پنکی میڈم: پاکستان میں بڑھتا ہوا ڈرگ مافیا اور خاموش ادارے

11 مئی 2026 کو پولیس نے انمول عرف پنکی، پاکستان کی سب سے بڑی کوکین ڈیلر کو ان کے فلیٹ سے گرفتار کر لیا گیا۔ انمول عرف پنکی کو پاکستان کا پابلو ایسکوبار بھی کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ ان کا نیٹ ورک نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے۔

اس کام میں ان کے ساتھ ان کے 2 بھائی سمیت کافی ڈرگ ڈیلر شامل ہیں۔ انمول عرف پنکی پہلے کوکین کی اسمگلنگ کرتی تھی پھر اس میں مزید کچھ کیمیکل ڈالتی تھی جس سے ان میں نشہ اور بڑھ جاتا تھا اور جو مزید خطرناک ہو جاتا تھا۔

انمول کا تعلق لاہور سے ہے، اپنی ابتدائی عمر میں ایک ماڈل بننا چاہتی تھی اور اس وجہ سے ان کے والد نے ان سے تعلق ختم کر دیا۔ انمول نے پہلی شادی ایک وکیل سے کی جس کا تعلق باہر ملک کے کوکین ڈیلرز سے تھا۔ انہوں نے انمول کو پنجاب ایریا میں مال سپلائی کرنے کے لیے استعمال کیا۔ اس کام میں انمول کو لانے والا اور کوئی نہیں بلکہ اس کا شوہر اور بھائی ہی تھے۔

پنجاب میں کوکین سپلائی کرتے کرتے انمول عرف پنکی نے اپنا نیٹ ورک بنایا۔ جب ان کا نیٹ ورک مضبوط ہو گیا تو انہوں نے اپنے پہلے شوہر کو چھوڑ دیا اور دوسری شادی ایک پولیس آفیسر سے کی جس نے ان کو 4 سال پہلے گرفتار کیا تھا۔ دوسری شادی کے بعد پنکی کا نیٹ ورک اور مضبوط ہو گیا اور وہ مزید زور و شور سے کام کرنے لگی۔

رپورٹس کے مطابق انمول جب پہلی بار گرفتار ہوئی تھی تو انہوں نے 7 کروڑ سے زائد رقم رشوت دے کر اپنی ضمانت منظور کروائی تھی۔ اس کے علاوہ ان کے بھائی کو بھی کئی بار گرفتار کیا گیا، اس کو بھی 1 کروڑ سے زائد رقم رشوت دے کر باہر نکلوایا گیا۔ اس بار بھی جب ان کو گرفتار کر کے کورٹ میں پیش کیا گیا تو ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی مجرم نہیں بلکہ ستارۂ امتیاز کا ایوارڈ لینے جا رہے ہوں پورے پروٹوکول کے ساتھ۔ پولیس کانسٹیبل ان کے پیچھے ایسے چل رہا تھا جیسے ان کا کوئی باڈی گارڈ ہو۔ کورٹ نے ان کے تین روزہ ریمانڈ کی منظوری دی تھی، جس کے بعد اب اسے بڑھا کر 22 مئی تک کر دیا گیا ہے۔

ان کی گرفتاری کے بعد ان کا ایک وائس نوٹ سامنے آیا جس میں وہ پولیس والوں کو دھمکیاں دیتی ہوئی نظر آئیں۔ ان کی وائس نوٹ سے صاف ظاہر تھا کہ ان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی خوف نہیں اور وہ خود کو کوئی مجرم نہیں بلکہ ایک برانڈ سمجھتی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں رہوں یا نہ رہوں، بے شک گرفتار ہو جاؤں، کام کبھی نہیں رکے گا، وہ چلتا رہے گا۔

انمول عرف پنکی کیس میں کافی بڑے بڑے لوگوں کا نام سامنے آیا ہے جس میں شوبز سے تعلق رکھنے والے ایک مایہ ناز اداکار منیب بٹ کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ یہاں تک یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس کیس کا تعلق آرمغان کیس سے بھی ہے۔ مزید ابھی اور بھی بڑے نام ہمیں دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ انمول عرف پنکی کو 9 مئی کو ملنے والی ایک نامعلوم لاش کا قاتل بھی ٹھہرایا جا رہا ہے جس کی جیب سے ان کی کوکین کی ڈبی ملی ہے جس پر لکھا تھا:

“Pinki Madam, Don, Naam hi kaafi hy”

انمول نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کے کسٹمر زیادہ تر اسٹوڈنٹس ہی ہیں جن کو یہ مال سپلائی کیا جاتا ہے۔

تازہ ترین پیشی سے واپسی جاتے ہوئے انمول عرف پنکی کا ایک کلپ سامنے آیا ہے جس میں وہ جاتے جاتے یہ کہہ رہی ہیں:
“مجھے بولا گیا ہے اندر یہ بات کرو کہ تم بنی گالا میں بھی کوکین سپلائی کرتی تھی۔”

ان کا اتنا ہی کہتے ہی ان کے منہ پر چادر ڈال کر پولیس ان کو فوراً وہاں سے لے گئی۔ یہ کیس پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیا ہم واقعی اپنے اداروں پر بھروسہ اور اعتماد کر سکتے ہیں؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے