جب بچوں کا بچپن محفوظ نہ رہے

کسی معاشرے کے زوال کا اندازہ صرف اس بات سے نہیں لگایا جاتا کہ وہاں جرائم کتنے بڑھ گئے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ معاشرہ اپنے کمزور ترین افراد کے ساتھ کتنا کھڑا ہے۔ اگر ایک کمسن بچہ اپنے ہی ماحول میں خود کو محفوظ محسوس نہ کرے، اپنی تکلیف بیان کرنے سے ڈرے اور بڑوں کو اس کی حفاظت کے لیے آواز اٹھانے کے بجائے خاموشی اختیار کرنا آسان لگے تو ہمیں رک کر سوچنا ہوگا کہ مسئلہ صرف ایک فرد کا نہیں، پورے معاشرے کا ہے۔گلگت بلتستان ایک ایسا خطہ رہا ہے جہاں خاندانی نظام، روایات، سماجی اقدار اور باہمی احترام کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ ایک وقت تھا کہ معاشرے میں معمولی سی تبدیلی بھی لوگوں کی توجہ حاصل کر لیتی تھی۔ بازار میں اگر کوئی خاتون دوپٹے کے بغیر نظر آ جاتی تو مرد حضرات گھروں میں جا کر بھی حیرت سے اس کا ذکر کرتے تھے۔

آج اس مثال کو کسی کے لباس پر اعتراض کے طور پر نہیں بلکہ اس دور کی سماجی حساسیت کی علامت کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ہمارا معاشرہ ظاہری معاملات پر اتنا حساس تھا تو آج کمسن بچوں کے تحفظ جیسے بنیادی انسانی مسئلے پر ہماری حساسیت کیوں کم ہوتی جا رہی ہے؟کمسن بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور زیادتی کی کوشش کے واقعات کی خبریں کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے انتہائی تشویش ناک ہونی چاہئیں۔ ہر واقعے کے بعد ملزم کی گرفتاری یقیناً ضروری ہے، لیکن صرف گرفتاری کافی نہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ایسے جرائم جنم ہی کیوں لیتے ہیں، بچے خطرے کو پہچاننے کے قابل کیوں نہیں، والدین شکایت سامنے آنے پر کس حد تک تیار ہیں اور تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کا عملی نظام کہاں موجود ہے۔

بچے کو محفوظ بنانا گھر سے شروع ہوتا ہے۔ والدین کو بچوں کے ساتھ ایسا اعتماد قائم کرنا ہوگا کہ وہ کسی بھی نامناسب رویے کے بارے میں بلاخوف بات کر سکیں۔ بچوں کو عمر کے مطابق ذاتی حدود، محفوظ اور غیر محفوظ رویے اور مدد حاصل کرنے کے طریقے سمجھانا وقت کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر کوئی بچہ کسی شخص کے خلاف شکایت کرے تو اسے ڈانٹنے یا خاموش کرانے کے بجائے پہلے سنا جائے۔ کئی جرائم اس وقت مزید سنگین ہو جاتے ہیں جب بچے کی پہلی فریاد ہی نظر انداز کردی جاتی ہے۔

تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بھی محض کتاب اور امتحان تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اسکول انتظامیہ کو بچوں کے تحفظ کے لیے واضح پالیسی، شکایات کے محفوظ نظام اور اساتذہ کی تربیت یقینی بنانی چاہیے۔ کسی استاد، ملازم یا دوسرے فرد کے بارے میں شکایت سامنے آئے تو اسے ادارے کی عزت کا مسئلہ بنانے کے بجائے بچے کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ ادارے کی ساکھ حقیقت چھپانے سے نہیں بلکہ شفاف اور ذمہ دارانہ رویے سے قائم ہوتی ہے۔ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ پولیس کو ایسے مقدمات میں فوری کارروائی کے ساتھ ساتھ متاثرہ بچے کی عزت، شناخت اور نفسیاتی تحفظ کا خیال رکھنا چاہیے۔ تفتیش شفاف ہو، شواہد محفوظ کیے جائیں اور مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ قانون کی گرفت جتنی مضبوط ہوگی، مجرموں کے لیے خوف بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔

سول سوسائٹی، علماء، صحافی اور معاشرے کے بااثر افراد کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں صرف اس وقت آواز نہیں اٹھانی چاہیے جب کوئی واقعہ سامنے آئے۔ بچوں کے تحفظ کے لیے مستقل آگاہی، والدین کی رہنمائی اور معاشرتی سطح پر گفتگو ضروری ہے۔ خاموشی کسی مسئلے کو ختم نہیں کرتی، اکثر خاموشی مسئلے کو مزید طاقت دیتی ہے۔ہمیں یہ فرق بھی سمجھنا ہوگا کہ معاشرتی اقدار کا تحفظ صرف لباس، ظاہری پابندیوں یا روایتی طور طریقوں کا نام نہیں۔ کسی معاشرے کی اصل اخلاقی قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ اپنے بچوں، خواتین، بزرگوں اور دیگر کمزور افراد کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اگر ہم اپنے ماضی کی روایات پر فخر کرتے ہیں تو ہمیں ان روایات کے بنیادی اصول، یعنی عزت، ذمہ داری، حیا اور کمزور کے تحفظ کو بھی زندہ رکھنا ہوگا۔

گلگت بلتستان کی شناخت اس کے پہاڑوں اور وادیوں سے بڑھ کر اس کے لوگوں کی تہذیب اور روایات سے ہے۔ ہمیں ترقی کے ساتھ اپنی اجتماعی ذمہ داری بھی مضبوط کرنا ہوگی۔ ورنہ سڑکیں، عمارتیں اور جدید سہولیات تو بن جائیں گی، مگر اگر ہمارے بچے محفوظ نہ رہے تو ہم کس ترقی پر فخر کریں گے؟

ایک بچے کا محفوظ بچپن کسی بھی معاشرے کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف واقعات کے بعد افسوس کرنے والا معاشرہ بننا چاہتے ہیں یا ایسا معاشرہ جہاں جرم سے پہلے ہی بچے کے گرد تحفظ کی ایک مضبوط دیوار موجود ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے