پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث ایک مرتبہ پھر زور و شور سے جاری ہے۔ کہیں جنوبی پنجاب کی بات ہو رہی ہے تو کبھی وفاق اور خیبر پختونخوا کے حکومتی ایوانوں میں ہزارہ صوبے کا مطالبہ سامنے آ رہا ہے۔ ہر مطالبے کے ساتھ زبان، آبادی، جغرافیہ، انتظامی ضرورت اور تاریخی شناخت جیسے دلائل دیے جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان تمام مطالبات کے لیے ایک ہی معیار مقرر ہوگا؟ اگر زبان اور آبادی نئے صوبے کی بنیاد بن سکتی ہے تو یہی اصول بلوچستان کے پشتون علاقوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ بے شک ہزارہ کے بعض علاقوں میں ہندکو بولنے والوں کی تعداد ضرور ہے، لیکن وہاں پشتو بولنے والی بڑی آبادی بھی موجود ہے۔ اس لیے پورے خیبر پختونخوا کے وجود کو تقسیم کی سازش کو ہندکو کی بنیاد پر الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی اسی اصول کی روشنی میں دیکھنا ہوگا کہ آیا وہاں ہندکو بولنے والے زیادہ ہیں یا پشتو۔ اگر خیبر پختونخوا میں ایک لسانی شناخت کی بنیاد پر صوبے کی تقسیم کی آواز بلند ہو سکتی ہے تو بلوچستان میں ایک بڑی پشتون آبادی کے لیے پشتونخوا کا سوال کیوں نہیں اٹھ سکتا؟
2023 کی مردم شماری کے مطابق بلوچستان میں بلوچی مادری زبان بولنے والوں کی تعداد تقریباً 58 لاکھ 11 ہزار جبکہ پشتو مادری زبان بولنے والوں کی تعداد تقریباً 49 لاکھ 55 ہزار ہے۔ یعنی دونوں کے درمیان فرق تقریباً 8 لاکھ 56 ہزار کا ہے، جو مجموعی طور پر دیکھیں تو پشتو اور بلوچی بولنے والوں کے درمیان بہت بڑا فرق نہیں۔ اس کے باوجود یہ اعداد بلوچستان کے لسانی جغرافیے کی ایک اہم تصویر ضرور پیش کرتے ہیں۔ اگر ان اعداد کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو بلوچستان میں پشتو بولنے والوں کی آبادی ایک بہت بڑی اور منظم لسانی اکائی ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ تقریباً برابر بڑی دو زبانوں میں سے ایک کو پورے صوبے کی شناخت کیوں سمجھا جائے اور دوسری کو اسی صوبے کے اندر ایک الگ انتظامی شناخت سے محروم کیوں رکھا جائے؟
اس بحث کا دوسرا اہم پہلو جغرافیہ ہے۔ بلوچستان کے پشتون علاقے محض چند بکھرے ہوئے دیہات یا چھوٹی آبادیاں نہیں بلکہ ایک وسیع اور مسلسل جغرافیائی بیلٹ کی شکل رکھتے ہیں۔ ژوب، شیرانی، قلعہ سیف اللہ، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن، لورالائی، دکی اور موسیٰ خیل جیسے اضلاع پشتون آبادی کے اہم مراکز ہیں۔ ان علاقوں میں پشتو زبان، پشتون ثقافت، روایات اور سماجی شناخت واضح طور پر موجود ہے۔ اگر نقشے کو لسانی اور جغرافیائی بنیاد پر دیکھا جائے تو بلوچستان کے اندر ایک واضح پشتون خطہ دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف بلوچ اکثریتی علاقے بھی اپنی الگ جغرافیائی شناخت رکھتے ہیں۔ پھر سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ بلوچ کو صوبہ ملے یا پشتون کو، بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا دونوں بڑی قومی و لسانی اکائیوں کو اپنی اپنی انتظامی شناخت کا حق ملنا چاہیے یا نہیں؟
اگر بلوچستان میں بلوچ اور پشتون آبادی کو الگ الگ جغرافیائی علاقوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے۔ پشتون اکثریتی علاقوں میں بلوچ آبادی بلکل نہیں جبکہ بلوچ اکثریتی علاقوں میں پشتون بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ اگر 2023ء کی مردم شماری کے حساب سے دیکھا جائے تو مردم شماری اضلاع کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ بلوچ اضلاع میں بھی بڑی تعداد میں پشتون آباد ہیں، لیکن انہیں بلوچ اضلاع کی آبادی میں شمار کیا گیا ہے۔ اگر ان پشتون آبادیوں کو بھی پشتون بیلٹ میں شامل کر کے حساب کیا جائے تو بلوچستان میں بلوچ اور پشتون آبادی تقریباً برابر ہو جائے گی۔ پھر 34 اور 39 کا تناسب بھی بالکل برابر ہو جائے گا۔اس لیے صرف مجموعی لسانی اعداد کو دیکھ کر بھی مکمل نسلی تناسب اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ بلوچستان کی آبادی ایک یک رنگ قوم پر مشتمل نہیں۔ یہاں مختلف تاریخی اور لسانی اکائیاں آباد ہیں۔ اگر بلوچ اور پشتون آبادی اپنے اپنے تاریخی اور جغرافیائی علاقوں میں الگ انتظامی صوبے بنائیں تو اس سے کسی قوم کا وجود ختم نہیں ہوگا۔ بلکہ دونوں کو اپنی زبان، ثقافت، سیاست اور ترقی کے لیے زیادہ مؤثر انتظامی اختیار حاصل ہو سکتا ہے۔
میں نے 2011 میں پشاور کے نشتر ہال میں پشتو عالمی کانفرنس کے موقع پر اپنی ایک تقریر میں اسی شناختی مسئلے کو "میں بلوچی نہیں، پشتون ہوں” کے عنوان سے بیان کیا تھا۔ جب کوئی مجھ سے پوچھتا کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہیں تو میں جواب دیتا کہ ژوب کا۔ اکثر اگلا سوال ہوتا کہ اچھا آپ بلوچی ہیں؟ میرا جواب ہوتا: نہیں میں بلوچ نہیں، پشتون ہوں۔ ژوب بلوچستان میں ضرور ہے، لیکن ژوب کا کوئی مقامی باشندہ بلوچ نہیں۔ جغرافیہ انسان کو کسی قوم کا فرد نہیں بناتا۔ بلوچستان کا صوبائی نام اپنی جگہ مگر اس کے اندر رہنے والے پشتون کی قومی، لسانی اور ثقافتی شناخت اپنی جگہ ہے۔ اسی طرح بلوچ کی شناخت بھی اپنی جگہ محترم ہے۔ مسئلہ کسی کی شناخت ختم کرنا نہیں بلکہ دونوں شناختوں کو برابر سیاسی اور انتظامی احترام دینا ہے۔
اسلام آباد کے لوک ورثہ میں ہر سال چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا دس روزہ ثقافتی میلہ منعقد ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے پویلین میں لوگ پشتو زبان اور پشتون ثقافت دیکھنے آتے ہیں، جبکہ بلوچستان کے پویلین کو عموماً صرف بلوچ ثقافت اور بلوچی زبان کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ نومبر 2025 کی بلوچستان نائٹ میں بلوچ کمپئیرز کے شانہ بشانہ مجھے پشتو زبان کے کمپئیر کی حیثیت سے اسٹیج پر دعوت دی گئی۔ جب میں نے پشتو میں گفتگو شروع کی تو مجمعے سے خوشی کا ایک شور بلند ہوا۔ میں نے اردو میں کہا کہ بلوچستان صرف بلوچ ثقافت نہیں بلکہ پشتون بلوچ صوبہ ہے۔ جس طرح بلوچی زبان کے فنکار موجود ہیں، اسی طرح پشتو زبان کے گلوکار اور فنکار بھی بلوچستان کی ثقافت کا حصہ ہیں۔ میں نے کہا کہ آئندہ بلوچستان پویلین میں آنے والے لوگ یہ ذہن میں رکھیں کہ یہاں بلوچی کے ساتھ پشتو کی آواز بھی سنائی دے گی۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی خوبصورت مثال ہے کہ بلوچستان کی ثقافتی شناخت کو صرف ایک زبان تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔
خان عبدالصمد خان اچکزئی شہید نے اپنی پوری زندگی پشتونوں کے سیاسی اور قومی حقوق کے لیے جدوجہد میں گزاری۔ انہوں نے جیلیں کاٹیں، سیاسی مشکلات برداشت کیں اور بالآخر شہید ہوئے۔ ان کی جدوجہد ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ بلوچستان کے پشتونوں کی سیاسی اور انتظامی شناخت کا سوال آج کا پیدا کردہ مسئلہ نہیں بلکہ ون يونٹ کے خاتمے کے وقت سے ہے اور یہ ایک تاریخی سوال ہے۔ آج جب نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے تو ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ بلوچستان کے پشتون عوام سے کبھی سنجیدگی سے یہ سوال کیا گیا کہ وہ اپنے انتظامی مستقبل کے بارے میں کیا چاہتے ہیں؟ اگر عوام الگ صوبہ چاہتے ہیں تو اس مطالبے کو آئینی اور جمہوری راستہ کیوں نہ دیا جائے؟ صوبے کا نام پشتونخوا ہو یا کوئی اور متفقہ نام، فیصلہ عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے۔
میرا مؤقف بلوچ قوم کے خلاف نہیں۔ بلوچ کو اپنی شناخت، زبان اور ثقافت کا مکمل حق حاصل ہے اور پشتون کو اپنی شناخت، زبان اور ثقافت کا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک ہی صوبے کے اندر ایک بڑی قوم کو صوبے کے نام میں مکمل طور پر ضم کر کے اس کی الگ شناخت کو سیاسی طور پر غیر نمایاں کر دیا جائے۔ اگر بلوچستان کی بلوچی اور پشتو بولنے والی آبادی کو قریب قریب بڑی لسانی اکائیوں کے طور پر تسلیم کیا جائے تو پھر دونوں کے تاریخی علاقوں کی انتظامی ضرورت پر بات ہونی چاہیے۔ بلوچستان کو صرف ایک نام کے تحت رکھنے کے بجائے بلوچ اور پشتون اکثریتی علاقوں کو الگ الگ صوبائی انتظام دینے پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔
اگر خیبر پختونخوا میں تین یا چار اضلاع کی بنیاد پر ہزارہ کے لیے الگ صوبے کا مطالبہ زبان، شناخت، جغرافیہ اور انتظامی ضرورت پر کیا جا سکتا ہے (جو ڈویژن سے بھی کم علاقہ ہے) تو بلوچستان کے پشتون علاقوں کے لیے بھی یہی معیار ہونا چاہیے۔ کسی ایک علاقے میں زبان کو اہم اور دوسرے علاقے میں غیر اہم قرار دینا دوہرا معیار ہوگا۔ نئے صوبوں کا فیصلہ سیاسی طاقت سے نہیں بلکہ آبادی، جغرافیہ، انتظامی ضرورت، تاریخی شناخت اور سب سے بڑھ کر عوامی رائے سے ہونا چاہیے۔ بلوچستان کے پشتونوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کریں۔ اگر وہ موجودہ بلوچستان کا حصہ رہنا چاہتے ہیں تو اس فیصلے کا احترام ہو، لیکن اگر وہ اپنی الگ انتظامی اکائی یعنی پشتونخوا چاہتے ہیں تو اس مطالبے کو بھی آئینی راستہ ملنا چاہیے۔
آخر میں سوال صرف اتنا ہے: اگر پاکستان میں نئے صوبے واقعی عوام کی سہولت، شناخت اور انتظامی انصاف کے لیے بننے ہیں تو پھر بلوچستان کے پشتونوں کے معاملے میں یہ اصول کیوں مختلف ہو؟ اگر خیبر پختونخوا میں ہزارہ کی الگ شناخت کی بے بنیاد بات ہو سکتی ہے تو بلوچستان میں پشتونخوا کی بات کیوں نہیں؟
بلوچستان میں بلوچ اور پشتون دونوں بڑی آبادی اور اپنی اپنی تاریخی جغرافیائی شناخت رکھتے ہیں۔ کسی ایک شناخت کے نام پر دوسری بڑی شناخت کو مکمل طور پر جذب کر دینا وفاقی انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ بلوچستان اور پشتونخوا دو الگ انتظامی صوبے ہوں، دونوں اپنی شناخت کے ساتھ پاکستان کے مضبوط وفاق کا حصہ رہیں۔یہ تقسیم نہیں بلکہ انتظامی اور سیاسی انصاف کی ایک ممکنہ صورت ہے۔