نئے یونٹس ضروری مگر کیسے ۔۔۔۔؟

محسن نقوی صاحب نے سسٹم کی تباہی کا جب سے مژدہ سنایاہے تب سے کسی بھی مجلس میں جائیں تو ایک بات زیر بحث آتی ہے کہ صوبے بنانے چاہییں،”صوبے بنانا کوئی بڑی بات ہے؟ پنجاب کی اتنی بڑی آبادی ہے، چار ٹکڑے کر کے سرائیکی اور بہاولپور والوں کو ان کا حق دینا چاہیے ، اسی طرح سندھ اورخیبر پختونخواکی دہائی کو بھی سن لینا چاہیے،بدقسمتی سے نظام کی تباہی کو دھانے پر لانے والے یہی لوگ ہیں جن پر آج نئے یونٹس کا بھوت سوار ہے۔ کوئی پوچھے ان سے پہلے ہی 1200 سے 1400 ارب روپے کا ڈائریکٹ خسارہ چل رہا ہے، نئے صوبے بنا کر کیا گورنر ہاؤسز، سیکرٹریٹوں اور بیوروکریسی کے مفت پروٹوکول کا نیا میلہ سجانا ہے؟”

یقینا سسٹم تباہ ہوچکا ہے اور انتظامیہ’ فی الحال اللہ توکل پر چل رہی ہے، صوبے 4 ہوں یا 40، جب تک نیت نہ بدلے، نقشے بدلنے سے صرف حکمرانوں کی گاڑیاں بدلتی ہیں،غریب کی تقدیر نہیں! پورے ملک میں اصل مسئلہ یہ نہیں کہ صوبے کتنے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ جتنے ہیں وہاں بھی اختیارات اور عوام کی بے بسی کس حد تک ہے، لیکن کانفیڈنس دیکھیے ہمارے سیاست دانوں کا۔!

جب بھی الیکشن قریب آتے ہیں، نئے صوبوں کا ایسا رنگین غبارہ ہوا میں چھوڑ دیتے ہیں،جیسے نیا صوبہ بنتے ہی ہر گلی میں شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔اگر ٹھنڈے دل سے دیکھا جائے تو ملک کے موجودہ حالات دیکھ کر ہنسی بھی آتی ہے اور رونا بھی۔پنجاب کی آبادی 130 ملین سے تجاوز کر چکی ہے، یعنی آدھے سے زیادہ پاکستان اکیلے پنجاب میں گھسا ہوا ہے،لاہور کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ اکیلا پورا پنجاب کا نصف ترقیاتی بجٹ چٹ کر جاتا ہے، جبکہ جنوبی پنجاب کے بیچارے سرائیکی بیلٹ والے اپنے حصے کے محض 43 فیصد کے لیے بھی ترس رہے ہوتے ہیں، وہاں کی 40 فیصد آبادی بنیادی صحت اور تعلیم سے محروم ہے۔

یہی حال خیبر پختونخوا کا ہے جہاں پشاور کے منصوبوں کے لیے 50 ارب اور پوری ہزارہ ڈویژن کے لیے صرف 4 ارب رکھے جاتے ہیں، اور بلوچستان؟ رقبے میں پاکستان کا 43 فیصد لیکن غربت کی شرح 47 فیصد۔لہذا یہ بات تو درست ہے کہ نئےصوبے انتظامی ضرورت ہیں چاہے وہ 12 چھوٹے صوبے بن جائیں یا 38 وفاقی ڈویژنز، کم از کم فاصلے تو کم ہوں گے،اس کی مثال ہمیں ترکی میں ملتی ہے 81 صوبے بنا کر اپنی فی کس آمدنی بہتر کر لی، جرمنی میں 16 ریاستیں آپس میں بہترین مالی توازن سے چل رہی ہیں۔

مگر ٹھہریے!

ذرا ہم اپنے ملک کے ماحول پر بھی نظر ڈالیں، یہاں جیسے ہی ‘سندھ میں نیا صوبہ’ یا ‘کراچی کی تقسیم’ کا نام آتا ہے، سندھی قوم پرستوں کا صدمے سے پارہ ہائی ہو جاتا ہے کہ یہ ہزاروں سال کی تہذیب پر ڈاکہ ہے،خیبر پختونخواہ میں ہزارہ صوبے کی بات کرو تو لسانی فسادات کا خطرہ سر اٹھانے لگتا ہے۔ بلوچستان میں بلوچ اور پشتون آپس میں ہی الجھ جاتے ہیں۔

آئین کا آرٹیکل 239(4) کے ذریعہ آئین بنانے والوں نے ایسی گرہ لگائی ہے کہ صوبے کی حد بدلنے کے لیے قومی اسمبلی، سینیٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو دہائیوں کی تگ و دویعنی دو تہائی اکثریت چاہیے،جو اسمبلی اپنے صوبے کا اقتدار چھوڑنے پر تیار نہ ہو، اس سے اپنے ہی ٹکڑے کرنے کی منظوری کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے ؟دراصل، پاکستان کا اصل مسئلہ صوبوں کا چھوٹا یا بڑا ہونا نہیں، بلکہ آرٹیکل 140-A کا لاوارث ہونا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140-A چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے!

صوبائی دارالحکومتوں سے اختیارات چھین کر نیچے گلی محلوں اوربلدیاتی اداروں کو دو، مگر صوبائی حکومتوں کو ٹس سے مس بھی نہی ہوتا، 18ویں ترمیم کے بعد وفاق سے صوبوں کو تو تمام اختیارات مل گئے، مگر صوبوں نے وہ اختیارات آگے اپنے شہروں اور اضلاع کو دینے کے بجائے گود میں دبا کر رکھ لیے۔اگر بلدیاتی نظام کو مالی اور سیاسی طور پر بااختیار بنا دیا جائے، تو لاہور، پشاور یا کراچی جا کر دھکےکھانے کی ضرورت ہی نہ رہے، لیکن ہمارے ہاں ہر مسئلے کا حل ایک نیا نوکر شاہی کا محل تیار کرنا سمجھا جاتا ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ اگر بغیر سوچ سمجھے نئے صوبے بنا بھی دیے گئے، تو ہم صرف اپنے پرانے ناکام گورننس ماڈل کو 22 بار اور دہرائیں گے، ہر نئے صوبے میں ایک نیا گورنر ہاؤس ہوگا، ایک لمبی چوڑی کابینہ ہوگی، سیکرٹریٹ کا نیا خرچہ ہوگا اورافلاطونی بیوروکریسی کا نیا جال ہوگا، نتیجہ وہی ‘ پھر وہی ڈھاک کے تین پات۔

جب تک ملک میں قانون کی حکمرانی نہ ہو، مقامی حکومتوں کو واقعی بااختیار نہ بنایا جائے اور سیاسی نعروں کے بجائے واقعی عوامی خدمت کی نیت نہ ہو، نئے صوبوں کی بحث صرف ٹی وی ٹاک شوز کا مصالحہ اور سیاست دانوں کی ووٹ بٹورنے کی دکان ہی رہے گی،اگر محض نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے سے مسائل حل ہوتے، تو آج فاٹا کا انضمام تمام قبائلی مسائل کا خاتمہ کر چکا ہوتا۔ حقیقت یہی ہے کہ تبدیلی صوبوں کی حدبندی سے نہیں، بلکہ حکمرانوں کے رویوں اور طاقت کی نچلی سطح تک واقعی منتقلی سے ہی آئے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے