اکبر ایس بابر کا غیر مصدقہ سیاسی دعویٰ اور حقائق

آج سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا اکبر ایس بابر کا یہ دعویٰ نظر سے گزرا کہ عمران خان نے جیل سے ان سے رابطہ کیا ہے۔

اکبر ایس بابر اور تحریک انصاف کے معاملات پر میری چونکہ گہری نظر رہی ہے اس لیے میں نے اس دعوے کی حقیقت جاننے کی کوشش کی، بطور غیر جانب دار صحافی میں نے اس معاملے کی حقیقت جاننے کے لیے تحریک انصاف کی موجودہ سینیئر قیادت کے علاوہ پارٹی کے بعض بانی اراکین سے بھی بات کی اور انہوں نے بھی اکبر ایس بابر کے اس دعوے کی تردید کی کہ عمران خان نے جیل سے انہیں کوئی پیغام بھیجا ہے۔

میں نے اس معاملے سے متعلق وہ تمام دستاویزات بھی دیکھی ہیں جو میرے پاس موجود ہیں اور جنہیں پارٹی کے مطابق عدالت میں بھی جمع کرایا جا چکا ہے، ان دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد معاملہ مزید دلچسپ ہو جاتا ہے۔

یکم جولائی 2010 کو تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے جاری کردہ سرکلر میں پارٹی ارکان کو واضح طور پر متنبہ کیا گیا کہ پارٹی کے اندرونی معاملات کے بارے میں پریس بیانات یا اجتماعی ای میلز کے ذریعے الزامات قابل قبول نہیں ہوں گے اور خلاف ورزی کی صورت میں عہدہ ختم کرنے کے ساتھ بنیادی پارٹی رکنیت بھی معطل یا ختم کی جا سکتی ہے۔
(ڈاکٹر عارف علوی کا سرکلر جولائی 2010 )

1-Dr. Arif Alvi-Circular-(August-2010).pdf

اس کے بعد 29 اگست 2011 کو نعیم الحق نے ڈاکٹر عارف علوی کو اکبر ایس بابر کے بارے میں ایک تفصیلی ای میل بھیجی جس میں ان کے رویے اور پارٹی قیادت کے خلاف مبینہ الزامات کا ذکر کیا گیا اور انہیں پارٹی کے عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کی گئی۔
(نعیم الحق کی ای میل 29 اگست 2011 )

4-Chairman’s PTI Imran Khan Email.pdf

اسی معاملے کے پس منظر میں عمران خان کی طرف سے 2 ستمبر 2011 کو اکبر ایس بابر کو ایک ای میل بھی موجود ہے جس میں عمران خان نے ان کے رویے پر سخت اعتراضات اٹھائے اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
(عمران خان کی ای میل 2 ستمبر 2011 )۔

4-Chairman’s PTI Imran Khan Email.pdf

3 ستمبر 2011 کو اکبر ایس بابر کو شوکاز نوٹس اور چارج شیٹ جاری کی گئی جس میں میڈیا معاملات میں ناکامی پارٹی قیادت سے اختلافات پارٹی کے اندر الزامات اور افواہوں کے پھیلاؤ اور قیادت کے ساتھ مبینہ نامناسب رویے سمیت متعدد الزامات شامل تھے۔
(چارج شیٹ 3 ستمبر 2011 )

3-Dr.Arif Alvi-Charge Sheet-Notification-Removing Akbar Babar.pdf

اکبر ایس بابر نے اس کے جواب میں 11 ستمبر 2011 کو عمران خان کے نام تفصیلی خط لکھا اور چارج شیٹ کو مسترد کرتے ہوئے پارٹی کے اندر مالی اور انتظامی معاملات سمیت متعدد سنگین الزامات عائد کیے
(اکبر ایس بابر کا جواب 11 ستمبر 2011 )۔

5-Akbar Babar Reply of Charges to IK.pdf

اس پورے معاملے کا سب سے اہم دستاویزی حصہ 26 ستمبر 2011 کا ڈاکٹر عارف علوی کا خط ہے جس میں واضح طور پر لکھا گیا کہ اکبر بابر کو 3 ستمبر 2011 کا شوکاز نوٹس دیا گیا تھا اور ان کے مسلسل پارٹی پالیسیوں اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے پیش نظر ان کی بنیادی پارٹی رکنیت مستقل طور پر منسوخ کی جاتی ہے۔
(اکبر ایس بابر کی رکنیت منسوخی کا خط 26 ستمبر 2011 )

AKbar s Babar Expulsion Letter.pdf

9 ستمبر 2013 کی دستاویز میں شیریں مزاری نے پارٹی کے اندر گردش کرنے والی ای میلز اور الزامات کا ذکر کرتے ہوئے پارٹی کے اندر اختلافات اور الزامات کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگر کسی کے پاس غلط کاری کا حقیقی ثبوت ہو تو اسے براہ راست چیئرمین کو دیا جانا چاہیے۔
(شیریں مزاری کی دستاویز 9 ستمبر 2013 )

4-Chairman’s PTI Imran Khan Email.pdf

پھر 4 اگست 2015 کو عمران خان کی جانب سے جاری کردہ ایک الگ سرکلر میں واضح کیا گیا کہ پارٹی کے اندرونی معاملات اور فیصلوں کو عوامی فورمز پر چیلنج کرنا سنگین خلاف ورزی ہے اور ایسا کرنے والے رکن کی بنیادی رکنیت معطل کی جا سکتی ہے۔
(عمران خان کا سرکلر 4 اگست 2015 )

IK-Notification- Go Public-2015.pdf

دستیاب دستاویزات اور دستیاب شواہد کی روشنی میں سامنے آنے والے حقائق سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اکبر ایس بابر کا تحریک انصاف کے ساتھ تعلق بہت پہلے ختم ہو چکا تھا اور انہیں پارٹی سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔

اب ایسے پس منظر میں یہ دعویٰ سامنے آتا ہے کہ عمران خان نے جیل سے اکبر ایس بابر کو پیغام بھیجا اور انہیں تحریک انصاف کے ناراض سینئر ارکان کو متحد کرنے کا ٹاسک دیا۔

یہ ایک غیر مصدقہ اور غیر معمولی دعویٰ ہے۔

موجودہ تحریک انصاف کی سینیئر قیادت اور پارٹی کے بعض بانی اراکین اس دعوے کی تردید کر رہے ہیں
میرے سامنے موجود دستاویزی ریکارڈ بھی اس مبینہ پیغام کی کوئی تصدیق نہیں کرتا۔

اس کے برعکس یہ ریکارڈ اکبر ایس بابر اور تحریک انصاف کی قیادت کے درمیان ایک طویل اندرونی تنازع کی تصویر پیش کرتا ہے۔

اس لیے بطور غیر جانب دار صحافی میرا سوال بہت سادہ ہے۔

اگر واقعی عمران خان نے جیل سے اکبر ایس بابر کو ایسا کوئی پیغام بھیجا ہے تو اس پیغام کا قابل اعتماد ثبوت سامنے آنا چاہیے۔

کیونکہ صحافت میں کسی دعوے کی اہمیت اس دعوے کی سنسنی میں نہیں بلکہ اس کے ثبوت میں ہوتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے