برصغیر کی سیاست میں بعض شخصیات محض انتخابی کامیابی یا اقتدار کی مدت کے باعث تاریخ کا حصہ نہیں بنتیں بلکہ وہ اپنے عہد کی فکری سمت، خارجہ حکمتِ عملی اور قومی خودشناسی کو ایک نئے زاویے سے متعین کر جاتی ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اسی قبیل کی شخصیت تھے۔ ان کی سیاست کو صرف داخلی نعروں، عوامی اجتماعات یا انتخابی معرکوں کے آئینے میں دیکھنا تاریخی ناانصافی ہوگی، کیونکہ ان کا اصل امتیاز اس تصورِ خارجہ میں پوشیدہ تھا جس نے پاکستان کو سرد جنگ کے دو قطبی عالمی نظام میں محض ایک تابع ریاست کے بجائے نسبتاً خودمختار سفارتی کردار دینے کی کوشش کی۔
عالمی سیاست اس وقت ایک نئے انتقالی دور سے گزر رہی ہے۔ امریکی یک قطبیت بتدریج کثیر قطبی نظام میں تبدیل ہو رہی ہے، چین معاشی و تزویراتی مرکزیت حاصل کر رہا ہے، روس اپنی جغرافیائی قوت کو ازسرِنو منظم کر رہا ہے، مشرقِ وسطیٰ نئی سفارتی صف بندیوں کا مشاہدہ کر رہا ہے اور ابھرتی ہوئی طاقتیں روایتی اتحادوں کے بجائے مفاد پر مبنی شراکت داری کو ترجیح دے رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا وہ ایک طاقت کے زیرِ اثر خارجہ پالیسی اختیار کرے یا متوازن سفارت کاری کے ذریعے مختلف عالمی مراکز کے ساتھ بیک وقت مؤثر تعلقات استوار کرے؟ یہی وہ سوال ہے جو نصف صدی قبل بھی پاکستان کے سامنے موجود تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی فکر کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی ریاستیں اگر اپنی خارجہ پالیسی کو مکمل طور پر بڑی طاقتوں کے مفادات کے تابع کر دیں تو ان کی سیاسی خودمختاری محض رسمی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ اسی تصور نے انہیں اسلامی دنیا کے باہمی تعاون، ترقی پذیر ممالک کی اجتماعی آواز اور چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی جانب متوجہ کیا۔ ان کی سفارت کاری کا بنیادی مقصد کسی ایک بلاک میں ضم ہونا نہیں بلکہ پاکستان کے لیے زیادہ سے زیادہ سفارتی گنجائش پیدا کرنا تھا۔
1971ء کے قومی سانحے کے بعد پاکستان داخلی انتشار، عسکری شکست اور سفارتی تنہائی کا شکار تھا۔ ایسے نازک مرحلے میں شملہ مذاکرات، جنگی قیدیوں کی واپسی، آئینی استحکام اور عالمی سطح پر پاکستان کی ازسرِنو نمائندگی ایسے اقدامات تھے جنہوں نے کم از کم ریاستی اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان فیصلوں پر مختلف آراء موجود ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ ایک شدید بحران کے بعد پاکستان کو دوبارہ عالمی سفارتی دھارے میں لانا آسان کام نہیں تھا۔
بھٹو کی شخصیت تضادات سے خالی نہیں تھی۔ ایک طرف وہ عوامی سیاست کو اشرافیائی دائروں سے نکال کر عام شہری تک لے آئے، سماجی اصلاحات کا بیانیہ تشکیل دیا، متفقہ آئین کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کیا اور خارجہ پالیسی میں نسبتاً خودمختار سوچ متعارف کرائی؛ دوسری طرف ان کے ناقدین انہیں اقتدار کے ارتکاز، سیاسی مخالفین کے ساتھ سخت رویے اور بعض غیر جمہوری طرزِ عمل پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ انہیں نہ مکمل ہیرو قرار دیتی ہے اور نہ مکمل طور پر مسترد کرتی ہے، بلکہ ایک ایسی پیچیدہ شخصیت کے طور پر دیکھتی ہے جس نے ریاستی تعمیر کے کئی اہم ابواب رقم کیے، مگر اپنی بعض سیاسی حکمتِ عملیوں کے باعث اختلافات بھی جنم دیے۔
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے ابتدائی سیاسی عزم کا ذکر بھی بھٹو کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ بھارت کے جوہری پروگرام کے بعد پاکستان میں دفاعی خودمختاری کی بحث نے نئی شدت اختیار کی، اور بھٹو نے قومی سلامتی کو طویل المدت تزویراتی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی۔ بعد کے ادوار میں سائنس دانوں، انجینئروں، عسکری قیادت اور مختلف حکومتوں نے اس پروگرام کو عملی شکل دی، لیکن اس کے سیاسی عزم کی بنیاد رکھنے میں بھٹو کے کردار کو عمومی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
آج جب پاکستان ایک بار پھر متوازن خارجہ تعلقات، علاقائی رابطوں، معاشی سفارت کاری اور جغرافیائی اہمیت کو معاشی قوت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو بھٹو کی بعض خارجہ ترجیحات ازسرِنو موضوعِ بحث بن رہی ہیں۔ چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری، مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ فعال روابط، مسلم دنیا میں سفارتی کردار اور بڑی طاقتوں کے درمیان توازن کی حکمتِ عملی موجودہ عالمی حالات میں بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ تاہم آج کا بین الاقوامی ماحول سرد جنگ کے دور سے مختلف ہے؛ اب صرف نظریاتی وابستگیاں کافی نہیں بلکہ معاشی استحکام، ٹیکنالوجی، توانائی، تجارتی راہداریوں اور داخلی سیاسی استحکام کو بھی خارجہ پالیسی کا لازمی جزو بنانا ہوگا۔
درحقیقت کسی بھی قومی رہنما کا اصل امتحان یہ نہیں کہ اس کے حق میں کتنے نعرے لگے، بلکہ یہ ہے کہ اس کی فکری میراث آنے والی نسلوں کے لیے کس حد تک رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی زندگی اسی معیار پر پرکھی جائے تو ان کے بعض نظریات، خصوصاً قومی خودمختاری، متوازن سفارت کاری، آئینی ریاست اور عوامی شرکت کے تصورات آج بھی علمی اور سیاسی مباحث میں زندہ ہیں۔ تاریخ کا انصاف شخصیات کو فرشتوں یا شیاطین میں تقسیم نہیں کرتا بلکہ ان کے کارناموں، کمزوریوں اور اثرات کو یکجا دیکھتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نصف صدی گزرنے کے باوجود بھٹو صرف ایک سیاسی یادگار نہیں بلکہ پاکستان کے ریاستی، آئینی اور جیوپولیٹیکل مکالمے کا ایک مستقل حوالہ بنے ہوئے ہیں۔