمار کارکنان کی قربانیاں اس جدوجہد کو زندہ رکھتی ہیں۔ سید قمر عباس کی شہادت اسی روایت کی ایک کڑی ہے، جو یہ پیغام دیتی ہے کہ ظلم کے اندھیروں میں بھی قربانی کی روشنی کبھی بجھ نہیں سکتی۔ ان کی زندگی اور شہادت آج بھی عوامی جدوجہد، ادبی ورثے اور سیاسی قربانی کی روشن علامت سمجھی جاتی ہے، اور ہر سال ان کی برسی پر کارکنان اور رہنما انہیں یاد کرتے ہیں۔
سید قمر عباس ایک شہید لیڈر کی یاد میں اہم شخصیات کے تاثرات
بینظیر بھٹو
عباس کی سیاسی وابستگی اور غریبوں کی خدمت کو سراہا۔ انہوں نے کارکنوں کو تلقین کی کہ وہ ان کے اصولوں پر عمل کریں اور آمریت کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں۔
بلاول بھٹو زرداری
قمر عباس کی قربانی پارٹی کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گی اور کارکنوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور یاد دلایا کہ ایسے رہنما پارٹی کی بنیاد مضبوط کرتے ہیں۔
آصف علی زرداری
انہیں بینظیر بھٹو کا "سپاہی” اور "بھائی” قرار دیا، جو جمہوریت کے لیے لڑتے رہے۔ زرداری نے کہا کہ وہ آئین کی بالادستی کے لیے ایک قیمتی اثاثہ تھے جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
آفتاب احمد خان شیرپاؤ
قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صوبے میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کا عکاس ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
چوہدری منظور
عباس کو دیانتدار اور پرعزم سیاستدان قرار دیا۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ قاتلوں کو انتخابات میں سیاسی شکست دیں۔
ناہید خان
کہا کہ عباس کی قربانی پارٹی میں نئی توانائی پیدا کرے گی۔ ان کی موت سے پارٹی میں خلا پیدا ہوا ہے لیکن ان کی یاد کارکنوں کو حوصلہ دے گی۔
سید طاہر عباس
بھائی کی یاد میں تقریبات میں شریک ہوئے اور قتل کیس میں مدعی رہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی جدوجہد جاری رکھیں گے تاکہ شہید کی قربانی رائیگاں نہ جائے۔
قمر عباس کی شہادت کے بعد خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی کو زوال کا سامنا کرنا پڑا۔ اُن کے جانے سے پارٹی اپنی سابقہ آب و تاب اور عوامی مقبولیت برقرار نہ رکھ سکی، کیونکہ قمر عباس نہ صرف ایک فعال رہنما تھے بلکہ عوامی خدمت اور جدوجہد کی علامت بھی تھے۔ اُن کی شخصیت اور کردار نے پارٹی کو جس قوت اور وقار کے ساتھ آگے بڑھایا تھا، وہ خلا آج بھی شدت سے محسوس کیا جاتا ہے۔
شہید سید قمر عباس بخاری کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم، ادب اور سیاست اگر خدمتِ انسانیت کے لیے یکجا ہو جائیں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی ممکن ہے۔ ان کی شہادت ایک عظیم نقصان تھی، مگر ان کا علمی، ادبی اور سیاسی ورثہ آج بھی زندہ ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ وہ اپنے والد سید فارغ بخاری کی علمی روایت کے وارث تھے اور اپنی تحریروں، کالم نگاری اور سماجی جدوجہد کے ذریعے اس روایت کو آگے بڑھایا۔ ان کی سادہ، باوقار اور خلوص بھری زندگی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اصل عظمت انسان کے کردار اور خدمتِ خلق میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
یہ واقعہ قمر عباس نے اپنے ایک دوست کو سنایا۔
شہادت سے کچھ عرصہ قبل سید قمر عباس عمرہ کے لیے گئے، جہاں اُن کے ہمراہ پروفیسر عبدالرؤف بھی تھے۔ قمر عباس نے پروفیسر عبدالرؤف کے کندھے پر چڑھ کر خانہ کعبہ کے دروازے کو پکڑ کر دعا کرنے کی خواہش ظاہر کی، جسے پروفیسر صاحب نے پورا کیا۔
بعد ازاں جب پروفیسر نے اُن سے دریافت کیا کہ ایسی کون سی دعا ہے جس کے لیے آپ کعبہ کے دروازے کو پکڑ کر دعا کرنا چاہتے ہیں،
تو سید قمر عباس نے جواب دیا کہ میں نے شہادت کی دعا کی ہے۔
آج محسوس ہوتا ہے کہ ربِ کریم نے اُن کی یہ دعا قبول کر لی۔