یہ بھی گزر جائے گا

کہتے ہیں کہ انسان کی اصل پہچان خوشحالی کے دنوں میں نہیں بلکہ آزمائش کے وقت ہوتی ہے۔ مشکل حالات یہ طے کرتے ہیں کہ کون واقعی آپ کا ہمدرد ہے، کون آپ کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہے، کون خاموشی توڑ کر حق کی آواز بنتا ہے، اور کون صرف تماشائی بنا رہتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ قومیں بھی انہی کٹھن اوقات میں اپنی شناخت، اتحاد اور کردار کا ثبوت دیتی ہیں۔

5 جون کو حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں بحث کو جنم دیا بلکہ عام عوام میں بھی بے شمار سوالات پیدا کیے۔ جب تقریباً تمام منتخب نمائندے اقتدار کا حصہ بن گئے اور مؤثر اپوزیشن کا کردار کمزور ہوتا دکھائی دیا، تو عام لوگوں نے خود اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے میدان میں آنے کا فیصلہ کیا۔ یوں گلیوں، محلوں، دیہات اور شہروں سے اٹھنے والی آوازیں ایک منظم عوامی تحریک میں ڈھل گئیں، جسے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نام سے جانا گیا۔

اس تحریک کی سب سے بڑی طاقت اس کی عوامی بنیاد تھی۔ یہ کسی ایک شخصیت، خاندان یا سیاسی جماعت کی تحریک نہیں تھی بلکہ وارڈ، یونین کونسل، تحصیل، ضلع اور پھر ڈویژن کی سطح پر عوام کی رضاکارانہ شمولیت سے منظم ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر عرصے میں اس نے ہزاروں لوگوں کو ایک مقصد پر متحد کر دیا۔ اس کا بنیادی مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عوامی مسائل، مہنگائی، بجلی کے نرخ، ٹیکسوں اور بنیادی حقوق کے حوالے سے آواز بلند کرنا تھا۔

اس تحریک کا ایک منفرد پہلو یہ بھی تھا کہ مختلف نظریات رکھنے والے لوگ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے۔ خودمختاری کے حامی افراد، جو پہلے حکومتی نظام سے دور رہتے تھے، انہوں نے بھی عوامی مسائل کے حل کے لیے اس جدوجہد میں حصہ لیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ جب مسئلہ عوام کے حقوق کا ہو تو نظریاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر بھی اتحاد ممکن ہے۔

اس عوامی دباؤ کے نتیجے میں بعض حکومتی اقدامات سامنے آئے، جن میں بجلی کے نرخوں میں کمی اور مالی امداد کے اعلانات شامل تھے۔ اس کے باوجود عوام کے کئی مطالبات بدستور زیرِ بحث ہیں، جن میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں سے متعلق مطالبہ بھی شامل ہے۔ اس معاملے پر مختلف آراء ہو سکتی ہیں، لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عوام چاہتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے اور ان کے مسائل کا حل آئینی اور جمہوری طریقے سے نکالا جائے۔

آج ہڑتال کا تیسرا ہفتہ بھی گزر چکا ہے۔ بھمبر سے مظفرآباد تک زندگی کا معمول متاثر ہے، لیکن عوام کے حوصلے میں کمی نہیں آئی۔ لوگ اپنے مطالبات کے حق میں پرامن انداز میں متحد کھڑے ہیں۔ یہی اتحاد کسی بھی جمہوری معاشرے کی اصل طاقت ہوتا ہے۔

تاہم افسوس اس بات کا ہے کہ اس تحریک کے دوران پاکستان میں بہت کم بااثر شخصیات نے اس معاملے پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ چند صحافیوں کے علاوہ نہ زیادہ میڈیا نے اس پر توجہ دی، نہ معروف فنکاروں، سماجی کارکنوں یا عوامی شخصیات نے عوام کے جمہوری حقِ احتجاج کی بھرپور حمایت کی۔ اختلافِ رائے ہر کسی کا حق ہے، لیکن کسی بھی پرامن اور جمہوری آواز کو مکمل خاموشی میں چھوڑ دینا ایک تشویش ناک رویہ ہے۔

اس سب کے باوجود ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ کوئی بھی مشکل ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔ آزمائشیں آتی ہیں، وقت بدلتا ہے اور حالات بھی تبدیل ہوتے ہیں۔ اصل کامیابی ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو صبر، اتحاد، برداشت اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہیں۔

میری تمام اہلِ کشمیر، اہلِ پاکستان، صحافیوں، دانشوروں، نوجوانوں اور سماجی کارکنوں سے درخواست ہے کہ شخصیت پرستی سے بالاتر ہو کر اصولوں، انصاف اور جمہوری اقدار کا ساتھ دیں۔ اختلاف کو دشمنی نہ سمجھیں، بلکہ اسے بہتری کا ذریعہ بنائیں۔ اگر آج ہم عوامی مسائل پر خاموش رہے تو آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ جب انصاف، آئین اور عوامی حقوق کی بات ہو رہی تھی تو ہم کہاں تھے۔

یاد رکھیں، مضبوط قومیں طاقت کے بل پر نہیں بلکہ انصاف، اتحاد، مکالمے اور عوام کے اعتماد پر قائم رہتی ہیں۔ اگر ہم اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی بات سننے، برداشت کرنے اور مسائل کا پرامن حل تلاش کرنے کی روایت کو فروغ دیں گے تو نہ صرف اپنے معاشرے کو مضبوط بنائیں گے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر مستقبل بھی چھوڑ جائیں گے۔

یہ وقت بھی گزر جائے گا، لیکن آج ہمارا کردار تاریخ کا حصہ بنے گا۔ اس لیے فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم خاموش تماشائی بنیں گے یا حق، انصاف اور عوامی شعور کی آواز۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے