قومی توہین

برصغیر کی تاریخ میں سندھ ہمیشہ ایک ایسی سرزمین کے طور پر پہچانا جاتا رہا ہے جہاں محبت، برداشت، ثقافتی تنوع اور صوفی روایت نے معاشرتی زندگی کو تشکیل دیا۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں شاہ لطیف بھٹائی نے انسان دوستی، مزاحمت، روحانی آزادی اور محبت کا درس دیا، جہاں سچل سرمست نے مذہبی اور سماجی تقسیم کے خلاف آواز بلند کی اور جہاں لال شہباز قلندر کی درگاہ آج بھی مختلف زبانوں، مذاہب اور طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ایک جگہ جمع کرتی ہے۔ سندھ کی شناخت ہمیشہ ایک ایسے معاشرے کی رہی ہے جہاں مکالمہ، اختلافِ رائے اور ثقافتی ہم آہنگی کو اہمیت دی جاتی تھی۔ لیکن افسوسناک طور پر حالیہ برسوں میں سندھ کے اندر ایک نیا اور تشویشناک رجحان ابھرتا دکھائی دے رہا ہے، جسے “قومی توہین” یا ثقافتی بلاسفیمی کہا جاسکتا ہے۔

یہ رجحان اس سوچ کو فروغ دے رہا ہے کہ بعض ثقافتی علامتیں، شخصیات اور روایات اس قدر مقدس ہیں کہ ان کے بارے میں کسی قسم کی غلطی، تنقید، طنز، اختلاف یا حادثاتی واقعہ بھی ناقابلِ برداشت سمجھا جائے۔ کبھی اجرک کے نام پر غصہ بھڑکایا جاتا ہے، کبھی شاہ جو رسالو کے نام پر سوشل میڈیا مہم چلتی ہے، کبھی سندھی ٹوپی کے حوالے سے ہنگامہ کھڑا ہوجاتا ہے اور کبھی موئن جو دڑو جیسے تاریخی آثار کے معاملے کو “قومی غیرت” کے نام پر ایک جذباتی جنگ بنا دیا جاتا ہے۔

حال ہی میں قائد اعظم یونیورسٹی میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد ایک مرتبہ پھر یہی صورتحال سامنے آئی۔ ایک انتظامی تنازعے کو بعض حلقوں نے اس انداز میں پیش کیا جیسے پوری سندھی ثقافت اور شناخت پر حملہ کردیا گیا ہو۔ سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا، جذباتی پوسٹس لکھی گئیں اور لوگوں کو اشتعال دلایا گیا۔ اس سے قبل بدین میں ایک واقعہ پیش آیا جہاں ایک اسسٹنٹ کمشنر نے سڑک کنارے لگے کتابوں کے اسٹال ہٹوائے۔ اس دوران کچھ کتابیں زمین پر گر گئیں جن میں شاہ جو رسالو بھی شامل تھا۔ چند لمحوں میں ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔ بغیر کسی تحقیق کے متعلقہ افسر کو “گستاخ” قرار دیا جانے لگا، اس کی برطرفی کا مطالبہ ہوا، اور بعض لوگوں نے یہاں تک کہا کہ اس پر توہین کے مقدمات قائم ہونے چاہئیں۔

یہ پہلا واقعہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے بھی کئی مواقع پر ایسے ردعمل سامنے آچکے ہیں۔ ایک ٹی وی پروگرام میں سندھی ٹوپی کو مزاحیہ انداز میں استعمال کیا گیا تو شدید احتجاج کیا گیا اور میزبانوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ ہوا۔ ایک یونیورسٹی تقریب میں اجرک کو اسٹیج کی سجاوٹ کے لیے استعمال کیا گیا، مگر جب تقریب کے بعد وہ کپڑا زمین پر پڑا نظر آیا تو بعض افراد نے اسے “سندھی ثقافت کی توہین” قرار دے دیا۔ اسی طرح کچھ سیاحوں کی موئن جو دڑو کے قریب بنائی گئی تصاویر پر بھی غصے کا اظہار کیا گیا اور انہیں “تہذیب کی بے حرمتی” کہا گیا۔

یہ تمام واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ثقافتی وابستگی آہستہ آہستہ ایک ایسی مقدس عقیدت میں تبدیل ہوتی جارہی ہے جہاں جذبات دلیل پر غالب آتے جارہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم غیر شعوری طور پر وہی رویے اپنا رہے ہیں جن پر ہم خود تنقید کرتے آئے ہیں؟ اگر کسی معاشرے میں مذہبی بنیادوں پر عدم برداشت پیدا ہو تو ہم اسے انتہاپسندی کہتے ہیں، لیکن اگر وہی عدم برداشت ثقافتی یا قوم پرستانہ شکل اختیار کرلے تو کیا وہ کم خطرناک ہوجاتی ہے؟

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی نظریے، علامت یا شخصیت کو اس حد تک مقدس بنا دیا جائے کہ اس پر سوال اٹھانا جرم سمجھا جانے لگے تو معاشرے میں خوف پیدا ہوتا ہے۔ لوگ آزادانہ رائے دینے سے گھبراتے ہیں، تنقیدی سوچ ختم ہونے لگتی ہے، اور ہجوم جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگتا ہے۔ ابتدا میں صرف سوشل میڈیا مہمات چلتی ہیں، پھر لوگوں کو غدار یا گستاخ کہا جاتا ہے، اور آخرکار تشدد کو جائز سمجھنے والے عناصر پیدا ہوجاتے ہیں۔

یہ صورتحال خاص طور پر اس لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ سوشل میڈیا نے ہجومی نفسیات کو بے حد طاقتور بنادیا ہے۔ اب کسی بھی واقعے کی مختصر ویڈیو یا تصویر کو مخصوص زاویے سے پیش کرکے چند گھنٹوں میں ہزاروں لوگوں کو مشتعل کیا جاسکتا ہے۔ لوگ مکمل حقیقت جانے بغیر ردعمل دیتے ہیں، الزامات لگاتے ہیں، اور بعض اوقات کسی فرد کی پوری زندگی کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ جذباتی نعروں کے شور میں انصاف، تحقیق اور مکالمہ پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔

اس رجحان کا ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بعض سیاسی اور قوم پرست حلقے بھی اس جذباتی ماحول کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تاریخ میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ “توہین” کے تصورات کو سیاسی مخالفین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ ذاتی تنازعات کو اجتماعی غیرت کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ اگر یہی روش ثقافتی سیاست میں بھی داخل ہوگئی تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہوسکتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ثقافتیں محبت، تخلیقی آزادی، تنقیدی شعور اور مکالمے سے زندہ رہتی ہیں، خوف اور جبر سے نہیں۔ شاہ لطیف بھٹائی کو عظیم بنانے والی چیز ان کا فکر و فلسفہ ہے، نہ کہ ان کے نام پر لوگوں کو خاموش کروانا۔ ان کی شاعری انسان کو سوال کرنے، محبت کرنے اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا درس دیتی ہے۔ اگر انہی کے نام پر عدم برداشت، نفرت یا خوف کو فروغ دیا جائے تو یہ ان کے پیغام کی نفی ہوگی۔

اسی طرح اجرک یقیناً سندھ کی خوبصورت ثقافتی علامت ہے، لیکن اگر اسے اس درجے پر پہنچا دیا جائے کہ اس کے حوالے سے ہر واقعہ مقدس جنگ بن جائے تو یہ ایک خطرناک راستہ ہوگا۔ احترام اور اندھی تقدیس میں فرق ہوتا ہے۔ احترام انسان کو مہذب بناتا ہے، جبکہ اندھی تقدیس اکثر شدت پسندی کو جنم دیتی ہے۔

آج سندھ کے دانشوروں، ادیبوں، اساتذہ، طلبہ اور سماجی کارکنوں کے سامنے ایک بڑا سوال کھڑا ہے: کیا سندھ اپنی صوفی روایت، فکری آزادی اور برداشت کی شناخت کو برقرار رکھ پائے گا یا وہ بھی جذباتی ہجوم، ثقافتی انتہاپسندی اور عدم برداشت کی طرف بڑھ جائے گا؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس رجحان پر سنجیدہ مکالمہ کیا جائے۔ نوجوان نسل کو یہ سکھایا جائے کہ ثقافت سے محبت کا مطلب دوسروں کو خاموش کروانا نہیں بلکہ تنوع کو قبول کرنا ہے۔ اگر ہم واقعی سندھ کی روح کو بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں برداشت، اختلافِ رائے، تنقیدی سوچ اور مکالمے کی روایت کو مضبوط کرنا ہوگا۔

ورنہ خطرہ یہ ہے کہ کل کو “قومی توہین” کے نام پر وہی نفرت، خوف اور تشدد جنم لے سکتا ہے جس نے پہلے ہی ہمارے معاشرے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ سندھ کی اصل طاقت اس کی صوفی روایت، اس کی کشادہ دلی اور اس کی انسان دوستی میں ہے۔ اس ورثے کو بچانے کا راستہ جذباتی نعروں میں نہیں بلکہ شعور، دلیل، برداشت اور مکالمے میں پوشیدہ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے