کچھ زخم ایسے گہرے ہوتے ہیں جنہیں وقت کا مرہم بھی نہیں بھر پاتا اور کچھ جدائیاں ایسی لازوال ہوتی ہیں جن کا غم عمر بھر دل کی دھڑکنوں کو رلاتا رہتا ہے۔ آج پورے چھ برس بیت گئے… چھ طویل سال… لیکن دل آج بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ علم و حکمت کا وہ چمکتا ہوا سورج، وہ شفیق و دلنواز مسکراہٹ اور امت کا درد رکھنے والا وہ عظیم انسان ہم سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکا ہے۔
20 جون 2020ء کی وہ المناک گھڑی جب مفتی محمد نعیم صاحب رحمہ اللہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے وہ حقیقت میں صرف ایک انسان کا جنازہ نہیں تھا، بلکہ علم و عمل کے ایک عہد کا خاتمہ اور لاکھوں دلوں کے سر سے شفقت کے سائے کا اٹھ جانا تھا۔
دنیا میں نامور لوگ تو بہت ہوتے ہیں، لیکن عظمت کی بلندی پر پہنچ کر بھی چھوٹوں کو سینے سے لگا لینے والے نایاب ہوتے ہیں، مفتی صاحب کی شخصیت میں ایک عجیب مقناطیسی کشش تھی، مجھے ایک طویل عرصہ ان کی معیت اور رفاقت کا جو شرف ملا، وہ میری زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ اور مایہ ناز سعادت ہے۔ وہ اتنے شفیق، ملنسار اور وضع دار تھے کہ ان سے ملنے والا ہر شخص یہی محسوس کرتا تھا کہ مفتی صاحب شاید سب سے زیادہ محبت اسی سے کرتے ہیں۔
جب وہ اپنے مخصوص دھیمے اور دلنشیں لہجے میں گفتگو فرماتے، تو ایسا لگتا تھا جیسے روح کے زخموں پر کوئی پھاہا رکھ رہا ہو۔ ان کا وہ ہاتھ جو اکثر محبت سے کندھے پر پڑتا تھا اس کی تپش، تھپکی اور مخلصانہ احساس کو میں آج بھی اپنی روح کی گہرائیوں میں محسوس کرتا ہوں۔
علماء کا دنیا سے اٹھ جانا زمین کے اندھیرے ہونے کے مترادف ہے اور مفتی صاحب کا جانا میری بزمِ تمنا کا اجڑ جانا تھا۔ ان کا دل پورے عالمِ اسلام کے لیے دھڑکتا تھا، دنیا کے کسی بھی کونے میں مسلمانوں پر کوئی افتاد پڑتی، مفتی صاحب کی راتوں کی نیندیں حرام ہو جاتیں۔ وہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور یگانگت کے سچے داعی تھے، ان کی دور اندیشی اور فکری اعتدال کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے مدارس کے روایتی بند دروازوں کو جدید دنیا کے لیے کھولا اور میڈیا کا شعبہ قائم کیا تاکہ دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھے کہ اسلام امن، مروت اور اعتدال کا دین ہے۔
وہ انتہاپسندی کے خلاف ایک مضبوط چٹان اور محبتوں کے ایسے سفیر تھے جن کی حق گوئی کی گونج سرحدوں کے پار تک سنی جاتی تھی۔
مفتی صاحب رحمہ اللہ کی اسی عالمی و آفاقی سوچ کا مظہر وہ تاریخی اور بے مثال جدوجہد تھی جو انہوں نے غیر ملکی طلبہ (مہمانانِ رسولﷺ) کے لیے چھیڑی۔ جامعہ کی تاریخ کا وہ ایک انتہائی کٹھن اور آزمائش کا دور تھا جب بین الاقوامی دباؤ اور سخت حکومتی پالیسیوں کے باعث غیر ملکی طلبہ کے تعلیمی ویزوں پر اچانک سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں اور پاکستان میں موجود غریب الوطن طلبہ پر بھاری جرمانے عائد کر کے انہیں بے دخل کرنے کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ ایسے نازک اور مایوس کن حالات میں مفتی صاحب رحمہ اللہ ان مجبور طلبہ کے لیے ایک شفیق اور مضبوط باپ کی طرح کھڑے ہو گئے۔
انہوں نے اپنی گرتی ہوئی صحت اور پیرانہ سالی کی پروا کیے بغیر اسلام آباد کے ایوانِ اقتدار، وزارتِ داخلہ اور متعلقہ مقتدر حلقوں کے در کھٹکھٹائے۔ان کی آنکھوں میں اپنے ان غیر ملکی بچوں کے مستقبل کے لیے وہ تڑپ اور اضطراب تھا جس نے مقتدر حلقوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے اپنی انتھک جدوجہد، حکمتِ عملی اور مخلصانہ اثر و رسوخ کے ذریعے نہ صرف غیر ملکی طلبہ کے لیے تعلیمی ویزوں کی بحالی کو ممکن بنایا، بلکہ ان پر عائد کروڑوں روپے کے بھاری جرمانے بھی مکمل طور پر معاف کروائے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے اپنے دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے ان غریب الوطن طلبہ سے تحفظ اور سرپرستی کا جو وعدہ کیا تھا اسے اپنی زندگی ہی میں پورا کر کے دکھایا۔
وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے ان بچوں کی مسکراہٹیں بحال دیکھ کر رب کے حضور حاضر ہوئےاور ان کی اسی والہانہ محبت اور اخلاص کا نتیجہ ہے کہ آج جامعہ بنوریہ عالمیہ میں پاکستان کے تمام مدارس سے زیادہ غیر ملکی طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جو دنیا کے کونے کونے میں یہاں سے علم کا نور لے کر پھیل رہے ہیں۔
آج جب امتِ مسلمہ کو نت نئے فکری اور سیاسی بحرانوں کا سامنا ہے، تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور زبان پر بے اختیار یہ شعر آجاتا ہے:
دورِ خزاں میں ڈھونڈ رہا ہے چمن جسے
وہ کارواں کا میرِ سفر اب کہاں رہا
آج اگرچہ وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن ان کا فیض اور مشن زندہ ہے۔ ان کے لائقِ صد فخر صاحبزادگان، ڈاکٹر مفتی نعمان نعیم اور شیخ فرحان نعیم جس بہادری، خلوص، اور عالی ہمتی کے ساتھ اپنے عظیم والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں، اسے دیکھ کر دل کو بے پناہ تسلی ملتی ہے۔ انہوں نے جامعہ بنوریہ عالمیہ کے وقار کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اسے نئی بلندیوں سے روشناس کرایا۔ ان بیدار مغز صاحبزادگان کو دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ مفتی صاحبؒ آج بھی اپنے علمی جانشینوں کی صورت میں زندہ ہیں۔ اگرچہ مفتی صاحب کی ذاتی کمی کا جو خلا ہے وہ کائنات کا کوئی متبادل پُر نہیں کر سکتا، لیکن ان کے بیٹوں کا عزم دیکھ کر روح پکار اٹھتی ہے کہ "باپ کا شملہ اونچا تھا بیٹے نے بھی لازوال رکھا.
چھ سال گزر گئے، دنیا اپنے معمولات میں مصروف ہو گئی، جامعہ کے در و دیوار پر رونقیں اب بھی ہیں، لیکن میری آنکھیں آج بھی جامعہ کی اس خالی کرسی کو دیکھ کر بھر آتی ہیں جہاں وہ مربی و محسن بیٹھا کرتا تھا۔
مفتی صاحب سے وابستہ یادیں میرے دل کا اثاثہ ہیں اور ان کی تربیت میری زندگی کا حاصل۔ جب تک دم میں دم ہے محبت کا چراغ اس دل میں روشن رہے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبرِ انور پر کروڑوں رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے، انہیں جنت الفردوس کے باغوں میں سے ایک بہترین باغ بنائے، آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کے پسماندگان و جانشینوں کا سایہ سلامت رکھے۔ (آمین)