گلگت بلتستان کے فرزند باوقار، جناب امجد حسین صاحب کو منصبِ وزارتِ اعلیٰ پر انتخاب کی دلی مبارک باد۔
یہ منصب محض اقتدار کی مسند نہیں اور نہ ہی پھولوں کی سیج ، بلکہ تاریخ کے سامنے ایک ایسا عہد ہے جس کی سطریں قلم نہیں، کردار تحریر کرتا ہے۔ جی ہاں کردار!
جناب مکھیہ منتری صاحب !
صاحبان دل اور اہل بصیرت بتاتے ہیں کہ اقتدار کی آب و تاب چند روزہ ہوتی ہے، مگر عدل کی روشنی صدیوں تک قوموں کی راہوں کو منور رکھتی ہے۔
خوش نصیب وہ حکمران ہوتا ہے جو چاپلوسوں کے ہجوم سے زیادہ حق گو مشیروں کی آواز سنتا ہے، اور وقتی مقبولیت کے بجائے دائمی وقار کو اپنا سرمایہ بناتا ہے۔ حکمرانی پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا سفر ہے، حکمرانی کا سب سے بڑا امتحان مخالفین کو زیر کرنا نہیں، بلکہ اپنے نفس، اپنی جماعت اور اپنے گرد جمع مفاد پرست حلقوں پر قانون اور انصاف کی برتری قائم کرنا ہے۔
خیر الحاکمین سے دعا ہے کہ آپ کا عہد قیادت شخصیات کے حصار سے نکل کر اداروں کی استواری، سفارش کے اندھیروں سے بلند ہو کر میرٹ کی روشنی،اور نعروں کی گونج سے آگے بڑھ کر عملی خدمت کی شناخت بن جائے۔
"اے ناخدائے گلگت بلتستان”
اگر اتنا یاد رکھ سکیں تو کافی ہوگا کہ
تاریخ تاج و تخت کی چمک دمک نہیں گنتی، بلکہ کردار کی صداقت اور عدل کی تابندگی کو اپنے اوراق میں محفوظ رکھتی ہے۔ اور قومیں خطیبوں کو نہیں، اپنے زخموں پر مرہم رکھنے والے قائدین کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔
اب آپ ہی بتلائیں، آپ نے کہاں کھڑا ہونا ہے؟
احکم الحاکمین! آپ کو بصیرت حکمرانی، استقامت کردار اور امانت و دیانت کے ساتھ اس عظیم ذمہ داری کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔