نئے گھر کی دعوت

گزشتہ سال کے شروع میں ہماری گائے نے بچھڑا دیا تو ہم نے یہ عہد کیا کہ یہ بچھڑا گھر کی دعوت / صدقہ کے لیے پال لیا جائے۔ یوں ڈیڑھ سال ہم نے اس کی خصوصی خدمت کی اور پھر وہ بہترین موٹا تازہ ہوا۔

5 اگست کی رات کو ہم نے اسے ذبح کیا اور دعوتوں کا سلسلہ شروع کیا۔

آج 6 اگست دن کو اپنے تمام ہمسایوں، قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو فیملی سمیت دعوت دی۔ آج رات کو پڑی بنگلہ کے جملہ علماء کرام، قراء عظام اور دیگر کچھ خاص علماء و احباب کی دعوت ہے۔ اللہ نے چاہا تو دو مزید دعوتیں ہوں گی۔ ان میں ایک دعوت میرے کچھ رشتہ داروں اور خصوصی احباب کی ہوگی اور ایک دعوت میرے گوہرآباد کے کلاس فیلوز کی ہوگی۔

بہرحال، مجھ سمیت میرے گھر والوں کو دعوت کا اہتمام کرکے خوب مزہ آتا ہے، اور دعوت بھی نئے گھر کی ہو تو مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ ہم ہمیشہ دعوت کرکے خوشیاں مناتے ہیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ مہمان نوازی ہماری دینی، معاشرتی اور خاندانی روایات کا حسین ترین باب ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا

"جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔” (صحیح بخاری، )۔ مہمان اپنے ساتھ رزق لے کر آتا ہے اور جاتے ہوئے میزبان کے لیے دعائیں اور برکتیں چھوڑ جاتا ہے۔ اس لیے ہمارے بزرگ مہمان کو رحمتِ الٰہی کا پیامبر سمجھتے تھے۔ اور ہم اس روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس دعوت کے پیچھے صرف نئے گھر کی خوشی نہیں بلکہ صدقے کی نیت بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو نعمتِ رزق، گھر اور وسعت عطا فرمائی، اس پر اس کا شکر ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اس کی راہ میں خرچ کیا جائے، رشتہ داروں، پڑوسیوں، دوستوں اور اہلِ علم کو یاد رکھا جائے، اور خوشیاں دوسروں کے ساتھ بانٹی جائیں۔ صدقہ نہ صرف مال کو پاکیزہ کرتا ہے بلکہ گھروں میں خیر و برکت، دلوں میں محبت اور معاشرے میں اخوت پیدا کرتا ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا ایک نمایاں وصف بھی یہی تھا کہ وہ مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ تھے۔ قرآنِ کریم میں ان کے معزز مہمانوں کا تذکرہ آتا ہے کہ انہوں نے مہمانوں کی آمد پر فوراً ایک عمدہ، موٹا تازہ بچھڑا بھون کر ان کے سامنے پیش کیا۔ یہی سنتِ ابراہیمی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مہمان کی عزت، فراخ دلی اور خوش دلی سے خدمت کرنا اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کا شیوہ ہے۔ اگر ہمارے گھروں میں بھی یہ روایت زندہ رہے تو محبتیں بڑھیں گی، رشتے مضبوط ہوں گے اور گھروں میں برکتیں نازل ہوں گی۔

ہماری بھی یہی کوشش ہے کہ اس نئے گھر کی بنیاد اینٹ، پتھر اور سیمنٹ کے ساتھ ساتھ محبت، صلہ رحمی، مہمان نوازی، شکرگزاری اور دعاؤں پر رکھی جائے۔ اللہ تعالیٰ اس گھر کو خیر، برکت، امن، سکون اور دینی و دنیاوی خوشیوں کا گہوارہ بنائے، اور ہمیں ہمیشہ اپنے دیے ہوئے رزق میں دوسروں کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آپ احباب بھی دعوت تناول کرنا چاہتے ہیں تو "حقانی ہاؤس” ، پڑی بنگلہ تشریف لائیں۔ آپ جب بھی آئیں گے، دعوت ہی ہوگی۔ ان شاء اللہ، آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ سعادت ہوگی، کیونکہ اپنے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک دسترخوان پر روٹی توڑنے کی لذت دنیا کی بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ اور آپ کی تشریف آوری سے ہم یہ لذت بار بار محسوس کرنا چاہتے ہیں تو
اہلاً وسہلاً ومرحباً!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے