آج کے دور میں موبائل فون ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ صبح آنکھ کھلنے سے لے کر رات سونے تک ہمارا زیادہ وقت موبائل اسکرین کے ساتھ گزرتا ہے۔ بظاہر یہ ایک سہولت ہے، مگر آہستہ آہستہ یہ سہولت ایک نئی لت میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔
تعلیم، رابطہ اور معلومات کے حصول میں موبائل فون نے بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں۔ طلبہ آن لائن لیکچرز دیکھتے ہیں، خبریں فوری حاصل ہوتی ہیں اور دنیا ایک کلک کی دوری پر آ گئی ہے۔ مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب استعمال ضرورت سے بڑھ جائے۔
خاص طور پر نوجوان نسل سوشل میڈیا اور گیمز میں اس قدر مصروف ہو چکی ہے کہ حقیقی زندگی کے تعلقات متاثر ہونے لگے ہیں۔ خاندان کے افراد ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہوتے ہیں مگر گفتگو کم اور اسکرین کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ اس عادت نے توجہ کی کمی، نیند کے مسائل اور ذہنی دباؤ کو بھی بڑھایا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ٹیکنالوجی خود مسئلہ نہیں، بلکہ اس کا غیر متوازن استعمال مسئلہ بنتا ہے۔ اگر موبائل کو سیکھنے، تحقیق اور مثبت سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم موبائل فون کے استعمال میں توازن پیدا کریں۔ کیونکہ جب سہولت حد سے بڑھ جائے تو وہ انسان پر قابو پانے لگتی ہے، جبکہ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ٹیکنالوجی انسان کی خدمت کرے، انسان ٹیکنالوجی کا غلام نہ بنے۔