آج کے دور میں ایک عجیب و غریب وبا نے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، اور وہ ہے "دکھاوے کی وبا”۔
ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں کسی بھی لمحے کی اہمیت اس بات سے نہیں مانی جاتی کہ ہم نے اسے کتنا جی بھر کر جیا، بلکہ اس بات سے طے ہوتی ہے کہ اس کی تصویر کتنی "پرفیکٹ” آئی اور اس پر کتنے "لائیکس” ملے۔ ہماری زندگی اب ہماری اپنی نہیں رہی، بلکہ ایک لینس (Lens) کے ذریعے دنیا کو دکھانے کا ذریعہ بن چکی ہے۔
کبھی سوچا ہے کہ ہم سیر و تفریح کے لیے نکلتے ہیں تو ہمارا پہلا کام خوبصورت مناظر کو اپنی آنکھوں میں بسانا نہیں بلکہ موبائل نکال کر ویڈیو بنانا کیوں ہوتا ہے؟ کسی مہنگے ریسٹورنٹ میں کھانا سامنے آئے تو بھوک سے پہلے کیمرہ جاگ اٹھتا ہے۔ ہم ٹھنڈا کھانا کھانے پر راضی ہیں مگر اس کی تصویر کا زاویہ گرم ہونا چاہیے۔ یہ تصویریں، یہ فلٹرز اور یہ سٹیٹس دراصل ایک ایسی مصنوعی دنیا کی عکاسی کرتے ہیں جس کا ہماری اصل زندگی سے تعلق بہت کم رہ گیا ہے۔
سوشل میڈیا کے اس دور نے ہم سے ہماری "پرائیویسی” اور "سکون” چھین لیا ہے۔ ہم دوسروں کی زندگیوں کے چمکتے ہوئے لمحات دیکھ کر اپنی پوری زندگی کو ادھورا سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ مقابلہ بازی ہمیں نفسیاتی طور پر تنہائی کا شکار کر رہی ہے۔ ہم ہجوم میں ہو کر بھی اکیلے ہیں کیونکہ ہماری توجہ ساتھ بیٹھے جیتے جاگتے انسانوں کے بجائے ڈیجیٹل سکرین پر موجود انجان لوگوں کی تالیوں پر لگی ہوتی ہے۔
لینس کے پیچھے چھپی یہ زندگی دراصل ایک سراب ہے۔ ہم سب اپنی خامیوں کو چھپا کر صرف خوبیوں کی نمائش کر رہے ہیں۔ اس دوڑ میں ہم یہ بھول چکے ہیں کہ زندگی کے بہترین لمحات وہ ہوتے ہیں جنہیں محفوظ کرنے کے لیے کیمرے کی ضرورت نہیں پڑتی، وہ دل کی تختی پر خود بخود نقش ہو جاتے ہیں۔ وہ قہقہے جو ریکارڈ نہیں ہوئے، وہ آنسو جو کسی نے نہیں دیکھے اور وہ سکون جو کسی سٹیٹس کا حصہ نہیں بنا، وہی اصل زندگی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کبھی کبھی اس لینس کو بند کریں اور اپنی آنکھوں سے دنیا کو دیکھیں۔ فون کو جیب میں رکھ کر سامنے بیٹھے شخص کی بات سنیں، پرندوں کی چہچہاہٹ کو ریکارڈ کرنے کے بجائے اسے محسوس کریں اور کھانے کو تصویر لینے کے بجائے اس کے ذائقے سے پہچانیں۔ یاد رکھیے، آپ کی زندگی کوئی فلم نہیں ہے جسے دوسروں کے لیے شوٹ کیا جائے، یہ ایک نعمت ہے جسے خود جینا سیکھیں۔