لاہور میں پولیس کی مبینہ حراست میں جاں بحق دونوں خواتین کی لاشیں پاکپتن پہنچا دی گئیں۔
جاں بحق دونوں خواتین نند بھاوج اور پاکپتن کی بستی غوث نگر کی رہائشی تھیں، دونوں خواتین کو قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا، اس دوران پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ دونوں خواتین چونگی امر سدھو لاہور میں رہتی تھیں اور پینسلیں فروخت کرتی تھیں۔
پولیس کی مبینہ حراست میں جاں بحق خاتون انمول کے والد نے ’میڈیا‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بچیاں 4 اگست کو صبح 8 بجے کام پر گئی تھیں، پولیس نے 5 اگست کو اطلاع دی کہ دونوں بچیاں ڈکیتی کے الزام میں پکڑی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری خواتین بچیوں کو لینے تھانے گئیں تو پولیس نے بتایا کہ انہیں جیل بھجوا دیا ہے، ایف آئی آر لے جاؤ اور کل اپنی بچیوں کی ضمانت کروا لینا۔
انمول کے والد نے بتایا کہ پولیس نے ہمیں کسی اور کی ایف آئی آر پکڑا دی تھی، پولیس نے رات 8 بجے دوبارہ کال کی کہ دونوں بچیاں فوت ہو گئیں، لاشیں لے جاؤ۔
انمول کے ماموں کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس فوٹیج موجود ہے کہ خواتین صحیح سلامت تھانے گئی تھیں، ہمیں انصاف نہیں دیا جا رہا، پولیس معاملہ دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس نے کہا کہ ہماری دونوں لڑکیاں منشیات استعمال کرتی تھیں، جبکہ ہماری بچیاں محنت مزدوری کرتی تھیں، منشیات استعمال نہیں کرتی تھیں۔
واضح رہے کہ لاہور کے تھانے ٹاؤن شپ پولیس نے خواتین کو 4 اگست کو چوری کے الزام میں حراست میں لیا تھا، دونوں خواتین 5 اگست کو تھانے میں مردہ حالت میں ملی تھیں۔