بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمده ونصلي على رسوله الكريم، أما بعد!
معزز صدرِ محفل، جناب ڈائریکٹر صاحب، میرے عزیز طلبہ، معزز سامعین اور ریڈیو پاکستان کے ذریعے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پروگرام سننے والے تمام خواتین و حضرات!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
سامعین محترم
اسلام ایک ایسا آفاقی دین ہے جس نے انسان کو صرف اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم نہیں دی بلکہ بندوں کے حقوق کو بھی ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا۔ عبادت، اخلاق، معاملات اور معاشرت، یہ سب اسلام کے جامع نظام کے اجزاء ہیں۔ انہی معاشرتی تعلیمات میں ایک عظیم تعلیم صلۂ رحمی اور قرابت داروں پر خرچ کرنا ہے۔
بدقسمتی سے آج ہمارے سماج میں رشتے کمزور ہو رہے ہیں، خاندان بکھر رہے ہیں، والدین تنہا ہیں، بیوہ بہنیں مشکلات کا شکار ہیں، یتیم بھتیجے اور بھانجے وسائل سے محروم ہیں، جبکہ ہم دور دراز علاقوں میں خیرات بھیجنے کو تو بڑی نیکی سمجھتے ہیں، مگر اپنے خاندان کے مستحق افراد کو اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی ہمارے معاشرے کا کڑوا سچ ہے۔
حالانکہ نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا کہ اگر صدقہ اپنے محتاج رشتہ دار پر کیا جائے تو اس میں دوہرا اجر ہے ” ایک صدقے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔” (بخاری 1466)
سامعین محترم
آج گفتگوئے سخن بھی اسی عظیم اسلامی تعلیم پر مشتمل ہے۔
صلہ رحمی کا مفہوم
عربی زبان میں رشتہ داری کو جوڑنے کے لیے "صلة الرحم” کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔
علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
والرَّحِمُ: الأقارب، وهم مَن يجمعهم نسبٌ.
"رحم سے مراد وہ تمام رشتہ دار ہیں جنہیں نسب باہم جوڑتا ہے۔” (فتح الباري، ج10، ص414)
مشہور محدث و فقیہ ملا علی قاری رحمہ اللہ کے مطابق
صلہ رحمی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے رشتہ داروں (نسبی اور سسرالی) کے ساتھ احسان کرے، ان کی خبرگیری کرے، ان کی مالی و اخلاقی مدد کرے، ان سے حسن سلوک کرے اور ان کے حقوق ادا کرے۔ ( رزق کی کنجیاں،ص: 51، بقلم ڈاکٹر فضل الہی)
یوں صلہ رحمی صرف ملاقات کا نام نہیں بلکہ محبت، خدمت، تعاون، خیر خواہی اور ایثار کا جامع عنوان ہے۔
قرآن کریم میں صلہ رحمی کی اہمیت
قرآن مجید نے بار بار رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا
” اور اللہ سے ڈرتے رہو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتہ داریوں کا بھی خیال رکھو، بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے۔” (سورۃ النساء: 1)
اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ﴾
"قرابت دار کو اس کا حق دو، اور مسکین اور مسافر کو بھی۔” (سورۃ الروم: 38)
ایک اور مقام پر ارشاد ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى﴾
"بے شک اللہ انصاف، احسان اور رشتہ داروں کو ان کا حق دینے کا حکم دیتا ہے۔” (سورۃ النحل: 90)
یہی وجہ ہے کہ مفسرین لکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر صلہ رحمی اور اہل قرابت کے حقوق کا ذکر آیا ہے، جن میں سورۃ البقرہ، النساء، النحل، الروم، بنی اسرائیل، الانفال، الحشر اور دیگر سورتیں شامل ہیں۔
صلہ رحمی کی عظمت احادیث نبوی ﷺ کی روشنی میں
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ الرَّحِمَ شجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ اللَّهُ: مَنْ وَصَلَكِ وَصَلْتُهُ، وَمَنْ قَطَعَكِ قَطَعْتُهُ
ترجمہ: "رشتہ داری رحمن کی صفت سے تعلق رکھنے والی ایک شاخ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو تجھے جوڑے گا میں اسے اپنی رحمت سے جوڑ دوں گا، اور جو تجھے کاٹے گا میں اسے اپنی رحمت سے کاٹ دوں گا۔” (صحیح بخاری، 5988)
ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہے۔
الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمٰنُ، ارْحَمُوا مَنْ فِي الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ مَنْ فِي السَّمَاءِ
ترجمہ: "رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم فرماتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔” (جامع ترمذی، 1924۔)
سامعین محترم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان احادیث سے چند بنیادی اصول سامنے آتے ہیں کہ
1۔ صلہ رحمی اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
2۔ قطع رحمی اللہ کی ناراضی کا سبب ہے۔
3۔ رحمتِ الٰہی انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو بندوں پر رحم کرتے ہیں۔
4۔ معاشرے میں محبت، اخوت اور استحکام کی بنیاد صلہ رحمی ہے۔
عزیز طلبہ
ایک سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اصل صلہ رحمی کیا ہے؟
اس سوال کا جواب ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان میں ہی دیتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا
لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِی، وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا
ترجمہ: "حقیقی صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلے میں صلہ رحمی کرے، بلکہ اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جو قطع تعلق کے باوجود رشتہ جوڑے۔”(صحیح بخاری، حدیث: 5991)
سامعین کرام
رسول اللہ کا یہ فرمان ہمارے معاشرے کے لیے آئینہ ہے۔ آج معمولی اختلافات، وراثت کے جھگڑے، کاروباری تنازعات اور انا کی بنیاد پر برسوں تک رشتہ دار ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے، حالانکہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں تعلق جوڑنے کی تعلیم دی ہے، توڑنے کی نہیں۔
سیرت نبوی ﷺ سے پہلا روشن نمونہ
جب رسول اللہ ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ ﷺ غارِ حرا سے واپس تشریف لائے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کی دلجوئی کرتے ہوئے جو الفاظ کہے، وہ دراصل آپ ﷺ کے عظیم اخلاق کا بہترین تعارف ہیں۔
ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے وہ کلمات بار بار سننے کے لائق ہیں۔ذرا اصل الفاظ ہی ملاحظہ کیجیے۔
كَلَّا وَاللَّهِ، مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتُقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ
ترجمہ:
"اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، آپ تو کنبہ پرور ہیں، بے کسوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، محتاجوں کی مدد کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے کاموں میں لوگوں کی اعانت کرتے ہیں۔” (صحیح بخاری، حدیث: 3؛ صحیح مسلم، حدیث: 160)
قابل قدر سامعین
ذرا سا غور کیجیے! نبوت ملنے سے پہلے بھی رسول اللہ ﷺ کی نمایاں صفات میں سب سے پہلے جن اوصاف کا ذکر کیا گیا، ان میں صلہ رحمی شامل ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنا صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ نبوی کردار کا بنیادی ستون ہے۔ اور پھر ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی یہ کرکے دکھایا ہے۔
قرابت داروں پر صدقہ: دوہرا اجر
عزیز طلبہ
جیسا کہ شروع میں عرض کیاتھا، اسلام نے صدقہ و خیرات کی بہت فضیلت بیان کی ہے، لیکن اگر صدقہ کسی مستحق رشتہ دار پر کیا جائے تو اس کی فضیلت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ اس میں دو عبادتیں جمع ہو جاتی ہیں یعنی صدقہ اور صلۂ رحمی۔
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ: صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ
ترجمہ: "مسکین پر صدقہ صرف صدقہ ہے، لیکن رشتہ دار پر صدقہ دو اجر رکھتا ہے: ایک صدقے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔” (جامع ترمذی، 658)
یہ حدیث اسلامی معاشرت کا ایک بنیادی اصول بیان کرتی ہے کہ اگر خاندان میں کوئی مستحق موجود ہو تو اس کی مدد کرنا دوسروں پر خرچ کرنے سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے، بشرطیکہ وہ زکوٰۃ کا مستحق ہو اور اس پر زکوٰۃ دینے میں شرعی ممانعت نہ ہو (مثلاً اصول و فروع کا مسئلہ)۔
ادائے حقوق میں اسلامی ترتیب
یہ بات مسلم ہے کہ اسلام دین فطرت ہے اور آفاقی نظام حیات کی بات کرتا ہے۔ اسلام نے مالی ذمہ داریوں کی ایک نہایت متوازن ترتیب مقرر کی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
یسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ ، قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ
ترجمہ: "وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجیے: جو بھی مال خرچ کرو، وہ والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو۔” (سورۃ البقرۃ: 215)
سامعین محترم
اس آیت مبارکہ میں غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے والدین، پھر قریبی رشتہ داروں کا ذکر فرمایا۔ گویا اسلامی معاشرے کی ابتدا خاندان اور قرابت داروں سے ہوتی ہے۔
اسی مضمون کو رسول اللہ ﷺ نے مزید واضح فرمایا۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
ابْدَأْ بِنَفْسِكَ، فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ، فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِكَ شَيْءٌ فَلِذِي قَرَابَتِكَ۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: "اپنے آپ سے آغاز کرو، پھر اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو، اگر اس کے بعد کچھ بچے تو اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرو، پھر اس کے بعد دوسروں پر۔” (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، حدیث: 997)
یہ ترتیب ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام جذباتی نہیں بلکہ انتہائی متوازن معاشی نظام پیش کرتا ہے۔
حضرت ابوطلحہؓ کا عظیم واقعہ
قرابت داروں پر خرچ کرنے کی بہترین مثال حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ ہیں۔
ان کے پاس مدینہ کا مشہور باغ بیرحاء تھا، جو انہیں سب سے زیادہ محبوب تھا۔ جب یہ آیت نازل ہوئی:
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ
ترجمہ: "تم ہرگز نیکی کے اعلیٰ مقام کو نہیں پا سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔” (سورۃ آل عمران: 92)
تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ فوراً حاضر ہوئے اور عرض کیا
"یارسول اللہ! مجھے میرا باغ بیرحاء سب سے زیادہ محبوب ہے، میں اسے اللہ کی رضا کے لیے صدقہ کرتا ہوں۔”
رسول اللہ ﷺ نے ان کی بات سن کر فرمایا
بَخٍ بَخٍ، ذَاكَ مَالٌ رَابِحٌ… بہت خوب، یہ سود مند مال ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد کیا
أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِين
"میری رائے یہ ہے کہ اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دو۔”
چنانچہ حضرت ابوطلحہؓ نے وہ باغ اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کر دیا۔ (صحیح بخاری، حدیث: 1461؛ صحیح مسلم، حدیث: 998)
یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نفلی صدقات میں بھی رشتہ داروں کو ترجیح دینے کی تعلیم دی۔
حضرت زینبؓ کا ایمان افروز واقعہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا محنت مزدوری کرکے کچھ آمدنی حاصل کرتی تھیں۔
انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا…
"یارسول اللہ! کیا میں اپنا مال اپنے شوہر اور اپنے زیر کفالت یتیم بچوں پر خرچ کروں تو یہ صدقہ شمار ہوگا؟”
آپ ﷺ نے فرمایا
لَهَا أَجْرَانِ: أَجْرُ الْقَرَابَةِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَة
ترجمہ: "ہاں، تمہیں دو اجر ملیں گے؛ ایک صلہ رحمی کا اور دوسرا صدقے کا۔” (صحیح بخاری، حدیث: 1466؛ صحیح مسلم، حدیث: 1000)
یہ حدیث خصوصاً خواتین کے لیے بھی بڑی رہنمائی رکھتی ہے کہ اگر وہ اپنے مستحق خاندان پر خرچ کریں تو یہ بھی باعثِ اجر و ثواب ہے۔
آج کل کی خواتین سمجھتی ہیں کہ خرچ کرنا بالخصوص عیال اور قرابت داروں پر خرچ کرنا صرف شوہر یا مردوں کا کام ہے حالانکہ سیرت الصحابیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ خواتین اسلام کو بھی برابر مال خرچ کرنا چاہیے بالخصوص قریبی رشتہ داروں پر۔
بعثتِ نبوی ﷺ کے مقاصد میں صلہ رحمی
حضرت عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبوت کے ابتدائی زمانے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا۔
"اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس مقصد کے لیے بھیجا ہے؟”
آپ ﷺ نے فرمایا
أَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْأَرْحَامِ، ۔۔۔۔
ترجمہ:
"اللہ تعالیٰ نے مجھے صلہ رحمی قائم کرنے کے لیے بھیجا ہے، ۔” (مسند أحمد: 19409، اصل واقعہ صحیح مسلم، حدیث: 832؛ صلہ رحمی کے الفاظ دیگر روایات میں مذکور ہیں۔)
یہ روایت بتاتی ہے کہ صلہ رحمی محض ایک سماجی اخلاق نہیں بلکہ ان عظیم مقاصد میں شامل ہے جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول ﷺ کو مبعوث فرمایا۔
دربارِ نجاشی میں حضرت جعفرؓ کی تاریخی گواہی
جب مسلمان حبشہ ہجرت کر کے گئے اور کفارِ مکہ نے انہیں واپس لانے کی کوشش کی تو شاہِ حبشہ نجاشی نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اسلام کا تعارف پوچھا۔
انہوں نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک رسول بھیجا، جنہیں ہم ان کے نسب، سچائی، امانت اور پاک دامنی کی وجہ سے جانتے تھے۔ انہوں نے ہمیں اللہ کی عبادت کا حکم دیا، سچ بولنے، امانت ادا کرنے، صلہ رحمی کرنے، پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے اور خونریزی سے بچنے کی تعلیم دی۔” (0 مسند احمد (1740)
یہ تاریخی خطاب اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اسلام کی دعوت صرف نماز اور روزے تک محدود نہیں تھی بلکہ خاندان کو جوڑنا بھی اس کا بنیادی پیغام تھا۔
چند اہم نتائج
ماقبل کی اس پوری بحث سے چند بنیادی اصول سامنے آتے ہیں۔
1۔ قرابت دار پر خرچ کرنا عام صدقے سے افضل ہے۔
2۔ مستحق رشتہ دار پر خرچ کرنے سے دوہرا اجر ملتا ہے۔
3۔ والدین اور اہلِ خانہ کے بعد رشتہ دار مالی تعاون کے زیادہ حق دار ہیں۔
4۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہؓ کو بار بار رشتہ داروں پر خرچ کرنے کی ترغیب دی۔
اسلامی معاشرے کی مضبوطی خاندان کی مضبوطی سے وابستہ ہے، اور خاندان کی مضبوطی صلہ رحمی سے حاصل ہوتی ہے۔
صلہ رحمی کے عملی رویے
اسلام میں صلہ رحمی صرف مالی تعاون کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ گیر اخلاقی نظام ہے۔ اگر ہم قرآن و سنت یعنی سیرت الرسول ﷺ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ صلہ رحمی کے بے شمار عملی مظاہر ہیں، جن میں چند اہم درج ذیل ہیں۔
1. رشتہ داروں کی مالی معاونت کرنا۔
2. بیماروں کی عیادت کرنا۔
3. خوشی اور غم میں شریک ہونا۔
4. والدین، بہن بھائیوں اور بزرگوں کا احترام کرنا۔
5. یتیم اور بیوہ رشتہ داروں کی کفالت کرنا۔
6. تعلیم، علاج اور روزگار میں تعاون کرنا۔
7. ناراض رشتہ دار سے تعلق جوڑنے میں پہل کرنا۔
8. سلام، ملاقات اور خیر خواہی کا اہتمام کرنا۔
9. وراثت اور مالی معاملات میں انصاف کرنا۔
10. دعا اور خیر خواہی کو ہمیشہ جاری رکھنا۔
یہ تمام اعمال صلہ رحمی کے عملی مظاہر ہیں اور یہی نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کا خلاصہ بھی ہے۔
قرابت دار کا حق ادا کرنا
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيرًا
ترجمہ: "رشتہ دار کو اس کا حق دو، مسکین اور مسافر کو بھی، اور فضول خرچی نہ کرو۔”(سورۃ الإسراء: 26)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ:
رشتہ دار کا حق ادا کرنا اللہ تعالیٰ کا واضح حکم ہے۔
صلہ رحمی اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
رشتہ داروں پر خرچ کرنا دنیا و آخرت کی کامیابی کا سبب ہے۔
خرچ میں اعتدال بھی ضروری ہے، اسراف و تبذیر سے بچنا چاہیے۔
قطع رحمی کی سخت وعید
جس طرح اسلام نے صلہ رحمی کی ترغیب دی ہے، اسی طرح قطع رحمی سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ
ترجمہ:”رشتہ داری توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔”(صحیح بخاری، حدیث: 5984؛ صحیح مسلم، حدیث: 2556)
امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ قطع رحمی ایک بہت بڑا گناہ ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ معاف نہ فرمائے تو اس پر سخت سزا ہو سکتی ہے۔
صلہ رحمی باعث برکت رزق
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَيُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
ترجمہ: "جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں برکت ہو اور اس کی عمر (یا اس کے اچھے اثرات) میں اضافہ ہو، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔”( صحیح مسلم، حدیث: 2557)
یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ صلہ رحمی صرف آخرت کی کامیابی کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیا میں بھی رزق کی برکت اور زندگی میں خیر و برکت کا سبب بنتی ہے۔
غیر مسلم رشتہ داروں سے حسن سلوک
اسلام عدل، رحمت اور حسنِ اخلاق کا دین ہے۔ اگر کسی مسلمان کے غیر مسلم رشتہ دار ہوں تو ان کے ساتھ حسنِ سلوک، خیر خواہی اور صلہ رحمی کا حکم دیا گیا ہے، البتہ دینی معاملات میں ان کی غلط بات نہیں مانی جائے گی۔
اس سلسلے میں حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کا مشہور واقعہ نہایت اہم ہے۔
وہ فرماتی ہیں کہ میری والدہ، جو اس وقت مشرکہ تھیں، مدینہ آئیں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا
"یارسول اللہ! کیا میں اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کروں؟”
آپ ﷺ نے فرمایا:
نَعَمْ، صِلِي أُمَّكِ
ترجمہ: "ہاں، اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔” (صحیح مسلم، حدیث: 1003)
رسول اکرم کا یہ حکم اسلام کے حسنِ اخلاق اور وسعتِ نظر کی بہترین مثال ہے کہ اختلافِ عقیدہ کے باوجود خاندانی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
سیرتِ نبوی ﷺ سے ایک عظیم سبق
رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن، جبکہ آپ اپنے بدترین دشمنوں پر مکمل غلبہ حاصل کر چکے تھے، اپنے قریبی رشتہ داروں سمیت پورے قریش کے ساتھ عفو و درگزر کا ایسا نمونہ پیش کیا جس کی تاریخ میں مثال کم ملتی ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ
ترجمہ:”جاؤ، تم سب آزاد ہو۔” (سیرت ابن ہشام، ج4؛ البداية والنهاية، ابن کثیر، ج4)
یہ اعلان صرف سیاسی معافی نہیں تھا بلکہ خاندانوں کو جوڑنے، انتقام کی آگ بجھانے اور معاشرے کو محبت و اخوت کی بنیاد پر استوار کرنے کا عملی درس تھا۔
صلہ رحمی: ایمان کی علامت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
ترجمہ: "جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔” (صحیح بخاری 6138)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صلہ رحمی صرف ایک سماجی روایت نہیں بلکہ ایمان کے تقاضوں میں سے ہے۔
موجودہ معاشرے کے لیے پیغام
آج ہمارا معاشرہ کئی مسائل سے دوچار ہے۔ وراثت کے جھگڑے، جائیداد کے تنازعات، انا، حسد، سیاسی اختلافات اور معمولی باتوں پر برسوں کی ناراضگیاں خاندانوں کو تقسیم کر رہی ہیں۔
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہمارے خاندان میں کوئی ایسا شخص تو نہیں جو ہماری توجہ، ہماری مالی مدد، ہماری دلجوئی یا صرف ایک فون کال کا منتظر ہو؟
اگر ہر صاحبِ استطاعت مسلمان اپنے خاندان کے یتیم، بیوہ، بیمار، بے روزگار اور مستحق افراد کی ذمہ داری محسوس کرے تو نہ صرف غربت میں کمی آئے گی بلکہ خاندان محبت، اعتماد اور رحمت کا گہوارہ بن جائیں گے۔
اسلام کا یہی مطلوب معاشرہ ہے، اور یہی سیرتِ طیبہ ﷺ کا پیغام بھی ہے.
عصرِ حاضر میں صلہ رحمی کی ضرورت
معزز حاضرین!
آج انسان نے ترقی کے بے شمار منازل طے کر لیے ہیں۔ جدید ذرائع ابلاغ، تیز رفتار سفر، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل نے دنیا کے فاصلے ضرور کم کر دیے ہیں، لیکن افسوس کہ دلوں کے فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے ایک دوسرے سے بے خبر ہیں، بھائی بھائی سے ناراض ہے، بہنیں وراثت کے جھگڑوں کا شکار ہیں، بوڑھے والدین اولاد کی بے توجہی پر آنسو بہا رہے ہیں، یتیم بھتیجے اور بھانجے دوسروں کے رحم و کرم پر ہیں، اور بیوہ بہنیں خاموشی سے زندگی کا بوجھ اٹھا رہی ہیں۔ یہ سب چیزیں ہم سے کسی صورت پوشیدہ نہیں۔
یہ صورتِ حال اس لیے پیدا ہوئی کہ ہم نے صلہ رحمی کو صرف ایک رسم سمجھ لیا، حالانکہ اسلام نے اسے ایمان، عبادت اور تقربِ الٰہی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ بعض اوقات ہم ہزاروں روپے دور دراز علاقوں میں صدقہ کر دیتے ہیں، مگر اپنے خاندان میں موجود سفید پوش مستحقین کی خبر تک نہیں لیتے۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ اگر خاندان میں کوئی ضرورت مند موجود ہو تو اس کی مدد کرنا زیادہ فضیلت رکھتا ہے، کیونکہ اس میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔
سیرتِ نبوی ﷺ کا عملی پیغام
رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی خاندان، معاشرے اور انسانیت کے حقوق کی ادائیگی کا روشن نمونہ ہے۔
آپ ﷺ نے کبھی کسی رشتہ دار کی مالی تنگی کو نظر انداز نہیں فرمایا، کبھی یتیموں کو تنہا نہیں چھوڑا، کبھی بیواؤں کی مدد سے دریغ نہیں کیا، کبھی کمزوروں کی دل آزاری نہیں کی، بلکہ ہمیشہ اپنے قول و عمل سے یہ ثابت فرمایا کہ ایک مسلمان کی خیر کا آغاز اس کے اپنے گھر اور خاندان سے ہوتا ہے۔
آپ ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بے پناہ محبت فرمائی، چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا احترام کیا، رضاعی رشتہ داروں کے حقوق ادا کیے، اور حتیٰ کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد بھی ان کی سہیلیوں کا اکرام فرماتے رہے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔
"رسول اللہ ﷺ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو بھی ہدیہ بھیجا کرتے تھے۔” (صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، حدیث: 2435)
یہ صرف حسنِ اخلاق نہیں بلکہ وفاداری، صلہ رحمی اور تعلق نبھانے کا بے مثال نمونہ ہے۔
صدقہ صرف مال کا نہیں
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صلہ رحمی صرف مال خرچ کرنے کا نام نہیں۔
بعض اوقات ایک مسکراہٹ صدقہ بن جاتی ہے۔
ایک فون کال صلہ رحمی بن جاتی ہے۔
ایک بیمار کی عیادت عبادت بن جاتی ہے۔
ایک یتیم بچے کے سر پر ہاتھ رکھنا رحمت بن جاتا ہے۔
ایک بیوہ بہن کی دلجوئی اللہ کی رضا کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
اور کبھی ایک معاف کر دینا، برسوں کی ناراضی ختم کر دینا اور سلام میں پہل کر دینا بھی اللہ کے نزدیک عظیم عبادت بن جاتا ہے۔
ہمارے لیے عملی لائحۂ عمل
اگر ہم واقعی سیرتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں چند عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
اپنے خاندان کے مستحق افراد کی فہرست بنائیں۔
زکوٰۃ اور نفلی صدقات کی ادائیگی میں شرعی ترتیب کو ملحوظ رکھیں۔
والدین کی خدمت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں۔
یتیم، بیوہ، معذور اور بے روزگار رشتہ داروں کی کفالت میں حصہ لیں۔
وراثت کی تقسیم میں مکمل عدل اور دیانت اختیار کریں۔
ناراض رشتہ دار سے صلح میں پہل کریں۔
بچوں کو صلہ رحمی کی عملی تربیت دیں تاکہ آئندہ نسلیں بھی اس سنت کو زندہ رکھ سکیں۔
اگر ہر مسلمان صرف اپنے خاندان کے محتاج افراد کی ذمہ داری اٹھا لے تو ہمارے معاشرے میں غربت، بے سہارا پن اور خاندانی انتشار میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔
خلاصہ بحث
معزز سامعین!
اسلام کا خاندانی نظام دنیا کے تمام معاشرتی نظاموں سے زیادہ مضبوط اور متوازن ہے۔
قرآن مجید نے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے اسے ایمان کی علامت قرار دیا۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پر عملی زندگی میں عمل کر کے دکھایا۔
لہٰذا آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی زکوٰۃ، صدقات، عطیات اور خیرات کا رخ پہلے اپنے مستحق رشتہ داروں کی طرف کریں، تاکہ ہم دوہرا اجر بھی حاصل کریں اور اپنے معاشرے کو بھی مضبوط بنائیں۔
آئیے! آج اس محفل سے یہ عہد کریں کہ ہم
قطع رحمی سے ہمیشہ بچیں گے۔
صلہ رحمی کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں گے۔
اپنے خاندان کے مستحق افراد کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
اپنی اولاد کو بھی صلہ رحمی کی تعلیم دیں گے۔
اور اپنی زندگی کو سیرتِ طیبہ ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت اور رسول اللہ کی سیرت مبارکہ کی تعلیمات پر عمل کرنے، صلہ رحمی اختیار کرنے، اپنے والدین، عزیز و اقارب اور تمام اہلِ ایمان کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے گھروں میں محبت، الفت، رحمت اور برکت نازل فرمائے، اور ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
نوٹ: یہ مقالہ ریڈیو پاکستان کی طرف سے منعقدہ ربیع الاول1448 ہجری کے حوالے سےقومی نشریاتی رابطے کی خصوصی سیمینار میں اگست 2026 کو پڑھ کر سنایا گیا ہے۔