میں قارئین کے ساتھ ایک اہم کتاب کا خلاصہ پیش کرتا ہوں تو سب سے پہلے ایک سادہ مشاہدے سے آغاز کرنا چاہتا ہوں۔ تاریخ میں بعض خیالات ایسے سامنے آئے ہیں جو ہمارے ذہنی سکون کو ہلا دیتے ہیں اور ہمیں وہ چیزیں دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں جنہیں ہم طویل عرصے سے سچ مانتے آئے ہیں۔ کچھ کتابیں صرف معلومات فراہم نہیں کرتیں بلکہ ہمارے فہم کی بنیادیں ہلا دیتی ہیں۔ وہ ہمارے ذہنوں کو جھنجھوڑتی ہیں اور ہمیں معمول کے تصورات کو بالکل نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہیں۔
ایسی ہی ایک اہم کتاب ہے Political Theology، جسے جرمن سیاسی مفکر Carl Schmitt نے تحریر کیا۔ اس مختصر مگر اثر انگیز کتاب میں شمیٹ نے ایک حیران کن دلیل پیش کی: جدید سیاست کے وہ تصورات جو مکمل طور پر سیکولر لگتے ہیں، دراصل پرانے مذہبی خیالات کے تبدیل شدہ روپ ہیں۔ اس فکری ورثے کو سمجھ کر ہم مذہب اور جدید سیاسی فکر کے درمیان چھپی ہوئی گہری تعلق کو دیکھ سکتے ہیں۔
یہ کتاب پہلی بار 1922 میں جرمنی میں شائع ہوئی، اور اس وقت یورپ ایک بے حد غیر مستحکم مرحلے سے گزر رہا تھا۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنتیں ٹوٹ چکی تھیں اور نئے سیاسی نظام اپنی شناخت بنانے کی جدوجہد میں تھے۔ اس غیر یقینی ماحول میں شمیٹ نے ایک متنازعہ نظریہ پیش کیا: جدید سیاسی تصورات بالکل نئے نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تھیولوجیکل فکری ڈھانچوں سے نکلے ہیں۔
شمیٹ کا مشہور جملہ اس بحث کا خلاصہ پیش کرتا ہے:
"جدید ریاست کے تمام اہم تصورات سیکولر شدہ تھیولوجیکل تصورات ہیں۔”
یہ خیال شروع میں حیران کن لگ سکتا ہے، کیونکہ جدید سیاسی فکر خود کو مذہبی اثرات سے آزاد قرار دیتی ہے۔ مگر شمیٹ ہمیں غور کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ مذہب اگرچہ ظاہری زبان سے غائب ہو گیا ہے، مگر اس کے فکری ڈھانچے کی جڑیں آج بھی سیاسی تصورات میں موجود ہیں۔
سب سے واضح مثال شمیٹ نے حاکمیت (Sovereignty) کی دی ہے۔ روایتی مذہبی تصور میں خدا کائنات کا سب سے اعلیٰ اختیار رکھتا ہے۔ خدا سب قوانین سے بالاتر ہے اور کسی بھی وقت دنیا میں مداخلت کر سکتا ہے۔ معجزات اس بات کی مثال ہیں کہ خدا معمول کے قوانین کو وقتی طور پر معطل کر دیتا ہے۔
جدید سیاسی نظریہ میں، شمیٹ کے مطابق حاکم (Sovereign) اسی طرح کی پوزیشن رکھتا ہے۔ حاکم چاہے بادشاہ ہو، پارلیمنٹ ہو یا ریاست خود انتہائی اختیارات رکھتا ہے اور بحران کے وقت فیصلے کر سکتا ہے۔ شمیٹ نے کہا:
"حاکم وہ ہے جو استثناء پر فیصلہ کرتا ہے۔”
یہ "استثناء” ایسے غیر معمولی حالات ہیں جب معمول کے قوانین کام نہیں کر سکتے، جیسے جنگ یا انقلاب۔ ایسے وقت میں حاکم قوانین کو مؤقت طور پر معطل کر کے ریاست کو محفوظ رکھتا ہے۔
مذہبی تصور کے ساتھ اس کی مماثلت واضح ہے: جیسے خدا معجزے کے ذریعے مداخلت کرتا ہے، ویسے حاکم قوانین کے ڈھانچے میں مداخلت کرتا ہے۔
اسی طرح شمیٹ نے تاریخ کے رخ پر بھی غور کیا۔ مذہبی روایات میں تاریخ کو ایک بامعنی سفر کے طور پر دیکھا جاتا ہے جسے خدائی تقدیر چلاتی ہے۔ جدید سیاسی نظریات بھی ایسا ہی کچھ پیش کرتے ہیں، مگر سیکولر زبان میں۔ مثال کے طور پر، Georg Wilhelm Friedrich Hegel نے تاریخ کو ایک عقلی عمل قرار دیا جو آزادی کے حصول کی طرف بڑھتا ہے، اور Karl Marx نے تاریخ کو ایک لازمی عمل قرار دیا جو بالآخر طبقاتی مساوات تک پہنچے گا۔
اگرچہ یہ نظریات مذہبی نہیں ہیں، لیکن ان کی ساخت مذہبی کہانیوں سے مشابہت رکھتی ہے۔ تاریخ ایک حتمی منزل کی طرف بڑھتی ہے جہاں تضادات حل اور انصاف قائم ہوتا ہے۔ اس طرح خدائی تقدیر کا تصور تاریخی ترقی کے سیکولر خیال میں بدل جاتا ہے۔
اسی طرح نجات یا آزادی کے تصورات میں بھی مماثلت ہے۔ مذہب انسان کو گناہ یا مصائب سے نجات کا وعدہ دیتا ہے۔ جدید سیاسی تحریکیں بھی اسی طرح نجات کا وعدہ کرتی ہیں، مگر سیاسی زبان میں۔ قومی تحریکیں آزادی کا وعدہ کرتی ہیں، انقلابی تحریکیں استحصال سے نجات کا وعدہ، اور جمہوری تحریکیں حقوق و انصاف کے ذریعے آزادی کا وعدہ کرتی ہیں۔ یہ وعدے اسی طرح اخلاقی اور جذباتی اثر رکھتے ہیں جیسے مذہبی امید۔
Frantz Fanon کی تحریریں اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ نوآبادیاتی ظلم کے خلاف جدوجہد صرف سیاسی عمل نہیں بلکہ انسانی وقار اور شناخت کی بحالی کا عمل بھی ہے۔ آزادی کو تقریباً ایک نئی پیدائش کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی سیاسی کہانی مذہبی نجات کی کہانی سے مشابہت رکھتی ہے۔
یہ کہنا کہ جدید سیاسی تصورات مذہبی جڑوں سے آئے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ سیاست کو مذہب کی ضرورت ہے۔ شمیٹ کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ جدید سیاسی سوچ کسی خلا سے پیدا نہیں ہوئی بلکہ ایک تاریخی اور فکری تسلسل کا نتیجہ ہے۔ جب مذہبی اختیارات سیاسی زندگی سے کمزور ہوئے، تو ان کے ڈھانچے نئے اداروں جیسے ریاست یا آئین میں منتقل ہو گئے۔
یہ حقیقت ہمیں جدید سیاسی زبان کی گہرائی سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ سیاسی طاقت، چاہے جتنی بھی سیکولر کیوں نہ ہو، بعض اوقات وہی ساخت اختیار کر لیتی ہے جو مذہب نے دی تھی۔ اس لیے شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ سیاسی اختیارات پر تنقید اور نگرانی جاری رکھیں تاکہ وہ کسی بھی صورت میں غیر قابل تنقید یا مقدس نہ بن جائیں۔
آخر میں، Political Theology ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مذہب اور سیاست کے درمیان فرق ہمیشہ واضح نہیں ہوتا۔ تصورات اور خیالات ایک دائرے سے دوسرے دائرے میں منتقل ہوتے ہیں، زبان بدل جاتی ہے لیکن بنیادی ساخت برقرار رہتی ہے۔ یہ کتاب آج بھی قارئین کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آیا ہمارے سیاسی نظام واقعی عقلی اور سیکولر ہیں، یا پھر وہ کسی نئی شکل میں مذہبی ایمان کی طرح کام کر رہے ہیں.