پاکستان اس وقت تاریخ کے اس موڑ پر کھڑا ہے جہاں موسم اب صرف ایک موضوع گفتگو نہیں رہا بلکہ ایک قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔ 1950 میں آنے والے پہلے بڑے سیلاب سے لے کر 2026 کے موجودہ حالات تک، پانی کی لہروں نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ لیکن جو تبدیلی پچھلے چند برسوں میں آئی ہے، وہ ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ چکی ہے کبھی شدید گرمی خشک سردی بے موسم بارشوں کے تباہی مچا رکھی ہے۔
پاکستان نے 2010 کا سیلاب دیکھا جسے ‘سپر فلڈ’ کہا گیا، لیکن 2022 کے سیلاب نے ثابت کیا کہ فطرت کا غصہ ابھی باقی تھاجس نے ملک کے ایک تہائی حصے کو ڈبو دیا، 33 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے اور معیشت کو 30 ارب ڈالر سے زائد کا جھٹکا لگا۔افسوسناک بات یہ ہے کہ 2025 میں آنے والے حالیہ سیلاب نے ان زخموں کو بھرنے نہیں دیا۔ سندھ اور بلوچستان کے وہ علاقے جو ابھی 2022 کی تباہی سے سنبھل رہے تھے، ایک بار پھر پانی کی نذر ہو گئے۔ زمین کی زرخیزی شدید متاثر ہو چکی ہے کیونکہ سیلابی پانی اپنے ساتھ ریت اور مٹی لاتا ہے جو زرخیز زمین کے اوپر جم جاتی ہے، جس سے زمین کاشت کے لیے ناقابل استعمال یا بنجر ہو جاتی ہے سیلابی پانی اپنے ساتھ نمکیات کی ایسی تہہ چھوڑ جاتا ہے جو فصلوں کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ آج 2026 میں بھی لاکھوں افراد ایسے ہیں جو اپنے گھروں کو دوبارہ تعمیر نہیں کر سکے اور (Climate Refugees) کی زندگی گزار رہے ہیں۔
پاکستان میں بارشوں کا پیٹرن اب مکمل طور پر ناقابلِ پیش گوئی ہو چکا ہے۔ ماہرین اسے (Monsoon Shift) کہہ رہے ہیں۔ اب بارشیں ان علاقوں میں ہو رہی ہیں جو روایتی طور پر خشک تھے (جیسے چولستان اور تھر)، جبکہ زرخیز علاقوں میں خشک سالی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اب مہینوں کی بارش چند گھنٹوں میں برس جاتی ہے۔ یہ بادلوں کا پھٹنا شہری علاقوں میں ‘اربن فلڈنگ’ کا باعث بنتا ہے جس سے کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہر مفلوج ہو کر رہ جاتے ہیں۔ بے وقت کی بارشوں نے گندم اور کپاس کی فصلوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے ملک میں (Food Inflation) تاریخی سطح پر پہنچ چکی ہے
حالیہ جاری کردہ کلائمیٹ چینج پرفارمنس انڈیکس (CCPI) 2026 کے نتائج پاکستان کے لیے ایک ملی جلی تصویر پیش کرتے ہیں۔پاکستان نے 56.85 پوائنٹس حاصل کیے ہیں، جو ہمیں(Medium Performance) والی کیٹیگری میں رکھتا ہےپاکستان نے شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں میں تیزی دکھائی ہے، جس کی عالمی سطح پر پذیرائی ہوئی ہے۔
مگر انڈیکس واضح کرتا ہے کہ ہماری پالیسی سازی اور ان پر عمل درآمد کی رفتار ‘پیرس معاہدے’ کے اہداف (درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری تک محدود رکھنا) کے مطابق نہیں ہے۔ عالمی سطح پر ڈنمارک اور برطانیہ جیسے ممالک ریسرچ اور ٹیکنالوجی میں بہت آگے ہیں، جبکہ پاکستان اب بھی صرف (Disaster Management) تک محدود ہے۔مگر اپنے محدود وسائل میں اس آفت سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا شکار تو ہے، مگر اس کا ذمہ دار نہیں۔ تاہم، ذمہ داری نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔ CCPI 2026 کی رپورٹ ہمیں راستہ دکھا رہی ہے کہ ہمیں اپنی پالیسیوں کو ‘کاغذی کارروائی’ سے نکال کر ‘زمینی حقیقت’ بنانا ہوگا ہم اپنی کارگردگی مذید بہتر کر سکتے ہیں.
ہمیں سیلابی پانی کو محفوظ کرنے کے لیے چھوٹے ڈیمز اور جھیلوں کی تعمیرکرنے کی ضرورت ہے تاکہ جو پانی ابھی تباہی مچاتا ہے اسے ہم محفوظ کر کے استعمال میں لا سکیں۔ عالمی فورمز پر ‘کلائمیٹ جسٹس’ (Climate Justice) کا مقدمہ بھرپور طریقے سے لڑنا تاکہ بڑے کاربن خارج کرنے والے ممالک ہمیں اس نقصان کا معاوضہ فراہم کریں۔
اگر ہم نے آج قدرت کے ان اشاروں کو نہ سمجھا، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم ‘موسمیاتی تبدیلی’ کے ساتھ جینا سیکھیں اور خود کو اس کے مطابق ڈھال لیں۔