گلگت: دارالحکومت یا کھنڈرات کا شہر؟

گلگت بلتستان کا دارالحکومت گلگت اس وقت جس صورتحال سے دوچار ہے، اسے محض بدانتظامی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گلگت شہر اور اس کے مضافات میں سیوریج سسٹم کے منصوبے کے لیے جگہ جگہ سڑکیں اکھاڑ دی گئی ہیں۔ شاید ہی شہر کی کوئی بڑی سڑک ایسی ہو جسے کھودا نہ گیا ہو۔ شہریوں کے لیے آمدورفت ایک مستقل امتحان بن چکی ہے، جبکہ گرد و غبار، کیچڑ، ٹریفک کے مسائل اور ٹوٹی سڑکوں نے زندگی اجیرن کر دی ہے۔

سیوریج سسٹم بلاشبہ گلگت شہر کی ایک اہم ضرورت ہے اور اس منصوبے کی تکمیل ضروری ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ منصوبہ کب مکمل ہوگا؟ اگر ایک سڑک کھودنے کے بعد اسے طویل عرصے تک اسی حالت میں چھوڑ دیا جائے تو شہریوں کے لیے یہ ترقی نہیں بلکہ عذاب بن جاتی ہے۔ ترقیاتی منصوبے عوام کی سہولت کے لیے ہوتے ہیں، عوام کو مسلسل مشکلات میں ڈالنے کے لیے نہیں۔

سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ اپوزیشن لیڈر حافظ حفیظ الرحمان بھی سیوریج منصوبے کی سست روی پر ڈی جی جی ڈی اے سے برہمی کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کی تشویش اپنی جگہ درست ہے، کیونکہ منصوبے کی غیر معمولی تاخیر واقعی شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ لیکن یہاں ایک تلخ سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ جب حافظ حفیظ الرحمان خود وزیر اعلیٰ تھے، اس وقت بھی گلگت شہر اپنی حقیقی شناخت اور مقام حاصل نہ کر سکا۔ آج اگر وہ اسی شہر کی خستہ حالی اور ترقیاتی کاموں کی سست روی پر برہم ہیں تو یہ برہمی کچھ حد تک سیاسی شوبہ ضرور محسوس ہوتی ہے۔ بہتر ہوتا کہ ماضی کی ذمہ داریوں کا بھی اعتراف کیا جاتا اور آج کی تنقید کے ساتھ یہ بتایا جاتا کہ اس وقت کی حکومت نے شہری مسائل کے مستقل حل کے لیے کیا کیا تھا۔

سیوریج سے پہلے بھی گلگت شہر کی حالت کسی غریب مزدور کے پھٹے دامن سے کم نہ تھی۔ کہیں ٹوٹی سڑکیں، کہیں بدبودار نالیاں، کہیں صاف پانی کا مسئلہ اور کہیں بے ہنگم تعمیرات۔ دیگر صوبوں کی طرز پر گلگت ڈویلپمنٹ اتھارٹی یعنی جی ڈی اے جیسے ادارے کے قیام سے امید پیدا ہوئی تھی کہ شہر کو ایک مربوط منصوبہ بندی کے تحت جدید شہری شکل دی جائے گی۔ مگر بدقسمتی سے شہر کی بنیادی ضروریات پر توجہ دینے کے بجائے بعض اوقات مصنوعی کارپٹ، پھولوں اور نمائشی تزئین و آرائش سے خوبصورتی پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔

آج ہر حکومت ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد پر اپنے دور کی کامیابیاں گنواتی ہے۔ افتتاحی تختیاں لگتی ہیں، اعلانات ہوتے ہیں اور کروڑوں روپے کے منصوبوں کا ذکر کیا جاتا ہے، مگر عام شہری پوچھتا ہے کہ اس ترقی کا فائدہ اسے کہاں ملا؟ اگر شہر کی سڑک بارش میں کیچڑ بن جائے، نالی سے بدبو آئے، صاف پانی دستیاب نہ ہو اور سیوریج کے لیے سڑکیں مہینوں اکھڑی رہیں تو پھر ترقی کے دعوے عام آدمی کے لیے محض الفاظ بن کر رہ جاتے ہیں۔گلگت صرف ایک شہر نہیں بلکہ پورے گلگت بلتستان کا دارالحکومت ہے۔ یہ شہر صوبے کا انتظامی، سیاسی اور تجارتی مرکز ہے۔ ملک بھر سے آنے والے سیاح سب سے پہلے اسی شہر سے گزرتے ہیں۔ اس لیے گلگت کی حالت دراصل پورے خطے کی انتظامی ترجیحات کا آئینہ ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ سیوریج منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے اور جہاں جہاں سڑکیں اکھاڑی گئی ہیں، وہاں کام مکمل ہونے کے فوراً بعد انہیں معیاری طریقے سے بحال کیا جائے۔ صرف سڑک کھود دینا ترقی نہیں، اصل کامیابی منصوبہ مکمل کرکے شہریوں کو بہتر سہولت فراہم کرنا ہے۔گلگت کے عوام کو مصنوعی پھولوں اور نمائشی خوبصورتی کی نہیں، صاف پانی، بہتر سیوریج، پائیدار سڑکوں، صاف ماحول اور منظم شہر کی ضرورت ہے۔ حکومتیں بدلتی رہیں، وزرائے اعلیٰ آتے جاتے رہے، اپوزیشن برہمی کا اظہار کرتی رہی، مگر گلگت کے شہری آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی بیان بازی سے آگے بڑھ کر اس شہر کو واقعی اس کا مقام دیا جائے جس کا وہ مستحق ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے