نیپال سیکولر ریاست ہندوتوا کے نرغے میں

جن معاشروں میں نفرت کو نظریہ، مذہب کو سیاست اور اکثریت کو طاقت کا استعارہ بنا دیا جائے، وہاں سب سے پہلے انسان مرتا ہے، پھر انصاف، اور آخر میں ریاست کی اخلاقی ساکھ۔ نیپال، جو کبھی مذہبی رواداری اور پرامن بقائے باہمی کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج اسی نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں فرقہ وارانہ کشیدگی اس کی سیکولر شناخت کو چیلنج کر رہی ہے۔

حالیہ فسادات محض چند گلیوں میں ہونے والے تصادم کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسے رجحان کی علامت ہیں جو اگر بروقت نہ روکا گیا تو پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ انسانی جانوں کا ضیاع، عبادت گاہوں اور املاک کو نقصان، خوف زدہ شہری اور کرفیو میں جکڑے شہر اس تلخ حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ نفرت کی چنگاری جب بھڑکتی ہے تو وہ کسی ایک مذہب یا طبقے تک محدود نہیں رہتی۔

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ آخر نیپال میں ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ جنوبی ایشیا میں ہندو قوم پرستی کے بڑھتے ہوئے بیانیے اور اس سے وابستہ نظریات نے خطے کے مختلف حصوں میں انتہا پسند عناصر کو فکری تقویت دی ہے۔ ان انتہا پسند عناصر نے نیپال کی سیکولر شناخت کو کمزور کرکے اسے ایک مذہبی ریاست (ہندوتوا) کی سمت دھکیلنے کا تصور پیش کیا۔

یہ امر بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ مذہبی قوم پرستی جب سیاسی مفادات کے ساتھ جڑ جائے تو معاشروں میں برداشت کی جگہ تعصب، مکالمے کی جگہ تصادم اور انصاف کی جگہ طاقت لے لیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ انتہاپسندی کسی ایک مذہب یا قوم کی نمائندہ نہیں ہوتی، بلکہ وہ ہر اس معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے جہاں قانون سے زیادہ ہجوم کی آواز کو اہمیت دی جانے لگے۔

نیپال کی اصل طاقت اس کی مذہبی اور ثقافتی تنوع میں ہے، نہ کہ کسی ایک شناخت کے غلبے میں۔ اگر ریاست اپنی آئینی ذمہ داری کے مطابق تمام شہریوں کے جان و مال، مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کا مساوی تحفظ یقینی بناتی ہے، تو یہی اس بحران کا سب سے مؤثر جواب ہوگا۔ انصاف اگر غیر جانبدار ہو، قانون اگر بلاامتیاز نافذ ہو، اور نفرت انگیز سیاست کو اگر ریاستی سرپرستی کے بجائے قانونی مزاحمت کا سامنا ہو، تو امن کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

نیپال کے حالیہ فسادات صرف نیپال کا داخلی معاملہ نہیں، بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے ایک سنجیدہ تنبیہ ہیں۔ جب مذہب کو سیاسی ہتھیار بنایا جاتا ہے تو سرحدیں محفوظ نہیں رہتیں، بلکہ پورا خطہ عدم استحکام کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ مذہبی آزادی، آئینی بالادستی اور انسانی وقار کو ہر قسم کی سیاسی یا فرقہ وارانہ مصلحت پر ترجیح دی جائے۔

تاریخ یہ سبق بار بار دہراتی ہے کہ ریاستیں نفرت سے نہیں، انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں اور قومیں اکثریت کی طاقت سے نہیں، بلکہ تمام شہریوں کے مساوی حقوق کے احترام سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر نیپال نے اپنی سیکولر روح، آئینی اصولوں اور قانون کی حکمرانی کو مضبوطی سے تھام لیا تو وہ اس آزمائش سے سرخرو ہو سکتا ہے، بصورتِ دیگر فرقہ واریت کی آگ صرف ایک ملک نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے