شدّت پسند نسائیت

آج کل سوشل میڈیا پر “فیمنزم” کا لفظ بہت زیادہ سننے کو ملتا ہے۔ کچھ لوگ اسے عورتوں کے حقوق کی آواز کہتے ہیں اور کچھ لوگ اسے معاشرے کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کو تعلیم، عزت اور انصاف ملنا چاہیے، اس میں کوئی غلط بات نہیں۔ لیکن جب یہی سوچ حد سے بڑھ جائے تو مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں، اور اسی کو ریڈیکل فیمنزم کہا جاتا ہے۔

ریڈیکل فیمنزم میں بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مرد ہمیشہ غلط ہوتے ہیں اور عورت ہمیشہ مظلوم۔ یہی سوچ معاشرے میں نفرت پیدا کرتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ اگر ہر بات میں لڑائی اور مخالفت ہوگی تو گھر اور رشتے کمزور ہو جائیں گے۔

آج کل کچھ لوگ آزادی کے نام پر خاندانی نظام کو پرانا خیال کہتے ہیں۔ حالانکہ ہمارا خاندان ہی ہماری اصل طاقت ہوتا ہے۔ ماں، باپ، بہن بھائی اور رشتے انسان کو سکون دیتے ہیں۔ اگر ہر شخص صرف اپنی آزادی کے بارے میں سوچے تو محبت اور احترام ختم ہونے لگتا ہے۔

میرا خیال ہے کہ عورت کو ضرور اس کے حقوق ملنے چاہئیں، لیکن ہر چیز میں انتہا پسندی اچھی نہیں ہوتی۔ نہ مرد کو برا کہنا درست ہے اور نہ عورت کو کمزور سمجھنا۔ ایک اچھا معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں دونوں ایک دوسرے کی عزت کریں اور مل کر زندگی گزاریں۔

اس لیے ہمیں ایسی سوچ اپنانی چاہیے جو انصاف بھی دے اور ہمارے معاشرتی اور خاندانی نظام کو بھی مضبوط رکھے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے