تاریکی کا سفر اور عوام کی بے بسی

تاریکی کا اندھیرا جب گہرا ہوتا ہے تو انسان روشنی کی امید کرتا ہے، لیکن پاکستان کے عوام کے لیے یہ امید اب ایک خواب بن چکی ہے۔ گرمی کا موسم آتے ہی ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کا جن ایک بار پھر بے قابو ہو چکا ہے۔ شہروں میں آٹھ سے دس گھنٹے اور دیہی علاقوں میں تو سحر و افطار اور کڑی دھوپ میں بھی بارہ بارہ گھنٹے بجلی غائب رہنا اب ایک معمول بن گیا ہے۔

طاقتور طبقہ تو سولر پینلز اور جنریٹروں کے پیچھے چھپ کر ٹھنڈی ہواؤں کے مزے لے رہا ہے، لیکن پس رہا ہے تو صرف غریب اور مڈل کلاس طبقہ۔ شدید گرمی میں بلکتے بچے، ہسپتالوں میں تڑپتے مریض اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی بوند بوند کو ترستے شہری، یہ ہے ہمارے ملک کی موجودہ صورتحال۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایک طرف بجلی آتی نہیں، اور دوسری طرف عوام کی جیبوں پر بھاری بھرکم بلوں اور ٹیکسوں کے ذریعے ڈاکا ڈالا جا رہا ہے۔

کاروبار زندگی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ چھوٹے تاجر اور روزانہ کی بنیاد پر کمانے والے مزدور بجلی کی بندش کے باعث فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک حکومتیں شارٹ ٹرم پالیسیوں اور عارضی حل کے پیچھے چھپتی رہیں گی؟ ڈیمز کی تعمیر، متبادل توانائی (سولر اور ونڈ انرجی) پر منتقلی اور بجلی چوری کا خاتمہ اب محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اگر اب بھی سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تاریکی ملک کی معیشت اور عوام کے صبر دونوں کو نگل جائے گی۔ اب وقت ہے کہ حکمران جاگیں، کیونکہ اندھیرا اب حد سے بڑھ چکا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے