یہ ایک جملہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی سوچ کا آئینہ ہے ،ایک ایسا سوال جو بظاہر سادہ مگر اپنے اندر گہری ناانصافی سموئے ہوئے ہے۔ یہ سوال ہر اس عورت سے کیا جاتا ہے جو صبح سے رات تک ایک گھر کو سنبھالنے میں مصروف رہتی ہے، مگر اس کی محنت کو نہ کام سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی معاشی قدر تسلیم کی جاتی ہے۔
گھریلو خاتون دراصل کسی ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک پورے نظام کی بنیاد ہے۔ وہ ماں بھی ہے، بیوی بھی، بیٹی بھی اور کئی رشتوں کو نبھانے والی ایک خاموش قوت بھی۔ اس کی زندگی کا ہر دن ذمہ داریوں سے عبارت ہوتا ہے۔ صبح سویرے اٹھ کر ناشتہ تیار کرنا، بچوں کو اسکول بھیجنا، شوہر کی ضروریات کا خیال رکھنا، گھر کی صفائی، کھانا پکانا، کپڑے دھونا اور استری کرنا، بزرگوں کی دیکھ بھال، مہمان نوازی ،یہ سب اس کے روزمرہ معمولات کا حصہ ہیں۔
یہ تمام کام بظاہر معمولی نظر آتے ہیں، مگر اگر ان ہی کاموں کے لیے الگ الگ افراد کو ملازمت پر رکھا جائے تو یہ ایک مکمل ادارہ بن جاتا ہے۔ اس کے باوجود گھریلو خاتون کو نہ تنخواہ ملتی ہے، نہ چھٹی، نہ ہی اس کے کام کا کوئی اعتراف۔
ایسے میں ہم نے اکثر دیکھا کہ نک چڑھے شوہر گھر میں داخل ہوتے ہی بیوی کو طعنہ دیتے ہیں کہ آخر تم کرتی کیا ہو۔۔۔ اسی سلسلے میں فیس بک پر ایک دلچسپ ریل دیکھی ۔جس میں شوہر شام کو گھر لوٹتا ہے تو دروازے سے ہی بکھرا گھر اس کا استقبال کرتا ہے ۔بچے میلے کچیلے کپڑوں میں پھر رہے ہوتے ہیں ۔کچن کا رخ کرتا ہے تو وہاں گندے برتنوں کا انبار لگا ہوتا ہے ۔اپنے کمرے میں جاتا ہے تو بیگم آرام سے بستر پر دراز ڈائجسٹ پڑھنے میں مصروف ہوتی ہے ۔وہ پوچھتا ہے کہ آج یہ گھر کے حالات کیسے ہیں ۔اس پر وہ بڑے معصومانہ انداز میں جواب دیتی ہے کہ سر تاج آپ روزانہ کہتے تھے آخر تم کرتی کیا ہو ۔میں نے آج وہ سب کام نہیں کیے جو روزانہ کرتی ہوں۔
مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اس کی محنت کو نظر انداز کیا جاتا ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسے “کام” ہی نہیں سمجھا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب طلاق یا علیحدگی کی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو وہ عورت، جس نے اپنی زندگی کے بہترین سال ایک گھر کو دیے ہوتے ہیں، اکثر خالی ہاتھ رہ جاتی ہے۔
۔اصل میں مردوں کی نفسیات ہی کچھ ایسی ہے کہ جو کام ان کے سامنے کیا جائے وہی انہیں نظر آتا ہے۔ وہ سارا دن روزگار اور معاش کے چکروں میں الجھے رہتے ہیں ۔شام کو گھر لوٹتے ہیں تو تازہ کھانا ، استری شدہ کپڑے ،صاف ستھرا گھر ان کا استقبال کرتا ہے ۔اور روٹین میں اسے دیکھ کر وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ان سب کاموں کے پیچھے خاتون خانہ کا کتنا اہم کردار ہے ۔ہمارے گاؤں کی خواتین گرچہ ان پڑھ ہوتی ہیں لیکن مردوں کی نفسیات کو خوب سمجھتی ہیں ۔وہ سر شام گھر میں جھاڑو لگانا شروع ہو جاتی ہیں ۔چولہے چوکھے کو سنبھال لیتی ہیں ۔اور جب مرد واپس گھر میں داخل ہوتے ہیں تو انہیں وہ کام کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔لہٰذا انہیں اس سوال کا سامنا نہیں کرنا پڑتا کہ آخر تم کرتی کیا ہو ۔
ہمارے ہاں اکثر طلاق یا علیحدگی کی صورت میں خواتین چاہے گھریلو ہوں یا ملازمت پیشہ انہیں شوہر کی جائیداد میں حصہ نہیں ملتا ۔چاہے وہ اپنی زندگی کے کتنے قیمتی سال شوہر اور اس کے گھر والوں کی خدمت میں گزار لیں۔اس خدمت کی کوئی قدر نہیں ہوتی ۔معاشرہ ہو یا عدالتیں صرف حق مہر ہی کا دعویٰ تسلیم کرتے ہیں ۔سال ہا سال کی خدمت کا کچھ اجر نہیں ۔اسے خالی ہاتھ زمانے کی دست برد کے حوالے کر دیا جاتا ہے ۔اس صورتحال کا سامنا جوان خواتین سے زیادہ ادھیڑ عمر خواتین کو کرنا پڑتا ہے ۔ہمسایہ ملک نے اس حساس موضوع پر حق کے نام سے ایک زبردست فلم بنا ڈالی۔کچھ افسوس بھی ہوا کہ ہمارے فلم ساز اور ڈرامہ پروڈیوسرز گھٹیا اور لچر کہانیوں کے گرد ہی گھوم رہے ہیں ۔انہیں کبھی اس موضوع پر تخلیق کاری کا خیال کیوں نہ آیا گرچہ کہ یہ کہانیاں ہمارے معاشرے میں چاروں طرف بکھری ہیں ۔آپ شروع سے آخر تک ایک لمحہ بھی آپ اس فلم سے توجہ نہیں ہٹا سکتے۔ نہ تو اس فلم میں گلیمر ہے اور نہ 12 مصالحوں کی چاٹ ۔اس کے باوجود انتہائی دلچسپ ۔ اس کا ہر ایک مکالمہ ہر ایک منظر ہمارے معاشرے ، ہر گھر کی کہانی کا عکاس ہے ۔ایک خاتون۔۔۔
شازیہ بانو تین بچوں کی ماں ۔۔جس کا شوہر دوسری شادی کرنے کے بعد اسے طلاق دے کر۔۔ حق مہر ادا کر کےاپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو جاتا ہے۔بچوں سمیت اسے گھر سے نکال دیا جاتا ہے ۔اسے معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔وہ خاتون زیادہ تعلیم یافتہ نہیں لیکن اپنے اور اپنے بچوں کے حق کے لیے ایک طویل قانونی لڑائی لڑتی ہے ۔۔جس میں بالآخر اسے فتح ہوتی ہے ۔یہ فلم ہندوستان میں پیش آئے ایک سچے واقعے پر مبنی ہے۔۔ فلم کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تھوڑی بہت مبالغہ آرائی بھی کی گئی ہے ۔اس حساس موضوع میں شرعی قوانین کو بھی اہمیت حاصل ہے لیکن ان شرعی قوانین کی تشریح ہمارے علماء نے مردوں کے حق میں کر دی ہے اور اسلام جس نے عورتوں کو بے شمار حقوق سے نوازا ہے انہیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔شرعی احکام کو نظر انداز کر کے ایک ہی وقت میں تین طلاق کی قبیح رسم جو ہمارے معاشرے میں عام ہو گئی ہے اس پر بھی اس فلم میں بڑے مدلل طریقے سے بات کی گئی ہے ۔
تین طلاق اکٹھی دے کر ایک عورت کو اچانک اس کے تمام حقوق سے محروم کر کے گھر سے نکال دیا جاتا ہے ۔جو نہ صرف غیر انسانی بلکہ غیر اخلاقی بھی ہے۔اور یہ عمل اتنا آسان اور عام ہو گیا ہے کہ عورت ہر وقت مرد کے رحم و کرم پر ہی رہتی ہے ۔لیکن اب حالات بتدریج تبدیل ہو رہے ہیں ۔ تعلیم کی شرح میں اضافے کے اور شعور کے ساتھ خواتین کو اپنے حقوق کا ادراک ہو رہا ہے ۔اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی کے خلاف۔۔ اپنے حقوق کے لیے وہ عدالتوں میں آواز بلند کر رہی ہیں۔
گزشتہ دنوں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے نے خواتین کے لیے امید کی ایک کرن پیدا کی ہے ۔ایک تاریخی فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے قرار دیا ہے کہ بیوی—چاہے وہ گھریلو خاتون ہو یا ملازمت پیشہ—شادی کے دوران حاصل کیے گئے گھریلو اثاثوں میں کم از کم 50 فیصد حصے کی حق دار ہے۔ عدالت نے نکاح نامہ میں ترمیم کی بھی سفارش کی تاکہ ان حقوق کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا جا سکے۔جسٹس محسن اختر کیانی کی جانب سے ایک خاندانی تنازع کے مقدمے میں جاری کیے گئے 28 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں ہدایت کی گئی کہ ازدواجی جائیداد کو ایک معاشی شراکت داری کے طور پر دیکھا جائے، اور شادی کے دوران جمع ہونے والے اثاثوں کو طلاق یا علیحدگی کی صورت میں منصفانہ طور پر تقسیم کیا جائے۔
عدالت نے یہ بھی تجویز دی کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت نکاح نامہ میں ایک مخصوص خانہ شامل کیا جائے، جس کے ذریعے خواتین شادی کے وقت یہ شرط رکھ سکیں کہ شادی کے دوران حاصل ہونے والی جائیداد طلاق یا وفات کی صورت میں برابر تقسیم ہوگی۔
یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد فیصلہ ہے جو خواتین کے حقوق کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے ۔اس فیصلے سے صاف ظاہر ہوتا ہے اور عدالت بھی تسلیم کر تی ہے کہ گھریلو خاتون بھی گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کے ذریعے اہم کردار ادا کرتی ہے ۔اور اس کا صلہ اسے اپنے شوہر کی جائیداد میں کم از کم 50 فیصد حصے کی صورت میں ادا کیا جائے گا۔ یہ عورت پر کوئی احسان نہیں ۔یہ اس کا اخلاقی اور شرعی حق ہے ۔یقیناً بہت سے مرد حضرات کو یہ فیصلہ ناگوار گزرے گا ۔لیکن ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ انہی مردوں کی بہنوں، بیٹیوں ،ماؤں کو بھی ان حالات کا سامنا ایک زمانے سے کرنا پڑ رہا ہے ۔میرے نزدیک ہر مرد کو اس فیصلے کے حق میں آواز اٹھانی چاہیے ۔اسی طرح وہ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کا مستقبل بھی محفوظ کر سکیں گے ۔اور کسی بھی مرد کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ وہ جب جی چاہے تین طلاق دے کر عورت کو گھر سے نکال باہر کرے ۔اس قانون سازی کے بعد اسے یہ فیصلہ کرتے وقت ہزار بار سوچنا ہوگا ۔ جسٹس محسن اختر کیانی تحسین اور مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اپنی نوعیت کا ایک منفرد فیصلہ کر کے معاشرے میں اصلاح کی جانب بڑا قدم اٹھایا ہے ۔
یہ فیصلہ صرف خواتین کے حق میں نہیں بلکہ پورے معاشرے کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ کیونکہ جب ایک عورت کو اس کا جائز حق ملے گا تو وہ زیادہ باوقار، خودمختار اور محفوظ محسوس کرے گی—اور یہی احساس ایک مضبوط خاندان اور صحت مند معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔
ہمارے چاروں طرف جو اس وقت معاشرے میں طلاق کی شرح بے قابو ہو رہی ہےیقیناً اس طرح کی قانون سازی کے بعد اس میں بھی کمی آئے گی اور معاشرہ اصلاح کی جانب گامزن ہوگا ۔
اگر ہم ایک منصفانہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہوگا جو عورت کے کام کو نظر انداز کرتی ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ گھریلو خاتون صرف “کچھ نہیں کرتی” بلکہ وہ سب کچھ کرتی ہے جس سے ایک گھر، ایک خاندان اور ایک معاشرہ قائم رہتا ہے۔
اور شاید جب ہم یہ حقیقت سمجھ لیں گے تو “آخر تم کرتی کیا ہو؟” کا سوال خود بخود ختم ہو جائے گا۔
نوٹ۔مجھے معلوم ہے کہ اس کالم کے خلاف بہت آوازیں اٹھیں گی ۔شرعی اور قانونی جواز دیے جائیں گے ۔لیکن جب تک میرے ہاتھ میں قلم ہے انشاءاللہ خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہوں گی ۔
ناز پروین معروف کالم نگار ،دو کتابوں کی مصنفہ ،متعدد ادبی اور ثقافتی تنظیموں میں اہم عہدوں پر فائز اور پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو کی ڈائریکٹر ہیں۔