گھر کا نبوی ماڈل
گھر، مسجد اور دینی تعلیمی ادارہ بنانا ایک خواب تھا۔ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے آج سے تقریباً دس بارہ سال پہلے مکمل منصوبہ بندی شروع کی۔ زمین، نقشہ، تعمیر، وسائل اور مستقبل کی ضروریات، سب کو سامنے رکھ کر ایک ایسا گھر بنانے کا ارادہ کیا جو محض رہائش گاہ نہ ہو، بلکہ عبادت، تعلیم، مطالعہ، تربیت اور خدمت کا مرکز بھی ہو۔
پڑی بنگلہ میں زمین خریدا، اور یوں وقت گزرتا گیا، گھر بنتا گیا اور الحمدللہ آج وہ خواب ایک حد تک حقیقت بن چکا ہے۔ اب گھر میں شفٹ ہوچکا ہوں، احباب کی دعوتیں بھی ہوچکی ہیں اور گھر کی رونقیں بھی شروع ہوگئی ہیں۔ اسی دوران ایک ملاقات میں سیکریٹری صاحب نے برسبیلِ تذکرہ کہا:”حقانی نے نیا گھر بنایا ہے اور ان کا خیال ہے کہ ڈیپارٹمنٹ والے انہیں نئے گھر میں سکون سے رہنے نہیں دے رہے۔”
بات شاید محض ایک جملہ تھا، مگر یہ جملہ میرے ذہن میں ٹھہر گیا۔ میں نے اپنے آپ سے سوال کیا: کہیں یہ گھر اور گھر والے میرے تعلیمی و علمی امور میں خلل تو پیدا نہیں کررہے؟ کہیں گھر بنانے میں اپنا قیمتی وقت اور سرمایہ تو ضائع نہیں کردیا؟ کہیں یہ گھر میری علمی زندگی کا بوجھ تو نہیں بن گیا؟
یہ سوالات اپنی جگہ اہم تھے، مگر پھر میں نے گزشتہ دس سال کی اپنی منصوبہ بندی کو دوبارہ دیکھا تو دل مطمئن ہوگیا۔
کیونکہ آج سے دس سال پہلے جب میں گھر کی پلاننگ کررہا تھا تو میرے ذہن میں صرف ایک "گھر” نہیں تھا۔ میں ایک ایسا "تعلیم گھر” اور "کتاب گھر” بنانا چاہتا تھا جہاں رہائش کے ساتھ علم، کتاب، قرآن اور تربیت بھی زندہ رہے۔
الحمدللہ، آج میرا گھر اسی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔میری والدہ محترمہ کے نام نامی سے منسوب کرتے ہوئے "حیاۃ النساء اکیڈمی” کا آغاز ہوچکا ہے۔ گھر کے ایک کمرے میں اس وقت محلے کی تقریباً چالیس طالبات ناظرہ قرآن اور ابتدائی دینی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ ایک اور کمرہ اسپیشل لائبریری کے لیے مختص ہے، جہاں میری کتابیں جمع ہیں، مطالعہ جاری ہے، لکھنے پڑھنے کا سلسلہ قائم ہے اور علمی کام کے لیے ایک مستقل گوشہ میسر آگیا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ گھر صرف میرے خاندان کے رہنے کی جگہ نہیں رہا، بلکہ آہستہ آہستہ علم اور تربیت کی ایک چھوٹی سی بستی بنتا جارہا ہے۔آج سے دس سال پہلے جب میں گھر کی منصوبہ بندی کررہا تھا تو میرے سامنے سب سے بڑا نمونہ رسول اللہ ﷺ کی خانگی اور اجتماعی زندگی کا تھا۔سیرت اور تاریخ کی کتب میں جب رسول اللہ ﷺ کے حجرات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے ازواجِ مطہرات کے حجرات مسجد نبوی کے ساتھ تھے۔ مسجد، حجرات، صفہ اور تعلیم و تربیت کا ماحول ایک دوسرے سے جڑا ہوا تھا۔
مسجد محض نماز کی جگہ نہیں تھی، وہ عبادت، تعلیم، تربیت، مشاورت، دعوت اور معاشرتی اصلاح کا مرکز بھی تھی۔اسی مسجد میں اصحابِ صفہ کا چبوترہ تھا، یعنی دارالعلوم صفہ، وہاں صحابہ کرام علم حاصل کرتے، تربیت پاتے اور پھر مختلف علاقوں میں دین کی تعلیم پہنچاتے.یہی تصور میرے ذہن میں گھر کی پلاننگ کے وقت تھا، گھر صرف سونے، کھانے اور آرام کرنے کی جگہ نہ ہو، گھر کے ساتھ مسجد ہو، مسجد کے ساتھ تعلیم ہو، تعلیم کے ساتھ کتاب ہو اور کتاب کے ساتھ تربیت ہو۔
اسی سوچ کے تحت الحمدللہ میں نے ایک ایسا ماسٹر پلان تیار کروایا ہے جس میں گھر کے متصل مسجد اور تعلیمی ادارہ قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ مستقبل میں یہ ادارہ لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے دینی و عصری تعلیم کا مرکز بنے گا۔
میری خواہش یہ ہے کہ آدمی گھر سے باہر قدم رکھے تو اس کا ایک قدم مسجد میں اور دوسرا تعلیم گاہ میں ہو، ایسا ہی میرے گھر ، مسجد اور ادارہ کا ماسٹر پلان بنا ہوا ہے، گھر سے نکلے تو عبادت، علم، تربیت اور خدمت کے ماحول میں داخل ہو۔
یہ شاید میری نظر میں ایک مثالی گھر کا تصور ہے۔ گھر صرف دیواروں کا نام نہیں.ہم عموماً گھر کو اینٹ، پتھر، لکڑی، فرنیچر، کمروں اور سہولتوں سے ناپتے ہیں، مگر میرے نزدیک گھر کی اصل خوبصورتی اس بات میں ہے کہ وہاں کیا پیدا ہوتا ہے؟ کیا وہاں قرآن کی تلاوت ہوتی ہے؟، کیا وہاں کتابیں پڑھی اور لکھی جاتی ہیں؟ کیا وہاں بچوں کی تربیت ہوتی ہے؟کیا وہاں مہمان عزت پاتے ہیں؟ کیا وہاں ضرورت مند کے لیے جگہ ہے؟ کیا وہاں علم کی مجلس سجتی ہے؟ کیا وہاں سے مسجد آباد ہوتی ہے؟ کیا وہاں سے طلبہ اور طالبات علم حاصل کرکے نکلتے ہیں یا اسی گھر میں تعلیم و تربیت پاتے ہیں؟
اگر کسی گھر سے یہ سب کچھ نکل رہا ہو تو وہ محض گھر نہیں رہتا، ایک ادارہ بن جاتا ہے۔ اور ایک تحریک بھی، اور اگر گھر صرف آسائش، نمائش اور مصروفیات بڑھانے کا ذریعہ بن جائے تو پھر بڑا سے بڑا مکان بھی انسان کی زندگی کو بڑا نہیں کرتا۔اس لیے اب میں مطمئن ہوں کہ اگر گھر بنانے میں وقت لگا، محنت لگی، جسمانی دقت ہوئی اور سرمایہ صرف ہوا تو یہ محض ذاتی آسائش کے لیے نہیں تھا۔ یہ ایک طویل المدت منصوبہ تھا۔ہوسکتا ہے اس کی تکمیل میں میری زندگی کا ایک بڑا حصہ لگ جائے، مگر اگر اس گھر سے ایک بچی قرآن پڑھ لے، ایک بچہ دین سیکھ لے، ایک نوجوان کتاب سے جڑ جائے، ایک طالب علم کو مطالعے کا ذوق مل جائے، ایک خاندان عبادت کی طرف متوجہ ہوجائے اور کچھ لوگ علم و تربیت کی راہ پر چل پڑیں تو میرے لیے یہ گھر سرمایہ نہیں، صدقۂ جاریہ بن سکتا ہے۔
باقی دنیاوی گھر تو انسان اپنے لیے بناتا ہے، مگر وہ گھر زیادہ بابرکت ہے جس میں دوسروں کے لیے بھی دروازہ کھلا ہو۔
اسی لیے اب میں اپنے آپ سے یہ سوال نہیں کرتا کہ "میں نے گھر کیوں بنایا؟”بلکہ یہ سوچتا ہوں کہ "اس گھر کو مزید کتنا مفید بنایا جاسکتا ہے؟” یہی سوال روزانہ مجھے کچھ نہ کچھ نیا سوچنے اور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔الحمدللہ، حالات کا ازسرنو جائزہ لینے کے بعد مجھے خوشی ہوئی کہ گھر کو مسجد اور تعلیمی ادارے کے ساتھ بنانے کی جو پلاننگ دس سال پہلے کی تھی، وہ محض رہائش کی پلاننگ نہیں تھی، اس میں گھر کو علم، عبادت اور تربیت سے جوڑنے کی کوشش تھی۔
اور اب میری خواہش یہی ہے کہ یہ گھر میرے خاندان کے لیے سکون، میرے لیے مطالعہ و تصنیف کا مرکز، محلے کے لیے تعلیم و تربیت کا ذریعہ اور آنے والی نسلوں کے لیے خیر و برکت کا وسیلہ بنے۔گھر وہ نہیں جہاں صرف انسان رہتا ہے، گھر وہ ہے جہاں سے انسان بنتے ہیں۔اور میری دعا ہے کہ یہ گھر میرے ساتھ، میرے محلے کے ساتھ اور آنے والے وقت میں ہزاروں لوگوں کے لیے خیر و برکت، دین و دانش، علم و تربیت اور خدمتِ خلق کا ذریعہ بن جائے۔