دنیا کے ہر خطے کی کچھ خاص خوبیاں اور خامیاں اسے باقی علاقوں سے ممتاز اورمنفرد کرتی ہیں۔وادی سندھ کے ہند اور سندھ یعنی بھارت اور پاکستان میں کوئی خوبصورت نظر آئے،کوئی کارنامہ انجام دیکرنمایاں ہوجائے یا طاقت اور کھیل کے شعبوں میں آگے نکل جائے تو وہ حسد اور نفرت کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسے مواقع پرہمارے اس خطہ زمین پر اپنوں اور غیروں کی نظر لگ جاتی ہے اور اس نظر بد یا نظر حسد کا شکار ہوکر اُسکی پرواز میں کوتاہی پیدا ہوجاتی ہے اسلئے خیرخواہی کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ ہر وقت دعا کی جائے کہ اُسے نظر نہ لگ جائے۔ پنجابی میں اسی لئے اپنے ہیرو، پسندیدہ شخص یا اپنے عزیز کی حفاظت کیلئے یہ دعائیہ کلمات کہے جاتے ہیں
واراں مرچاں تے چُلھے پاواں
تینوں نظر نہ لگ جائے
(تمہارے سر پر سے مرچیں وار کریا گھما کر چولہے میں پھینک دوں کہ کہیں تمہیں نظر نہ لگ جائے) دراصل مرچیں جلانے سے نظر بد و حسد اُتر جانے کا تاثر قدیم روایت ہے جسکا ان کلمات میں اظہار ہے۔ہمارے ہاں کی ہر ماں کا بچہ چونکہ چندے ماہتاب اور چندے آفتاب ہوتا ہے اسلئے جب وہ نہا دھوکر تیار ہوتا ہے توماؤں کو فکر لاحق ہوجاتی ہے کہ کہیں اسے نظر نہ لگ جائے چنانچہ کہیں صدقہ اتارا جاتا ہے تو کہیں پھونکیں ماری جاتی ہیں، دعائیں پڑھی جاتی ہیں اور کہیں کالا ٹیکہ لگاکر بدنظری سے بچنے کا حیلہ کیاجاتا ہے ۔ گدڑی کا لعل ہو یا ریشم واطلس میں پلا ہم نفس، نظر سب کو لگتی ہے گورے، گندمی اور کالے کی اس میں کوئی قید نہیں ۔
گورے چونکہ ’اعلیٰ‘ اور’ برتر‘ مخلوق ہیں اسلئے گوروں کو نظر لگنے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں، اسی طرح داروغہ ہو یا آئی جی، بی ڈی ممبر ہو یا وزیرِ با تدبیر، ضلعی چیئرمین ہویاصوبائی وزیر اعلیٰ اور ملکی وزیر اعظم جب یہ مسند اقتدارپر متمکن ہوں تو انہیں نظر لگنے کا ہروقت امکان رہتا ہے اقتدار سے اترتے ہی چونکہ حسد ختم ہوجاتا ہے تو نظر لگنے کا امکان بھی ختم ہوجاتاہے،اکثر وفاقی وزیروں کو نظر لگنے کی شکایت سنی گئی ۔ماضی کے ایک وزیر اعظم کو بھی نظر لگی تھی اور پھر بڑی مشکل سے اسکی نظر اُتاری گئی پھر کہیں جاکر ملک پر چھائے سیاہ خوفناک بادل چَھٹے وگرنہ اسقدر طوفانی بارشوں کا امکان تھا کہ سیلاب ہی آجاتا۔
ہمارے ملوحہ( اس خطے کا قدیم ترین نام) میں موسم کا اثر ایسا ہے یا پھر کچھ شعاعیں ایسی ہیں کہ نظر لگنے میں دیر نہیں لگتی۔ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا میں یہ وبا موجود نہیں ۔ اسکی جوبھی سائنسی یا طبی وجہ ہو حقیقت یہ ہےکہ اگر کوئی جنوبی ایشیائی، یورپ ،امریکہ یا آسٹریلیا چلا جائے تو وہا ںاسے بھی نظر نہیں لگتی ۔ وہم ہوجائے تو الگ بات ہے ورنہ یہ نظر اس خطے کا مقامی مسئلہ ہے اور اس مسئلے کا حل بھی مقامی ہی ڈھونڈنا پڑے گا ۔ہمارے ہاں کے جادوگر اور جنوں کو ’’ کیل‘‘ کرنیوالے ماہر متفق ہیں کہ اس خطے کے جن سمندر پار جاکر اپنا اثر دکھانے میں ناکام رہتے ہیں شاید نظر کا معاملہ بھی یہی ہے کہ بیچاری سمندر کے پانیوں کو عبور نہیں کر پاتی ،یہ بھی جنوں کی طرح اسی خطے تک اثر انگیز ہے۔
یہ نظر ایسی وبال جان ہے کہ بچوں، جوانوں، بوڑھوں اور مرد و خواتین ہر ایک کو نشانہ بناتی ہے۔ ملوحہ کی خواتین اور لڑکیاں چونکہ مردوں اور لڑکوں سے کہیں زیادہ حسین، کہیں زیادہ عقلمند اور کہیں زیادہ بااثر ہیں اسلئے انکو نظر لگنے کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے جہاں نئے کپڑے پہنے، نظر لگنے کا امکان بڑھ گیا۔ جہاں میک اپ سجنے لگا وہاں حسد کی نظر بڑھنے لگی، مہنگی اور دلکش جیولری پہن لی تو مقابلے بازی کی سوچ شروع ہو گئی۔ یہ نظر نہ ہوتی تو خوبصورتی، فیشن، لباس، میک اپ اور مہنگے اور بہتر ہو جاتے اس انڈسٹری کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ بُری نظر ہے۔
یہ نظر بازی ، حسد بازی ، مقابلے بازی جو نظر لگنے سے موسوم ہے یہ تو ملوحہ یا پھر ایشیا کے کچھ خطوں تک محدود ہے مگر بدشگونی اور دنوںاور ساعتوں کا سعد و نحس ہونا دنیا بھر کا مسئلہ رہا ہے۔ 44 قبل مسیح ءمیں جب جولیس سیزر کو سینٹ کی سیڑھیوں پر قتل کیا گیا تو اس دن پندرہ مارچ تھی ، بعد ازاں Ides of Marchکے طور پر یہ دن بدشگون اور نحس گردانے گئے۔ تمام مغلوںبادشاہوں کو علم فلکیات کا شوق تھا مگر ہمایوںکے تو دن رات ستارہ شناسی اور ستاروں کے اثرات پر گفتگو اور مباحث میں گزرتے تھے،حد تو یہ تھی کہ اسکے لباس کا رنگ بھی ستاروں کی چال کے مطابق طے ہوتا تھا مگر المیہ یہ ہے کہ ہمایوںاپنی رصدگاہ یعنی ستارہ شناسی کی عمارت کی سیڑھیوں سے گر کر جاں بحق ہو گیا اور اسے یہ اندازہ نہ ہو سکاکہ آج ستاروں کی چال الٹی ہے اور اسکی جان لے سکتی ہے۔
نظر صرف انسانوں کو نہیں لگتی، سیاست، معیشت، سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں کو بھی لگ جاتی ہے۔ ماضی میں کئی جانیوالوں کو ایسی نظر لگی کہ وہ تخت اقتدار سے پھسل گئے کئی وفادار، تابع فرمان اور کئی لائق فائق کسی جادوگر یا جادوگرنی کے جادو کا شکار ہو کر ایسے بے وزن ہوئے کہ سنبھل نہ سکے۔ پچھلی حکومت جانے سے پہلے ہی پراسرار آوازوں نے یہ خبر دیدی تھی کہ تمہارا اقتدار جائیگا مگر پھر آجائیگا ابھی تم بے اختیار ہو پھر پورے اختیار اور طاقت سے آؤ گے آج تم صرف اس ملک کے لیڈر ہو دوبارہ آؤ گے تو عالم اسلام کے اردوان سے بھی بڑے لیڈر ہو گے۔
وہ وقت ایسا تھا کہ ہر کوئی ان پراسرار آوازوں پر یقین کرتا تھا۔ بتایا گیا تھا کہ آئی کو کوئی نہیںٹال سکتا مگر اچھے دن جلد آئیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ ملوحہ میں بد نظر ، ساحر ، جادوگر اور تماشہ گر بہت ہیں جواکثر خفیہ رہتے ہیں ایسے ہی کسی ساحر نے پر اسرار آواز کی پیشگوئیوں پر روحانی بندش لگادی ایک واقف حال کے مطابق اس واقعہ میں بھی کمال بد نظری اور حسد ہے جس نے مستقبل کے منصوبوں پر خاک ڈال دی ۔
سنا ہے کہ پر اسرار آوازوں پر یقین رکھنے والا بار بارپوچھتا ہے’’ اے مرشد، پیش گوئیاں کب پوری ہونگی‘‘ مرشد کے ہاتھ چومتا ہے تو وہی پر اسرار آواز آتی ہے سونا کندن بن رہا ہے بد نظری کا علاج وظیفے اور عبادت سے ممکن ہے، وہ ہورہا ہے اور اسکے نتائج جلد ہی نکلیں گے، اب بری نظر صاحبان اقتدار کو لگے گی اور پر اسرار آواز انکے پاؤں کے نیچے سے تخت سرکائے گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ نظر بد کارگرہوگی، جادو چلے گا یا پھر روحانیت کی کارفرمائی ہوگی۔
اقتدار کے ایوانوں کے مینار سربلند ہوتے ہیں ان کے سرِمبارک بھی عام سر نہیں ہوتے ان پر کلغی ہوتی ہے انکی چال بھی عام نہیں طرحدار ہوتی ہے ان کی گفتگو بھی رعب داب والی ہوتی ہے یہ مینار، کلغی دار،طرحدار اور رعب دار جو بھی دعویٰ کرلیں بس یہ ایک بری نظر کی مار ہیں۔ ملوحہ میں سب اہل اقتدار کو نظر ہی کھا گئی حکومت تو ہر کوئی اچھی ہی چلا رہا ہوتا ہے بس قصور نظرِبد کا ہوتا ہے۔
’’تینوں نظر نہ لگ جائے‘‘
بشکریہ جنگ