میں خود سوات کا رہائشی ہونے کے باوجود جب بھی کسی بانڈہ کا چکر لگاتا ہوں تو ہر دفعہ حیرانگی میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔ چلتے ہوئے انسان ہار مان لیتا ہے مگر جب منزل کا سوچتا ہے تو قدم رکنے کا نام نہیں لیتے۔ خدا بھی کیا کمال کا کاریگر ہے کہ ایک ہی آسمان کے نیچے مختلف موسموں کا لطف ہمیں پیش کر رہا ہے۔
ابھی میں سوئٹزرلینڈ کو دیکھ رہا تھا تو یہی سوچنے پر مجبور ہوا کہ محض دونوں میں ترقی کا فرق ہے۔ جن ڈالرز پر ملک آج روتا ہے، وہی اسی سوات کو اچھی شکل دے کر بیرونی سیاحوں سے ہزاروں ڈالرز کمائے جا سکتے ہیں۔ میرا ہرگز مطلب یہ بھی نہیں کہ قدرت کو خراب کر کے انوکھا کھیل کھیلا جائے یا جنگلات کی تباہی پھیلا دی جائے۔
ترقی اور تباہی میں فرق ہے اور اس تباہی کو بچانے والے ادارے موجود بھی ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ راستوں کا ایک بہترین جال بچھایا جائے جہاں ہر دلچسپ جگہ تک رسائی آسانی سے ہو۔ حفاظتی تدابیر بھی ذہن نشین ہونی چاہئیں اور ہاں، نرخوں کا بھی حکومت بروقت نوٹس لے۔ ان معاملات میں صفائی کا نظام بھی شانہ بشانہ ہونا چاہیے۔
میرا تعلق چونکہ زاتی سوات سے ہے تو ان جگہوں پر جانے کا بار بار اتفاق ہوتا ہے۔ اسلام آباد میں منتقلی سے پہلے یہ سب مجھے عام سی کیفیت دیتی تھی، مگر یہاں رہ کر احساس ہوا کہ کس جنت میں رہ رہا ہوں۔ اب جب بھی گھر جاتا ہوں تو مجھے میرا علاقہ وہ عام نہیں لگتا جو بہلے لگا کرتا تھا۔ سوچ کا زاویہ بدلہ اور احساس کی طلب پیدا ہوئی۔ لیکن وہی بات بار بار سامنے آتی ہے کہ کیسے اس نظام کی سوچ بدلی جائے؟ میرے خیال سے یہ مقامی لوگ پہلے خود اس کام میں کود پڑے!
یعنی مقامی لوگوں کے بھی حقوق بنتے ہیں کہ اپنی معیشت اور ملک کی بقا کے لیے انہیں ہر مناسب سہولت سے نوازا جائے۔ اسی سے تو بیرونی سیاحوں کی دلچسپی بڑھے گی اور یوں پاکستان کا ایک الگ نام ہوگا۔ مقامی لوگوں کا فائدہ الگ اور ملک کا فائدہ الگ وہ بھی ڈالرز کمانے کی صورت میں۔
پھر اگر اتنی سہولیات کے باوجود ایک آدھا ڈالر ٹیکس بھی لگایا جائے تو ان کے لیے کچھ بھی نہیں، بلکہ وہ ساری سہولیات دیکھ کر اس ایک آدھے ڈالر کو خوشی سے دے دیں گے۔ اسی طرح مناسب ٹیکس مقامی لوگوں پر بھی لاگو کیا جائے۔ یوں ڈالر اور حکومت کے خزانے دونوں کو فائدہ ہے بشرطیکہ یہ پیسے عوام کی بہبود یا انہی مقامات کی ترقی میں لگائے جائیں۔