عظمی سبین کی کتاب "سلطانہ کا خواب” کی تقریب رونمائی

عظمیٰ سبین کا واٹس ایپ آیا۔ انھوں نے مجھے کتاب سلطانہ کا خواب کی رونمائی کا دعوت نامہ بھیجا تھا۔ میں بہت مصروف تھا مگر عظمیٰ نے بلایا تھا تو وقت نکالا اور گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کلفٹن جا پہنچا جہاں کتاب سلطانہ کا خواب کی تقریب رونمائی تھی۔کانفرنس ہال میں عظمیٰ سے ملاقات ہوئی اور ہم نے اپنی نشست سنبھال لی۔ اس تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ اس تقریب کے مہمان خصوصی ارشد محمود صاحب تھے۔ جنھوں نے پی ٹی وی کے ڈرامے آنگن ٹیڑھا میں چوہدری صاحب کا کردار اس خوب صورتی سے نبھایا تھا کہ ہمیں وہ کردار آج بھی یاد ہے۔ ارشد محمود صاحب ناپا( نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ) میں بحیثیت استاد پڑھاتے رہے ہیں۔ آج کل بھی ڈراموں میں خوب اداکاری کر رہے ہیں۔ میوزیشن تو وہ ہیں ہی کمال کے ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ارشد محمود صاحب کی شخصیت ایسی ہے کہ لوگ ان کی طرف کھنچتے چلے جاتے ہیں۔

بقول سرور بارہ بنکوی

جن سے ملکر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں

اس تقریب کی دوسری چیف گیسٹ جانی پہچانی شخصیت ثمینہ احمد تھیں۔ جو سینئیر اور منجھی ہوئی اداکارہ ہیں۔

ہال میں بہت سلیکٹڈ لوگ تھے۔ ہم عظمیٰ سبین کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے ہمیں اس تقریب کا حصہ بنایا۔

تقریب تقریبا 5 بجکر 20 منٹ پر شروع ہوئی۔ نظامت کے فرائض ناپا کی استاد زرقا ناز نے انجام دیے۔ اس موقع پر گوئٹے انسٹی ٹیوٹ کی لائبریری انچارج انیلا اقبال نے استقبالیہ پیش کیا اور تقریب کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

میں بے شمار ادبی تقریبات میں شریک ہوچکا ہوں۔ وہاں جو وقت دیا جاتا ہے اس کے تقریبا 4 گھنٹے بعد تقریب شروع ہوتی ہے۔ پھر جو صاحب نظامت کرتے ہیں وہ مائک چھوڑنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے ۔ان کا بس چلے تو صدارتی خطبہ بھی وہی سنادیں عموماً تقریبات میں صاحب کتاب پر کم از کم 25 لوگ تبصرہ کرتے ہیں۔ اگر کوئی افسانے کی کتاب ہو تو مبصرین افسانہ نگار کے ہر افسانے کو پریم چند, بیدی, منٹو یا کرشن چندر کے مقابلے میں لا کھڑا کریتے ہیں اور اگر شاعری کی کتاب ہو تو مبصرین شاعر کو فیض, ناصر, جوش یا فراق سے کم ماننے پر رضامند نہیں ہوتے۔ تبصرہ کرنے والے حضرات صاحب کتاب کی ایسی ایسی ادبی اور ذاتی خوبیاں بیان کرتے ہیں کہ صاحب کتاب خود حیران ہو جاتا ہے۔

پھر تحفے تحائف کا سلسلہ چل پڑتا ہے ۔کسی سیاسی آدمی کو زبردستی پکڑ لیا جاتا ہے اور وہ بیچارہ الٹی سیدھی گفتگو کرتا ہے اور جان بچا کر نکل جاتا ہے۔ لیکن تقریب کا خرچہ پورا ہوجاتا ہے۔

ریفریشمنٹ کے نام پر ان لوگوں سے چندہ لیا جاتا ہے۔ جو اسٹیج پر آکر شاعر و ادیب کو ہار پہناتے ہیں اور ایک تصویر کھنچواکر خوش ہو جاتے ہیں۔ ریفریشمنٹ کے وقت لوگ بھوک سے بے حال ہوکر اس طرح ٹوٹتے ہیں کہ جیسے شاید یہ کہ ان کا آخری ریفریشمنٹ ہو۔ تقریب دس بجے کے بجائے رات کے 1 بجے ختم ہوتی ہے مگر اس طرح کی کوئی خرافات عظمیٰ سبین کی تقریب میں دیکھنے کو نہیں ملیں۔ پروگرام وقت پر شروع ہوا لوگوں کی تعداد جیسا کہ میں نے بتائی محدود تھی۔ پروگرام ایک ڈیڑھ گھنٹے میں ختم بھی ہوگیا۔ اس کے بعد تحفے تحائف کا سلسلہ شروع ہوا۔ سیلفیاں لی گئیں اور پھر ریفریشمنٹ ہوا۔

اس طرح کی تقریبات تو روز بھی ہوسکتی ہیں۔ وقت کی قدر کی جائے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوسکتا لیکن اس کے لیے پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے۔صرف ڈگری یافتہ ہونا ضروری نہیں۔

کتاب "سلطانہ کا خواب” بنگلہ دیشی رائٹر رقیہ سخاوت حسین کی کتاب ہے۔ جس کا ترجمہ عظمیٰ سبین نے انگریزی سے اردو میں کیا ہے۔ عظمیٰ سبین کا شمار کراچی کی ان لڑکیوں میں ہوتا ہے جو نئے آنے والوں کے لیے رول ماڈل ہیں۔ عظمیٰ نے ناپا سے تعلیم حاصل کی ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ ناپا سے اداکاری میں ڈپلومہ حاصل کرنے والے پہلے بیج کی گریجوئیٹ ہیں۔ ضیاء محی الدین, راحت کاظمی ڈاکٹر انور سجاد, خالد احمد اور ارشد محمود جیسے لیجنڈ اساتذہ سے تھیٹر کی پڑھائی کی۔ انگریزی میں ماسٹر کیا۔بچوں کے لیے بھی تھیٹر کرتی ہیں۔فنون لطیفہ کے کئی شعبوں سے تعلق ہے اور اب خیر سے ایک کتاب کا ترجمہ بھی کرچکی ہیں۔

کتاب سلطانہ کا خواب پر بات کرتے ہوئے ثمینہ احمد نے کہا کہ یہ کتاب سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ مرد کی حکومت جو صدیوں سے جاری ہے اگر اس کا الٹ ہو جائے اور عورت حکمران بن جائے تو کیا ہوگا۔

ارشد محمود صاحب نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ رقیہ سخاوت حسین بڑی ذہین خاتون تھیں۔ بنگالی لٹریچر بہت بھرپور اور مضبوط ہے۔ جس زمانے میں ہم گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتے تھے تو اس وقت بہت سے بنگالی ہمارے دوست تھے۔ رقیہ سخاوت حسین پروگریسو تحریک کی سرگرم رکن تھیں۔عظمی سبین نے انگریزی سے اردو میں بہت اچھا ترجمہ کیا ہے۔ ترجمہ کرنا بہت مشکل کام ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کتاب میں عظمیٰ نے اردو محاورں کا خاص خیال رکھا ہے۔ عظمیٰ ناپا میں میری شاگرد بھی رہی ہیں۔ راحت کاظمی ان کو بہت سی کتابیں پڑھنے کے لیے کہتے اور عظمیٰ میں یہ خوبی تھی کہ وہ کتابیں پڑھتی تھیں اور آج بحیثیت استاد مجھے فخر ہے کہ انہوں نے سلطانہ کا خواب کا ترجمہ کیا ہے اور میں انھیں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ایک مزیدار قصہ جو ارشد محمود صاحب نے سنایا وہ فرمانے لگے کہ ناپا NAPA میں ایک ظالم آدمی ہوا کرتا تھا اور وہ ڈکش پڑھاتا تھا جس کا نام ضیاء محی الدین تھا۔ وہ ڈکشن کے معاملے میں بہت حساس تھا۔میرا کمرہ ان کے قریب تھا اور انہیں جب کوئی پریشانی ہوتی تو وہ مجھے بلاتے۔ایک مرتبہ ایک صاحب نے لفظ فورا” کو فورن لکھ دیا۔ضیاء صاحب نے مجھے بلایا اور کہا کہ یہ فورا” کو فورن لکھا ہوا ہے ۔میں نے اس شخص کو بلایا اور کہا کہ( فورن) یہ کیا ہے؟ وہ کہنے لگا فورن ہے۔ میں نے کہا پاگل آدمی شکر ہے ہم نے تم سے "وقتا” و فقتا” ” نہیں لکھوادیا ورنہ تم تو مر ہی جاتے۔

یہ۔ بات تو ماننا پڑے گی کہ پی ٹی وی اور پھر ضیاء محی الدین صاحب کے زمانے میں ناپا میں جو معیاری اردو لکھی اور بولی جاتی تھی۔ اس کی مثال اب دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔ضیا صاحب جیسے ذہین لوگوں کی صحبت میں رہ کر آدمی کا بات کرنے کا طریقہ۔اس کا لب ولہجہ تبدیل ہو ہی جاتا ہے اور عظمیٰ سبین پر بھی اس کا بہت اثر ہوا ہے۔

تقریب کے آخر میں سوال جواب کا سلسلہ بھی رکھا گیا۔ عظمیٰ سبین سے سوال کیا گیا کہ نئے لوگ کس طرح سے ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں؟

عظمیٰ نے کہا کہ کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔جو لوگ ترجمہ کر رہے ہیں انہیں غور سے پڑھیں۔جب تک آپ پڑھیں گے نہیں آپ کے پاس الفاظ کا ذخیرہ نہیں ہوگا۔ناپا میں کھیل کرتے ہوئے بھی ڈاکٹر انور سجاد ہمیں دوسری زبانوں کے کھیل پڑھواتے تھے۔
اس کے علاوہ اردو زبان میں مہارت بھی ہونی چاہییے جیسا کہ ارشد صاحب ا فورن لکھنے والا واقعی سنایا ایسی اردو نہیں ہونی چاہیے۔

ایک صاحب کے سوال کے جواب میں ارشد محمود صاحب نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے کتاب سلطانہ کا خواب پڑھی ہے؟ تو وہ صاحب کہنے لگے نہیں۔ اس پر ارشد صاحب نے کہا کہ پہلے آپ کتاب پڑھیے پھر آپ کو بات سمجھ میں آئے گی۔

اسی بات سے ایک واقعہ یاد آگیا۔ جب ابن انشاء کی کتاب کی تقریب رونمائی ہوئی اور معروف شاعر بینش سلیمی نے اپنی رائے کا اظہار کیا تو وہ اسٹیج پر جاکر کہنے لگے کہ ابن انشاء کی کتاب میرے گھر پر تھی میں اس پر تبصرہ لکھ کر رہا تھا۔ میرے بچے نے کتاب کا نام دیکھا تو ہنسنے لگا اور کہنے لگا کہ ابو آپ اردو کی پہلی کتاب پڑھ رہے ہیں۔

بعد ازاں ابن انشاء اسٹیج پر آئے تو کہنے لگے کہ بینش سلیمی صاحب کے تبصرے سے اندازہ ہوگیا ہے کہ انہوں نے میری کتاب نہیں پڑھی ہے۔ عموماً لوگ یونہی تبصرہ کردیتے ہیں۔ میری کتاب کا نام اردو کی پہلی کتاب نہیں اردو کی آخری کتاب ہے۔

آپ کو راز کی بات بتاؤں کتاب ابھی تک ہم نے بھی نہیں پڑھی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے