اسکول سے معاشرے کی تعمیر تک

گلگت بلتستان مختلف مسالک، علاقوں، زبانوں، ثقافتوں، قبائل اور روایات کا حسین امتزاج ہے۔ شیعہ، سنی، اسماعیلی اور نوربخشی صدیوں سے یہاں آباد ہیں۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر اس خطے کی اصل خوب صورتی یہ ہے کہ لوگ مشترکہ معاشرتی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ تعلیم اس باہمی تعلق کو مزید مضبوط بنانے کا سب سے مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ ہمارے ہاں الیکشن ہوئے ہیں، کابینہ مکمل ہوگئی ہے اور وزیرِ تعلیم ایک نوجوان، پڑھے لکھے انسان منتخب کیے گئے ہیں۔ بحیثیت استاد سوچا کہ گلگت بلتستان کے اسکول و کالجز کے متعلق ایک خاص آئیڈیا وزیرِ تعلیم جناب امان علی صاحب اور محکمۂ تعلیم کے ساتھ شیئر کروں، تاکہ ہم ’’عملوا الصالحات‘‘ کی طرف عملی آغاز کر سکیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں اسکولز اور کالجز میں عموماً تعلیم کتاب، کلاس، امتحان اور نتیجے کے گرد گھومتی ہے۔ بچہ کتاب پڑھتا، امتحان دیتا اور اگلی جماعت میں چلا جاتا ہے۔ مگر کیا تعلیم کا مقصد صرف امتحان پاس کرنا ہے؟ میرے خیال میں نہیں۔ تعلیم کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ بچہ اپنے معاشرے کو سمجھے، اس کے مسائل پہچانے اور ان کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا سیکھے۔

اسی مقصد کے لیے نئے وزیرِ تعلیم گلگت بلتستان کے سامنے ایک سادہ، کم خرچ اور عملی منصوبہ رکھنے کی سعی کر رہا ہوں۔

One School, One Community Project

میرا اسکول، میرا معاشرہ

اس منصوبے کے تحت ہر سرکاری اسکول و کالج سال میں کم از کم ایک ایسا Community Project کرے جو اس کے اپنے علاقے کے کسی حقیقی مسئلے سے متعلق ہو۔ طلبہ و طالبات معاشرے کا ایک حقیقی مسئلہ منتخب کریں، اس پر تحقیق کریں، اعداد و شمار جمع کریں، مقامی لوگوں اور ماہرین سے گفتگو کریں، متعلقہ محکمے سے رابطہ کریں اور ممکنہ حل کو عملی شکل دینے کی کوشش کریں۔

مثلاً کسی گاؤں میں پانی کا مسئلہ ہے تو پانی کے ذرائع، استعمال، ضیاع اور مشکلات کا سروے کریں۔ بزرگوں سے ماضی کے پانی کے نظام کے بارے میں معلومات لیں، متعلقہ ماہرین سے بات کریں اور پانی بچانے کی عملی مہم شروع کریں۔

اسی طرح کسی دوسرے گاؤں کے اسکول کا منصوبہ صفائی، شجرکاری، کتب خانے، مقامی تاریخ، ثقافتی ورثے، سیاحت، گلیشیئرز، ماحولیات یا کسی دوسرے مقامی مسئلے سے متعلق ہوسکتا ہے۔ پھر اسی انداز میں کالجز بڑے لیول کے کچھ مسائل پر کام کریں۔

اصل بات موضوع نہیں بلکہ عملی تربیت ہے۔ ہمارے ہاں ایسے پروجیکٹس عموماً دفاتر تک مکمل ہوتے ہیں، کاغذ میں تو سب کچھ ہوتا ہے، عملاً کچھ نہیں۔ تو اس پروجیکٹ کا مطلب عملی تربیت ہونا چاہیے، صرف تصاویر اور کاغذ میں تکمیل نہیں۔ ہم نے بارہا دیکھا کہ کچھ اعلیٰ افسران فوری تصاویر اور رپورٹ بنا کر سینڈ کرنے کے احکامات جاری کرتے تھے، تاکہ آگے بڑے افسر اور محکمانہ گروپس میں شیئر کرکے داد و تحسین سمیٹیں۔ حقیقت میں گراؤنڈ میں کچھ نہیں ہوتا تھا، تاہم تصویر اعلیٰ حکام تک پہنچ جاتی تھی۔

اس منصوبے کا سب سے خوب صورت پہلو یہ ہوگا کہ مختلف مسالک، علاقوں، خاندانوں اور سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات ایک ہی Project Team میں مل کر کام کریں۔ انہیں مسلکی، قبائلی، لسانی اور علاقائی اختلافات پر بحث یا مناظرے کے بجائے کسی مشترکہ مسئلے کا حل تلاش کرنے کا موقع دیا جائے۔ یہی ترتیب کا بہترین راستہ ہوگا۔

ہم طلبہ و طالبات کو کتابوں میں رواداری، برداشت اور تعاون کے اسباق پڑھاتے ہیں، تقاریر کرتے ہیں۔ لیکن اگر ایک بچہ پورا سال اپنے سے مختلف پس منظر رکھنے والے بچوں کے ساتھ مل کر پانی کا مسئلہ حل کرے، درخت لگائے، کتب خانہ بنائے یا اپنے گاؤں کی تاریخ محفوظ کرے تو وہ رواداری اور تعاون پڑھے گا نہیں، جئے گا۔ اور ہمیں جینا چاہیے اور جینے کا گُر سیکھانا چاہیے۔

اس منصوبے کے لیے ہر اسکول میں ایک چھوٹی سی School Community Project Committee بنائی جاسکتی ہے، جس میں ہیڈ ٹیچر، چند اساتذہ، طلبہ اور کمیونٹی نمائندے شامل ہوں۔ استاد کا کردار حکم دینے والے کے بجائے Mentor کا ہو۔

طلبہ و طالبات کو اپنے گاؤں یا علاقے کا زندہ جاوید مسئلہ تلاش کرنے، سوالنامہ بنانے، انٹرویو لینے، معلومات جمع کرنے، اعداد و شمار مرتب کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی تربیت دی جائے۔ یہی تربیت زندگی بھر کام آئے گی۔

ایک اہم شرط یہ ہونی چاہیے کہ منصوبہ صرف فوٹو سیشن نہ بنے۔ ہر Project میں Before & After کا اصول ہو۔ اگر شجرکاری کی گئی تو کتنے پودے لگے اور کتنے زندہ رہے؟ اگر کتب خانہ بنایا گیا تو کتنی کتابیں جمع ہوئیں اور پڑھی گئیں؟ اگر پانی کی بچت کی مہم چلائی گئی تو کیا واقعی پانی کا ضیاع کم ہوا؟

میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ Activity نہیں، Impact۔ یعنی اسکول میں درخت لگانا، صفائی مہم چلانا، سیمینار کرنا یا کتابیں جمع کرنا اچھی سرگرمیاں ہیں، مگر اصل کامیابی سرگرمی کی تعداد نہیں، اس کے اثر میں ہے۔ سو درخت لگانے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ایک سال بعد ان میں کتنے زندہ ہیں، کتابیں جمع کرنے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کتنے بچوں نے انہیں پڑھا، پانی بچانے کی مہم سے زیادہ اہم یہ ہے کہ واقعی پانی کا ضیاع کتنا کم ہوا۔ ہمیں اپنے بچوں کو صرف Activity نہیں بلکہ Impact کی سوچ دینی ہے۔ یعنی ہر کام کے بعد یہ سوال ضرور ہو کہ:

’’ہم نے کیا کیا؟‘‘

سے آگے بڑھ کر:

’’ہم نے کیا بدلا؟‘‘

یہی سرگرمی کو تعلیم اور کوشش کو حقیقی تبدیلی میں بدل دیتا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے کیا بدلا؟

قرآنِ کریم ہمیں اسی عملی تبدیلی کی طرف متوجہ کرتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ

’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلیں۔‘‘ (الرعد، 11)

پیارے حبیب ﷺ نے بھی عمل کی قدر و قیمت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:

أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ

یعنی ’’اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے محبوب وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔‘‘

تو ہمارا بنیادی سوال ’’ہم نے کیا بدلا، کس کی زندگی میں بہتری آئی اور ہمارے کام کا معاشرے پر کیا اثر پڑا؟‘‘ یہی سوال تعلیم کو حقیقی تبدیلی میں بدلنے کا راستہ ہے۔

اس منصوبے کو نصاب سے الگ اضافی بوجھ بھی نہیں بنانا چاہیے۔ پانی کے منصوبے میں سائنس اور جغرافیہ، مقامی تاریخ کے منصوبے میں تاریخ، اردو اور انگریزی، ڈیجیٹل دستاویز سازی میں کمپیوٹر اور شہری منصوبوں میں سوشیالوجی اور شہریت وغیرہ شامل ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح دیگر تمام مضامین کو ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔

ابتدا میں گلگت بلتستان کے ہر ضلع کے چند سرکاری اسکولوں اور کالجز میں اسے Pilot Project کے طور پر شروع کیا جاسکتا ہے۔ کامیاب تجربات کے بعد پورے گلگت بلتستان میں پھیلایا جائے۔ سال کے اختتام پر بہترین منصوبوں کو ضلعی اور صوبائی سطح پر Community Schools & Colleges Awards بھی دیے جائیں۔

اس منصوبے کے لیے بہت بڑے بجٹ کی ضرورت نہیں۔ اصل سرمایہ طلبہ و طالبات، اساتذہ کرام اور کمیونٹی ہیں۔

ہمیں طلبہ و طالبات سے صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ’’اچھے شہری بنو‘‘، انہیں اچھا شہری بننے کا موقع بھی دینا چاہیے۔

انہیں مسئلہ دیکھنا، سوال اٹھانا، تحقیق کرنا، اختلاف کے باوجود مل کر کام کرنا اور حل تلاش کرنا سکھانا ہوگا۔

کیونکہ اصل تعلیم شاید وہ نہیں جو بچہ امتحان میں لکھتا ہے، اصل تعلیم وہ ہے جو وہ اپنی زندگی اور اپنے معاشرے میں کرکے دکھاتا ہے۔

اس لیے میری مختصر سی تجویز ہے کہ:

ہر اسکول ایک حقیقی مسئلہ منتخب کرے۔ ہر اسٹوڈنٹ اس کا حصہ بنے، ہر استاد رہنما بنے۔ ہر کمیونٹی شریکِ سفر بنے۔ اور ہر سال کم از کم ایک حقیقی مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

دو لائنوں میں یوں کہا جاسکتا ہے:

One School. One Community. One Problem. One Solution.

ایک اسکول، ایک معاشرہ، ایک مسئلہ، ایک مشترکہ حل۔

بہرحال، اس پر تفصیل سے گفتگو ہوسکتی ہے۔ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں اسکول اور کالجز سائٹ پر ایسے درجنوں ماہرین ہیں جنہیں یہ ذمہ داری دی جاسکتی ہے، تاہم پھر سے عرض ہے کہ یہ کاغذی اور تصویری نمائش پر مبنی نہ ہوں بلکہ مکمل عملی اور تربیتی ہو، اور میکنزم ایسا وضع کرنا ہوگا جس کے لیے شاید وزیرِ تعلیم کو خود عملی طور پر شریک ہونا ہوگا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے