جھنڈے دل سے لہراتے ہیں

مجھے چین میں ایک سو یوآن نے بہت کچھ سکھا دیا۔یہ واقعہ اپریل 2026 کے آخری دنوں کا ہے۔میں چین کے ساحلی اور صنعتی شہر ننگبو میں تھا۔صوبہ ژیجیانگ کا یہ شہر گرین اینڈ سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ فورم 2026 کی میزبانی کر رہا تھا۔ دنیا کے مختلف ملکوں سے آئے مندوبین، شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے نمائندے، مبصرین، اقوام متحدہ کے نمائندگان اور ہزاروں شرکا ننگبو انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں موجود تھے۔کانفرنس کا آغاز چینی صدر شی جن پنگ کے خصوصی مبارک باد کے پیغام سے ہوا۔

موضوع ماحولیات تھا،لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس دن ماحولیات سے زیادہ مجھے انسان اور قوم کے بارے میں کچھ سیکھنے کو ملنے والا ہے۔دوپہر ایک بجے سے تین بجے تک وقفہ ہوا۔صحافیوں نے کھانے کی میزوں پر قبضہ جما لیا۔ کوئی انٹرویو کر رہا تھا، کوئی نوٹس لکھ رہا تھا اور کوئی چینی ماہرین سے ماحولیات، گرین ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں سوالات پوچھ رہا تھا۔چین کی ماحولیات کے شعبے میں پیش رفت اس وقت واقعی دنیا کے لیے ایک مثال بن چکی ہے۔

جدید ٹیکنالوجی، صاف توانائی، سبز ترقی اور بڑے پیمانے پر ماحولیاتی منصوبے گفتگو کا حصہ تھے۔لیکن ہماری میزبان مس زاؤ نے شاید صحافیوں کی تھکن محسوس کر لی تھی۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ کھانے کے بعد ہمیں کانفرنس ہال میں واپس لے جانے کے بجائے تفریح اور ثقافت کے ہال کی سیر کرائی جائے۔وہاں چین کی ثقافت اپنے پورے رنگ کے ساتھ موجود تھی۔روایتی کھیل، دستکاریاں، فنکار، سجاوٹ کی اشیا اور ہاتھ سے بننے والی مختلف چیزیں۔ لوگ اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے، مہمانوں کو روایتی تحائف دیے جا رہے تھے اور پورا ماحول ایک ایسی ثقافت کی تصویر پیش کر رہا تھا جو جدیدیت کے باوجود اپنی جڑوں کو بھولی نہیں تھی۔اسی دوران ایک چینی نوجوان میری طرف آیا۔

اس کا نام شیاؤ لیووئی تھا۔ وہ ننگبو میں وزارت خارجہ سے وابستہ سرکاری ملازم تھا۔اس نے مسکرا کر مجھے سلام کیا اور پوچھا۔مسٹر علی! کیا آپ کے پاس پچاس یوآن ہیں؟میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔وہ دوبارہ مسکرایا۔اگر آپ کے پاس پچاس یوآن ہیں تو میں آپ کو ایک بہت بڑا سرپرائز دے سکتا ہوں۔میں نے فوراً جیب میں ہاتھ ڈالا۔اور پھر میرے ہاتھ رک گئے۔میرا پرس غائب تھا۔میرا رنگ ایک دم اڑ گیا۔اس پرس میں پاسپورٹ تھا، ٹکٹ تھا، بینک کارڈز تھے اور نقد رقم بھی تھی۔میں نے گھبرا کر جیبیں دوبارہ ٹٹولیں۔

شیاؤ لیووئی نے میرے چہرے کی پریشانی دیکھی تو ہنس کر بولا۔پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔میں نے حیرت سے اسے دیکھا۔اس نے کہا: آپ کا پرس ہمیں مل گیا ہے۔ہماری ایک صفائی کرنے والی خاتون کو یہ ملا تھا۔اس نے فوراً اسے سیل کر کے محفوظ کر دیا۔آپ کی ہر چیز اندر موجود ہے۔ میرے ساتھ آئیے۔ وہ خاتون آپ کی امانت آپ کو واپس کرنا چاہتی ہے۔میں اس کے ساتھ چل پڑا۔ہم تیسری منزل پر پہنچے۔ایک نوجوان چینی لڑکی صفائی کے کام میں مصروف تھی۔

شیاؤ لیووئی نے اسے چینی زبان میں کچھ بتایا۔ پھر میری طرف دیکھ کر کہا: میں نے اسے بتایا ہے کہ آپ پاکستان سے آئے ہوئے ہمارے مہمان ہیں،صحافی ہیں اور شنگھائی تعاون تنظیم کے حوالے سے رپورٹنگ کے لیے چین آئے ہیں۔لڑکی نے میری طرف دیکھا۔اس کے چہرے پر خوشی پھیل گئی۔اس نے اپنی زبان میں مجھے خوش آمدید کہا اور میرا پرس میرے حوالے کر دیا۔میں نے پرس کھولا۔پاسپورٹ اپنی جگہ تھا۔ٹکٹ موجود تھا۔کارڈز موجود تھے۔رقم بھی پوری تھی۔میں نے سکون کا سانس لیا۔

پھر میں نے جیب سے سو یوآن نکالے اور اس خاتون کو دینا چاہے۔اس نے فوراً ہاتھ پیچھے کر لیے۔میں نے دوبارہ اصرار کیا۔اس نے پھر انکار کر دیا۔میں نے شیاؤ لیووئی کی طرف دیکھا۔اس نے چینی زبان میں اس سے کچھ پوچھا۔پھر میری طرف مڑ کر بولا:یہ کہتی ہیں کہ آپ صحافی ہیں۔میں نے اثبات میں سر ہلایا۔اس نے کہا: تو پھر اپنے ملک واپس جا کر چینی قوم کے بارے میں ایک اچھی رپورٹ لکھیے۔ ہماری مہمان نوازی کے بارے میں لکھیے اور وہ رپورٹ ہمارے ساتھ ضرور شیئر کیجیے۔

میں خاموش ہو گیا۔سو یوآن میرے ہاتھ میں تھے۔سامنے ایک معمولی سی صفائی کرنے والی ملازمہ کھڑی تھی۔اس کے پاس کوئی بڑا عہدہ نہیں تھا۔وہ کوئی وزیر نہیں تھی۔وہ سفیر نہیں تھی۔وہ کسی بڑی کمپنی کی مالک بھی نہیں تھی۔وہ صرف ایک صفائی کرنے والی ملازمہ تھی۔لیکن اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ قومیں اپنے بڑے لوگوں سے نہیں، اپنے چھوٹے لوگوں کے کردار سے پہچانی جاتی ہیں۔میں چند لمحوں تک اس لڑکی اور شیاؤ لیووئی کے چہروں کو دیکھتا رہا۔پھر میں نے صرف شکریہ ادا کیا۔شام ہو چکی تھی۔ہم واپس ہوٹل کی طرف روانہ ہو گئے۔اگلی صبح میری پاکستان واپسی کی فلائٹ تھی۔مگر اس رات مجھے نیند نہیں آئی۔

میرے سامنے بار بار وہی لڑکی آ رہی تھی۔سو یوآن میرے ذہن میں تھے۔اور پھر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم۔ہم ہر سال اگست میں پرچم لہراتے ہیں۔گلیاں سجتی ہیں۔عمارتیں روشن ہوتی ہیں۔بازاروں میں سبز و سفید جھنڈیاں لگتی ہیں۔ملک بھر میں ملی نغمے بجتے ہیں۔

سرکاری تقریبات ہوتی ہیں۔تقریریں ہوتی ہیں۔ہم ایک دوسرے کو آزادی مبارک دیتے ہیں۔لیکن میں سوچ رہا تھا:آزادی صرف پرچم لگانے کا نام ہے یا پرچم کے وقار کی حفاظت کا بھی؟قومیں صرف سرحدوں کی حفاظت سے نہیں بنتیں۔قومیں کردار سے بنتی ہیں۔ملی غیرت صرف دشمن کے سامنے نعرہ لگانے کا نام نہیں۔

یہ اس وقت بھی سامنے آتی ہے جب آپ کو کسی دوسرے انسان کی امانت ملے اور آپ اسے بغیر کسی لالچ کے واپس کر دیں۔وطن دوستی صرف قومی ترانے کے وقت کھڑے ہونے کا نام نہیں۔یہ اس وقت بھی ظاہر ہوتی ہے جب آپ اپنے ملک کا نام اپنے ذاتی فائدے سے اوپر رکھیں۔چینی صفائی کرنے والی اس خاتون نے میرے سو یوآن قبول نہیں کیے تھے۔اس نے بدلے میں صرف ایک چیز مانگی تھی: اپنے ملک واپس جاؤ اور ہمارے اچھے کردار کا ذکر کرو۔

میں سوچتا رہا،اگر یہی پرس پاکستان میں کسی جگہ کسی عام آدمی کو ملتا تو کیا ہوتا؟یہ سوال مجھے اندر سے پریشان کرتا رہا۔ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کبھی دودھ میں ملاوٹ کی شکایت ہوتی ہے، کبھی دوا میں،کبھی خوراک میں،کبھی کاروبار میں۔جہاں قانون تو موجود ہے۔مگر قانون توڑنے کے نت نئے راستے بھی موجود ہیں۔جہاں طاقتور کے لیے ضابطے نرم اور کمزور کے لیے سخت ہو جاتے ہیںہمیں یہ بھی یاد ہے کہ ماضی میں وزیراعظم آفس ملکی مہمانوں کے قیمتی سامان کے غائب ہونے کے واقعات نے ملک کی بدنامی کا باعث بنایا۔مسئلہ صرف ایک پرس،ایک ہار یا چند لاکھ روپے کا نہیں۔

اصل مسئلہ کردار کا ہے۔اگر ایک صفائی کرنے والی چینی خاتون کسی غیر ملکی صحافی کا پاسپورٹ، رقم اور تمام سامان محفوظ رکھ کر صرف اتنا کہتی ہے کہ میرے ملک کے بارے میں اچھی خبر لکھ دینا، تو یہ اس قوم کی اصل طاقت ہے۔اور اگر ہم اپنے ہی ملک میں ایک دوسرے کی چیز محفوظ نہیں سمجھتے تو پھر ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔آج پاکستان اپنا 79واں یوم آزادی منانے جا رہا ہے۔ہمیں اس دن ایک سوال ضرور اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔ہم پرچم کیوں لہراتے ہیں؟صرف اس لیے کہ آج 14 اگست ہے؟یا اس لیے کہ ہم واقعی اس ملک کے نام کو بلند دیکھنا چاہتے ہیں؟زندہ قومیں صرف اپنے شہیدوں کو یاد نہیں کرتیں، ان کے کردار کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بناتی ہیں۔زندہ قومیں قانون کا احترام کرتی ہیں۔

امانت میں خیانت نہیں کرتیں۔مہمان کو عزت دیتی ہیں۔کمزور کو نہیں دباتیں۔اپنے اختیار کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہیں کرتیں۔اور سب سے بڑھ کر اپنے ملک کی عزت کو اپنی ذات کی عزت سمجھتی ہیں۔میں نے ننگبو میں ایک چھوٹی سی صفائی کرنے والی خاتون کو دیکھا تھا۔اس کے ہاتھ میں جھاڑو تھا۔اس کے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا۔لیکن اس کے کردار نے اس دن چین کا پرچم میرے سامنے بلند کر دیا تھا۔ہم پاکستان میں لاکھوں جھنڈے خریدیں گے۔کروڑوں روپے کی سجاوٹ ہوگی۔

عمارتیں سبز و سفید ہو جائیں گی۔بازاروں میں روشنی ہوگی۔لیکن یاد رکھیے:پرچم صرف ڈنڈے پر نہیں لہراتا، پرچم کردار میں بھی لہراتا ہے۔جھنڈے وہی خوبصورت لگتے ہیں جو دل سے لگائے جائیں۔اور جو جھنڈے دل سے لہراتے ہیں، انہیں ہوا بھی سلام کرتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے