گلگت بلتستان پاکستان کا ایک خوبصورت اور قدرتی وسائل سے بھرپور علاقہ ہے، جو اپنی بلند پہاڑیوں، برفانی گلیشیئرز اور صاف ماحول کے لیے جانا جاتا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) نے اس خطے کو شدید متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
گزشتہ دہائی میں گلگت بلتستان میں درجہ حرارت میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جہاں پہلے درجہ حرارت معمول سے صرف 0.5 سے 1 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہوتا تھا، اب یہ اضافہ 1.5 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی گرمی کی ایک بڑی وجہ عالمی موسمیاتی تبدیلی اور El Niño جیسے عوامل ہیں، جو موسم کو غیر مستحکم بنا دیتے ہیں۔
اس درجہ حرارت میں اضافے کا سب سے بڑا اثر گلیشیئرز پر پڑ رہا ہے۔ گلگت بلتستان کے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، اور اندازہ ہے کہ ان کے پگھلنے کی رفتار میں 10% سے 25% تک اضافہ ہو چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں گلیشیئر جھیلیں بن رہی ہیں، جو کسی بھی وقت پھٹ کر Glacial Lake Outburst Flood (GLOF) کا سبب بن سکتی ہیں۔ یہ اچانک سیلاب نہ صرف انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرہ بنتے ہیں۔
اس کے علاوہ، حالیہ برسوں میں گلگت بلتستان میں سیاحت (Tourism) میں بھی بہت اضافہ ہوا ہے۔ 2020 کے بعد سیاحوں کی تعداد میں تقریباً 100% سے 200% تک اضافہ ہوا ہے، جس کے ساتھ گاڑیوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں فضائی آلودگی کو بڑھاتا ہے، جو گلیشیئرز پر جمع ہو کر برف کو تیزی سے پگھلنے پر مجبور کرتا ہے۔
جنگلات کی کٹائی (Deforestation) بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ گلگت بلتستان میں جنگلات پہلے ہی بہت کم ہیں، اور اب ان میں مزید کمی ہو رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ ہر سال تقریباً 0.4% سے 0.6% جنگلات ختم ہو رہے ہیں۔ درختوں کی کمی کی وجہ سے درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور ماحول کا توازن بگڑ جاتا ہے۔
اگر یہ صورتحال جاری رہی تو مستقبل میں گلگت بلتستان کو شدید خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، جن میں بار بار آنے والے سیلاب، پانی کی قلت، اور ماحولیاتی تباہی شامل ہیں۔ یہ خطہ ایک “climate danger zone” میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
تاہم، اس مسئلے کا حل ممکن ہے۔ صاف توانائی (clean energy) کا استعمال، درختوں کی شجرکاری، سیاحت کو منظم کرنا، اور ماحولیاتی آگاہی پیدا کرنا اس کے مؤثر حل ہیں۔ حکومت اور عوام دونوں کو مل کر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ اس خوبصورت خطے کو بچایا جا سکے۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گلگت بلتستان صرف ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ ایک اہم ماحولیاتی نظام ہے۔ اگر ہم نے آج اسے محفوظ نہ کیا تو آنے والی نسلیں اس کی خوبصورتی سے محروم ہو سکتی ہیں۔