پریس کی آزادی کے تحفظ کے لیے حکومتی نوٹیفکیشن فوری واپس لینے کا مطالبہ
اسلام آباد: ڈیجیٹل میڈیا الائنس آف پاکستان (DigiMAP) نے وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹیفکیشن کی شدید مذمت کی ہے جس کے تحت غیر ملکی صحافیوں اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ پاکستانی صحافیوں کی ملک کے مختلف علاقوں میں نقل و حرکت کو پیشگی اجازت سے مشروط کر دیا گیا ہے۔
جمعرات کے روز جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں ڈیجی میپ کے صدر سبوخ سید اور سیکرٹری جنرل عدنان عامر نے اس اقدام کو آزادیٔ صحافت، شفافیت اور پاکستان کی جمہوری ساکھ کے لیے ایک سنگین دھچکا قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس نوٹیفکیشن کے نتیجے میں نہ صرف غیر ملکی نامہ نگار ملک کے بیشتر علاقوں میں آزادانہ طور پر رپورٹنگ سے محروم ہو جائیں گے بلکہ بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لیے کام کرنے والے پاکستانی صحافیوں پر بھی وہی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں، جس سے ان کے لیے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی انتہائی مشکل ہو جائے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ:
"آزاد صحافت اس ماحول میں فروغ نہیں پا سکتی جہاں صحافیوں کو معلومات اور عوامی اہمیت کے حامل مقامات تک رسائی سے محروم کر دیا جائے۔ ایسی پابندیاں شفافیت کو نقصان پہنچاتی ہیں، عوام کے حقِ معلومات کو محدود کرتی ہیں اور جمہوری اداروں پر اعتماد کو کمزور کرتی ہیں۔”
ڈیجی میپ کی قیادت نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس فیصلے سے عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص مزید متاثر ہوگا، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک جمہوری اقدار کے فروغ اور عالمی سطح پر آزادیٔ صحافت کے حوالے سے اپنی ساکھ بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ان پابندیوں کے باعث بین الاقوامی میڈیا اداروں میں خدمات انجام دینے والے پاکستانی صحافیوں کے روزگار اور پیشہ ورانہ مستقبل پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ مختلف علاقوں تک رسائی نہ ہونے کی صورت میں وہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہیں کر سکیں گے۔
ڈیجی میپ نے اس امر پر زور دیا کہ قومی سلامتی اور آزادیٔ صحافت ایک دوسرے کی متضاد نہیں بلکہ تکمیلی اقدار ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ میڈیا سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل صحافتی تنظیموں اور میڈیا اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرے۔
ڈیجی میپ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لے، منظور شدہ صحافیوں کی آزادانہ پیشہ ورانہ نقل و حرکت بحال کرے، اور آئینِ پاکستان کے تحت آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت کے اپنے عزم کا عملی ثبوت دے۔
بیان کے اختتام پر ڈیجی میپ نے واضح کیا کہ آزاد اور خودمختار صحافت شفاف، جوابدہ اور جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر حکومت نے یہ پابندیاں واپس نہ لیں تو ڈیجی میپ میڈیا تنظیموں، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد صحافیوں کے حقوق اور آزادیٔ صحافت کے تحفظ کے لیے تمام جمہوری اور قانونی راستے، بشمول پرامن احتجاج، اختیار کرے گا۔