پشاور لٹریری فیسٹیول

بعض محفلیں وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں، بلکہ یادوں خیالوں اور احساسات کے نہاں خانوں میں ہمیشہ کے لیے آباد ہو جاتی ہیں۔ پشاور لٹریری فیسٹیول سیزن سوم بھی میرے لیے ایسی ہی ایک یادگار بزم ثابت ہوا جس کی بازگشت ابھی تک دل و دماغ میں سنائی دیتی ہے

دو روز تک نشتَر ہال محض ایک عمارت نہ تھا بلکہ افکار و اذہان کا ایک جہاں آباد تھا۔ یہاں لفظ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر تھے خیال اپنے نئے معانی تلاش کر رہے تھے اور نوجوان نسل اپنے مستقبل کے امکانات سے ہم کلام تھی۔ اس بزم میں ادب بھی تھا، کسب بھی اور جوانی کی وہ تازہ امنگ بھی جو قوموں کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

کہیں اہلِ دانش نوجوانوں کے مستقبل پر گفتگو کر رہے تھے کہیں مطالعہ، ادب اور فکری ارتقاء کے موضوعات زیرِ بحث تھے۔ کہیں قانون، سیاست اور سماج کے باہمی رشتوں پر مکالمہ جاری تھا تو کہیں ہنر فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فوٹوگرافی اور تخلیقی معیشت کے نئے دریچے وا ہو رہے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ روایت اور جدت، قلم اور ہنر، فکر اور عمل ایک ہی محفل میں ہم نشین ہیں

اور پھر شام ڈھلتے ہی مشاعروں کی دل آویز صدائیں موسیقی کی مترنم لہریں، ثقافتی رنگا رنگی، فنونِ لطیفہ کی جلوہ سامانیاں اور اہلِ ذوق کی پرجوش موجودگی اس محفل کو ایک ایسا تہذیبی جشن بنا دیتی تھی جس میں پشاور کی روح بولتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔

اس اجتماع نے ایک بار پھر یہ احساس تازہ کیا کہ ادب محض الفاظ کی ترتیب کا نام نہیں، بلکہ شعور کی آبیاری، تہذیب کی حفاظت اور انسان کے باطن کو منور کرنے کا وسیلہ ہے کتابیں صرف اوراق نہیں ہوتیں وہ نسلوں کے تجربات خوابوں اور حکمتوں کی امین ہوتی ہیں۔

پشاور، جو صدیوں سے علم، تہذیب اور روایت کا مرکز رہا ہے، ان دو دنوں میں گویا اپنے اصل چہرے کے ساتھ نمودار ہوا۔ اہلِ قلم شعرا دانش وروں، فنکاروں، اساتذہ، وکلا سماجی شخصیات اور نوجوانوں کا ایک ہی چھت تلے جمع ہونا اس امر کی دلیل تھا کہ مکالمہ، علم اور ثقافت آج بھی ہماری اجتماعی زندگی کی اہم ضرورت ہیں

اس بزمِ فکر و فن کے پسِ پردہ کارفرما تمام نفوس لائقِ صد تحسین ہیں بالخصوص عبدالرحمن اور شہاب الدین جن کی بصیرت محنت اور قیادت نے اس خواب کو حقیقت کا روپ عطا کیا۔ اسی طرح تمام رضاکاران، منتظمین اور معاون اداروں نے جس خلوص، نظم اور وابستگی کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ ستائش ہے۔

خصوصی خراجِ تحسین Directorate of Youth Affairs Khyber Pakhtunkhwa، Khyber Pakhtunkhwa Culture & Tourism Authority اور Culture, Literature, Arts and Development Organization (CLADO) کو، جن کی سرپرستی اور تعاون نے اس عظیم ادبی و ثقافتی اجتماع کو ممکن بنایا۔
محفل برخاست ہوچکی ہے سٹیج خاموش ہے، نشستیں خالی ہیں اور چراغ بجھ چکے ہیں؛ مگر کچھ آوازیں اب بھی سماعت میں گونجتی ہیں کچھ چہرے اب بھی نگاہوں میں بستے ہیں، کچھ گفتگوئیں اب بھی ذہن میں جاری ہیں اور کچھ خواب اب بھی دل میں روشن ہیں

پشاور لٹریری فیسٹیول اختتام پذیر ہوا ہے، مگر اس کی خوشبو ابھی تک فضا میں رچی ہوئی ہے، اور شاید مدتوں رہے گی۔

ادب، کسب، جوان

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے