قیامت کی طرح بڑے آدمیوں کی بھی کچھ نشانیاں ہیں۔مثلاً بڑا آدمی ہمیشہ بڑے لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا اور لیٹتا ہے۔وہ تقریبات میں صفِ اول کی نشستوں پر بیٹھنے کی کوشش کرتا ہے۔بڑا آدمی جب اپنے رفقا کے ساتھ کسی اعلیٰ درجے کے ریستوران میں داخل ہوتا ہے تو بیرے اسے جھک کر سلام کرتے ہیںوہ بیروں کو انکے نام سے پکارتا ہے جس سے اس کے رفقاء کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے روز وشب یہیں بسر ہوتے ہیں۔
سلام کیلئے بیرے کو ایک بار بھاری ٹپ اور انہیں نام سے پکارنے کیلئے اچھا حافظہ مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔بڑا آدمی سگریٹ نہیں پائپ پیتا ہے۔وہ پائپ پیتا کم ہےاسے جلاتابجھاتا زیادہ ہے اور گفتگو کے دوران اس کا بیشتر وقت انہی سر گرمیوں میں بسر ہوتا ہے ۔بڑے آدمی کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ ہر جملے کا آغاز انگریزی میں کرتا ہے اور لہجے کو حسب تو فیق ”آکسن “بنانے کی کوشش کرتا ہے!تاہم واضح رہے کہ انگریزی زبان کے قواعد وضوابط سے بڑے آدمی کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
بڑا آدمی ہمیشہ بڑے گھرانے میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کے تمام عزیز واقارب کلیدی اسامیوں پر فائز ہوتے ہیں۔یہ عزیز واقارب اس نے بڑی محنت سے اپنے شجرہ نسب میں شامل کئے ہوتے ہیں۔بڑا آدمی کبھی کم گو اور کبھی پُر گو نظر آتاہےتاہم اس امر کا فیصلہ اسے خود کرنا ہوتا ہے کہ اسے کس سے تھوڑی اور کس سے زیادہ بات کرنی ہے۔بڑے آدمی کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ فنون لطیفہ کا سر پرست ہوتا ہے۔
مصوری سے شعروادب تک اسکی چراگاہ ہیں ،و ہ اپنے کمرے کی کلر اسکیم سے میچ کرتی ہوئی سرورق والی کتابیں خرید تا ہے اور ایک شیلف میں سجاتا ہے ۔وہ تجریدی مصوری سے بھی اپنے گہرے شغف کا اظہار کرتا ہے اور ثبوت کیلئے ایک آدھ تصویر ڈرائنگ روم میں بھی ٹانگ دیتا ہےوہ تصویر کیساتھ مصور کو بھی ٹانگنا چاہتا ہے مگر کچھ مجبوریاں آتی ہیں۔
بڑا آدمی بیٹھے بٹھائے بڑا آدمی نہیں بن جاتااس کیلئے اسے شدید محنت کرنا پڑتی ہے ۔وہ صبح سے لے کر شام تک کام اور شام سے رات گئے تک پارٹیاں کرتا ہے۔صبح سے شام تک والے کام میں بہت سے کام شامل ہوتے ہیں اور شام سے رات گئے جاری رہنے والی پارٹیوں میں بہت سی ”پارٹیاں“ شریک ہوتی ہیں۔اسکی عظمت کی ایک وجہ اس کا منکسرالمزاج ہونا بھی ہے وہ کبھی اپنے مال ودولت کا ڈھنڈ ور ا نہیں پیٹتا بلکہ ہمیشہ انکسار سے کام لیتے ہوئے بینک سے حاصل شدہ قرضوں کا ذکر کرکے خود کو کروڑوں روپے کا مقروض ظاہر کرتاہے کئی بار تو یہ حکایت بیان کرتے وقت اس پر اتنی رقت طاری ہو جاتی ہے کہ بائیں ہاتھ کو بے خبر رکھتے ہوئے دائیں ہاتھ سے اسکی جیب میں ہزار کا نوٹ ڈالنے کو جی چاہتا ہے کہ آج کی شب اس کے گھر میں چولھا جل سکے۔
اس کے بڑا آدمی بننے کے پیچھے ایک عمل یہ بھی کار فرما ہوتا ہے کہ وہ اپنے مرتبے اور مقام کو بھول کر سب سے خصوصاً انکم ٹیکس ،ایکسائز اور آڈٹ والوں سے احسان ومحبت کا سلوک کرتا ہے ۔بڑے آدمی کو بڑا آدمی یو نہی تسلیم نہیں کر لیا جاتا۔اسکی پیٹھ پر فلاحی اداروں کیلئے خیراتی رقوم کا بوجھ ہوتا ہے جسے وہ اٹھائے اٹھائے پھرتا ہےلیکن وہ نہیں چاہتا کہ اسکی اطلاع اخبار کے رپورٹرز اور فوٹو گرافر کے علاوہ کسی اور کو ہو کہ کہیں اسکی نیکیاں ضائع نہ چلی جائیں بڑے آدمی کی عظمت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ چھوٹے آدمیوں کو بھی ساتھ رکھتا ہے جس سے وہ بڑا دکھائی دیتا ہے۔
بڑے آدمی کی یہ تمام خوبیاں اور خصائل اس کی زندگی میں بھی اس کے کام آتے ہیں اور مرنے کے بعد بھی اسکی عظمت کو اجاگر کرتے ہیں! چنانچہ ہم نے دیکھا ہے کہ جب بڑ ا آدمی مرتا ہے تو اگلے دن خبر آتی ہے کہ اس کے جنازے میں شہر کے تمام بڑے آدمی شریک ہوئےتاہم یہ بڑے آدمی کا روں میں قبرستان پہنچ جاتے ہیں۔کندھا دینے والے چارآدمی ،چھوٹے آدمی ہوتے ہیں۔ چھوٹے آدمی کی یہ بڑی نشانی ہوتی ہے کہ اس کے کندھے چوڑے ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ بڑے آدمیوں کو کندھا دیتا ہے۔افسوس بڑے آدمی بھی بالآخر اس جہان فانی سے کوچ کر جاتے ہیں اور بیس بیس کنالوں والی کوٹھیوں سے نقل مکانی کرکے انہیں بقیہ عمر چھوٹے آدمیوں کے ساتھ دو دو گز والے پلاٹ کی قبروں میں بسر کرنا پڑتی ہے ۔بڑے آدمیوں کو چاہئے کہ وہ اس افسوسناک صورتحال پر غور کریں اور یہ بات اپنے سے بڑے آدمیوں کے نوٹس میں لائیں۔
آخر میں فیصل آباد سے ڈاکٹر جعفر حسن مبارک کی نظم ’’اہل قلم سے‘‘
قلم کو توڑ دو یا اب حقیقتیں لکھو
بہت فریب لکھے اب صداقتیں لکھو
حسین چہروں پہ کیوں چھا رہی ہے تاریکی
جو ڈس رہی ہیں چراغوں کو ظلمتیں لکھو
لہو سے سرخ ہوئی جا رہی ہے ساری زمیں
حیات چیخ رہی ہے محبتیں لکھو!
نکل کے خوابوں کی پُر کیف سبز وادی سے
جو ناچتی ہیں سربزم وحشتیں لکھو!
اُتار پھینکو سبھی خوف کے لبادے آج
اطاعتوں کی جگہ اب بغاوتیں لکھو!
جو قاتلوں نے لکھا اُس کا اب جواب لکھو!
لہو سے وقت کے ماتھے پہ انقلاب لکھو!
بشکریہ جنگ