بیگمات کے چٹکلے

آج صبح سویرے چلاس نکلنا تھا۔ ابھی نیند کی خمار بھی پوری طرح ٹوٹی نہ تھی کہ گھریلو سفارتی سرگرمیاں شروع ہوگئیں۔ ایک بیگم نے بڑے سلیقے سے چائے پیش کی اور دوسری نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ پانی کا گلاس تھما دیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے میں کوئی چیف گیسٹ ہوں اور یہ دونوں اپنے اپنے "محکمے” سنبھالے بیٹھی ہوں۔

پھر دونوں ہمیں ناشتہ کرتے دیکھنے کے لیے سامنے آکر بیٹھ گئیں، جیسے کسی اہم اجلاس کی کارروائی جاری ہو اور میں اس کا مرکزی کردار ہوں یعنی صدر محفل۔

میں نے ماحول کو ذرا مزید "دلچسپ” بنانے کے لیے عرض کیا،

"ذرا دونوں قریب آکر بیٹھیں، ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف… تاکہ توازن برقرار رہے!”….

وہ قریب آئیں تو میں نے ہلکی سی شرارت کے ساتھ کہا،
"یہ سوشل میڈیا کا دور ہے، اگر میں مولوی نہ ہوتا تو اس منظر کی ویڈیو بنا کر وائرل کر دیتا، یا تصویر لے کر شئیر کر دیتا… مگر اب دل نہیں مانتا، اس لیے سوچا کہ بس اسے لکھ کر ہی لوگوں کو دو بیگمات کے مزے چکھا دوں گا!”

یہ سن کر ایک نے فوراً جملہ اچھالا….!

"اگر دو اور ہوتیں تو کیسا لگتا؟”

میں نے بھی موقع ضائع نہ کیا، عرض کیا

” اچھا تو لگتا… مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان کو کہاں بٹھاؤں؟ دونوں سائیڈز تو آپ دونوں نے پہلے ہی قبضہ کر رکھی ہیں!”

ابھی میں اپنی” منصوبہ بندی” مکمل بھی نہ کر پایا تھا کہ دوسری بیگم نے فوراً حل پیش کیا

” ایک کو سامنے بٹھا دیں اور ایک کو پیٹھ پیچھے!”

پھر خود ہی اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے بولی
” جو پیچھے بیٹھے گی وہ فوراً شکایت کرے گی کہ مجھے پیچھے کیوں بٹھایا؟”

یہ سنتے ہی محفل قہقہوں سے گونج اٹھی۔ میں نے بھی ہنستے ہنستے چائے کا آخری گھونٹ لیا اور دل ہی دل میں سوچا کہ
” گھر کی یہ چھوٹی چھوٹی محفلیں ہی اصل زندگی کا حسن ہیں……. انسان کو ایسا ہی بن کر رہنا چاہیے، باقی دنیا تو بس سنجیدگی کا بوجھ ہے بوجھ!”

یوں ہنسی مذاق کے اسی خوشگوار ماحول میں چائے ختم کی اور چلاس کے سفر پر روانہ ہوگیا……. اب جب چلاس پروفیسر ہاوس میں گپ شپ لگاتے پروفیسر محمد علی جان کو یہ چٹکلے سنا دیا ہمارا دل ہلکا ہوا، چہرہ مسکرا گیا، اور ذہن میں ایک تازہ” کالم” تیار ہوا! لیکن محمد علی جان صاحب کا ایک شادی پر آہیں بھرتے ہوئے لڑھکتا چہرا دیکھ کر ترس بھی خوب آیا!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے