ہم آزاد ہیں

محمد انتصار الحق

شکر الحمدللہ ہم آزاد ہیں

خود مختار ہیں

شتر بے مہار ہیں

اپنی مرضی کے مالک ہیں

اپنے فیصلوں کے خالق ہیں

کوئی روکنے والا نہیں

کوئی ٹوکنے والا نہیں

کوئی پوچھنے والا نہیں

کوئی سمجھانے والا نہیں

جو دل چاہے کر سکتے ہیں

کسی کو جواب دہ نہیں

کسی کا ڈر نہیں

کسی کی پروا نہیں

کوئی شرم نہیں

کوئی حیا نہیں

کوئی جھجک نہیں

کوئی پریشانی نہیں

کوئی پشیمانی نہیں

کوئی حجاب نہیں

کوئی لحاظ نہیں

کوئی تردد نہیں

کوئی تکلیف نہیں

کیونکہ

ہم آزاد ہیں

گلی سے گزرنے والی عورت یا بچی کو دبوچ کر ہاتھ پھیر سکتے ہیں

ویرانے سے گزرنے والی یا موٹروے پر سفر کرنے والی عورت کی عزت لوٹ سکتے ہیں

کسی بھی عورت یا شخص کا گلا گھونٹ کر یا گولی مار کر ہلاک کر سکتے ہیں

کسی کی موٹر سائیکل یا گاڑی جب دل چاہے چھین سکتے ہیں

کسی کی دکان یا مکان پر جب طبیعت ہو قبضہ کر سکتے ہیں

موڈ اچھا نہ ہو تو اپنے شاگرد کو بلاوجہ فیل کر سکتے ہیں

اپنے سے کمزور کو چاہے وہ ویٹر ہو یا موچی زدوکوب کر سکتے ہیں

کسی پر بھی گستاخی کا الزام لگا کر مروا سکتے ہیں یا اندر کروا سکتے ہیں

صحافی ہیں تو پیسے لے کر یا اپنی مرضی سے جھوٹی خبر پھیلا سکتے ہیں

ڈاکٹر ہیں تو مریض کی کھال اتار سکتے ہیں

وڈیرے ہیں تو گاؤں کی بیٹیاں اٹھوا سکتے ہیں

مزارعوں ھاریوں کے گھروں کو جلا کر راکھ کر سکتے ہیں

سرکاری محکمے میں ہیں تو قانون سمیت ہر چیز پیروں تلے روند سکتے ہیں

صدر ہیں وزیراعظم ہیں یا کسی بھی پبلک پوسٹ پر ہیں تو پورے کے پورے شہر الٹ پلٹ کر رکھ سکتے ہیں

سیاست دان ہیں یا سیاسی جماعت ہیں تو سڑکیں اور راستے بند کر سکتے ہیں پھر چاہے کوئی ایمبولینس میں مر جائے یا بچے کو جنم دے دے

اجج ہیں تو ہتھوڑا مظلوم کے سر پر مار سکتے ہیں اور اپنی مرضی کا فیصلہ دے سکتے ہیں

پٹواری ہیں تو کسی کی زمین کسی کے نام کر سکتے ہیں

کاروباری ہیں تو دو نمبر مال بے دھڑک بیچ سکتے ہیں

مولوی ہیں تو اپنی مرضی سے لوگوں کے لیے جنت جہنم کی الاٹمنٹ کر سکتے ہیں

جب اور جہاں داؤ لگے جھوٹ بول سکتے ہیں بے ایمانی کر سکتے ہیں دھوکہ دے سکتے ہیں

کیونکہ

ہم آزاد ہیں

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے