میں اکثر سوچتا ہوں کہ قدرت نے انسان کو سمجھانے کے لیے جو سب سے خوبصورت مثال دی ہے وہ پانی ہے۔ پانی نہ رکتا ہے، نہ تھکتا ہے۔ پتھر ملے تو راستہ بدل لیتا ہے، پہاڑ ملے تو اس کے گرد گھوم جاتا ہے لیکن اپنی منزل نہیں بھولتا۔ اگر ہم زندگی کو ایسے ہی سمجھ لیں تو بہت سے مسئلے خود حل ہو جائیں۔
پانی جب کسی تنگ گھاٹی سے گزرتا ہے تو اس کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ زندگی میں بھی مشکل کے لمحات انسان کو اندر سے مضبوط کرتے ہیں۔ جن لوگوں نے آسان زندگی گزاری ہو وہ اکثر ہلکی سی آزمائش میں بکھر جاتے ہیں، جبکہ جو تکلیفوں میں پلے بڑھے ہوں وہ طوفانوں میں بھی سینہ تان کر کھڑے رہتے ہیں۔ دباؤ میں کمزوری نہیں، طاقت پیدا ہوتی ہے۔
پانی کی ایک اور خوبی مجھے ہمیشہ سے پسند ہے ۔ اس کی لچک۔ جس برتن میں ڈالو، اس کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ لچک کمزوری نہیں بلکہ اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ جو انسان حالات کے ساتھ خود کو ڈھال لے وہی آگے بڑھتا ہے۔ ضد اور سختی اکثر توڑ دیتی ہے جیسے وہ درخت جو طوفان میں جھکنے سے انکار کرے اور جڑ سے اکھڑ جائے۔
لیکن بہاؤ کا یہ مطلب نہیں کہ زندگی بے سمت ہو جائے۔ دریا کا پانی بھی بے ترتیب نہیں بہتا ۔ اس کی گہرائیوں میں ایک سمت ہوتی ہے، ایک منزل۔ ویسے ہی زندگی کا بہاؤ تبھی معنی خیز ہوتا ہے جب اندر کوئی مقصد ہو۔ بے مقصد زندگی اس کھڑے پانی کی مانند ہے جو سڑ جاتا ہے جسے راہ نہیں ملتی تو سکون بھی نہیں ملتا۔
آج کا انسان وقت کو روکنا چاہتا ہے ۔ خوشی میں چاہتا ہے یہ لمحہ ٹھہر جائے، غم میں بے تاب ہو جاتا ہے کہ یہ گزرے کیوں نہیں۔ پانی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر لہر گزر جاتی ہے خوشی بھی، غم بھی۔ اسی قبولیت میں زندگی کا اصل سکون پوشیدہ ہے۔ بس بہنے دیجیے زندگی خود اپنی راہ بنا لیتی ہے، ہر بار، ہر موڑ پر۔