پاکستان میں پروٹوکول کلچر ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے جو عام شہریوں اور حکومتی اداروں کے درمیان فاصلے کو بڑھا رہا ہے۔ پروٹوکول کا اصل مقصد اہم شخصیات کی حفاظت اور نظم و ضبط قائم رکھنا ہوتا ہے، مگر ہمارے معاشرے میں یہ اکثر طاقت، رتبے اور برتری کی علامت بن چکا ہے۔
اکثر دیکھا جاتا ہے کہ کسی وزیر، افسر یا بااثر شخصیت کے گزرنے کے لیے سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں۔ لمبی گاڑیوں کے قافلے، سائرن کی آوازیں اور عوام کو گھنٹوں انتظار کروانا ایک معمول بن چکا ہے۔ اس صورتحال میں مریض ایمبولینسوں میں پھنس جاتے ہیں، طلبہ امتحانات کے لیے دیر سے پہنچتے ہیں اور عام شہری مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ عوام کے ٹیکس سے چلنے والی یہ سہولیات بعض اوقات صرف چند افراد کی آسائش کے لیے استعمال ہوتی نظر آتی ہیں۔
پروٹوکول کلچر ہمارے معاشرے میں عدم مساوات کے احساس کو بھی بڑھاتا ہے۔ جب ایک عام شہری خود کو قانون اور سہولتوں سے محروم محسوس کرتا ہے جبکہ طاقتور افراد ہر اصول سے بالاتر دکھائی دیتے ہیں تو لوگوں کا اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں حکمرانوں اور عوام کے درمیان فاصلہ نہیں بلکہ قربت ہونی چاہیے۔
دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں حکمران سادگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ کم سکیورٹی اور محدود پروٹوکول کے ساتھ عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ اس سے نہ صرف عوام کا اعتماد بڑھتا ہے بلکہ قومی وسائل کی بھی بچت ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی سادگی، برابری اور عوامی خدمت کے جذبے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ غیر ضروری پروٹوکول کم کرے اور عوامی سہولت کو ترجیح دے۔ اسی طرح عوام کو بھی شعور پیدا کرنا ہوگا کہ اصل عزت خدمت، دیانت اور کردار سے ملتی ہے، نہ کہ لمبے قافلوں اور سائرن سے۔ اگر ہم پروٹوکول کلچر کی جگہ سادگی اور مساوات کو اپنالیں تو معاشرہ زیادہ مثبت اور خوشحال بن سکتا ہے۔