26 اگست 2026 پاکستان کے لیے ایک عجیب اور ناقابلِ فراموش دن تھا۔ ایک طرف ملک بھر میں عید میلاد النبی ﷺ کی تقریبات تھیں۔ گلیاں سجائی گئی تھیں۔ عمارتوں پر چراغاں تھا۔ مساجد اور میلاد کی محافل آباد تھیں۔ جلوس نکل رہے تھے اور درود و سلام کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ دوسری طرف اسی دن اسلام آباد کے پمز ہسپتال کی نرسری میں وہ قیامت برپا ہوئی جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔
26 اگست کی صبح تقریباً 7 بجے پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی نرسری میں آگ بھڑکی۔ وہاں نومولود بچے موجود تھے۔ آگ نے انتہائی تیزی سے نرسری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور بالآخر 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے جبکہ صرف ایک بچہ زندہ بچایا جا سکا۔
یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں تھا جس کی خبر رات گئے یا اگلے دن عوام تک پہنچی ہو۔ اسی 26 اگست کو صبح ہی مقامی ٹی وی چینلز پر پمز کی آتش زدگی کی خبر نشر ہونا شروع ہو گئی تھی۔ حتیٰ کہ صبح 10 بجے کی نیوز ہیڈ لائنز میں بھی یہ سانحہ شامل تھا۔
اور اسی دن ملک میں عید میلاد النبی ﷺ کی تقریبات اور جلوس بھی جاری تھے۔ راولپنڈی میں مرکزی جلوس نکلا۔ کراچی سمیت ملک کے دوسرے شہروں میں بھی 12 ربیع الاول کے جلوس اور اجتماعات ہوئے۔
یعنی جب ملک کے مختلف حصوں میں لوگ میلاد النبی ﷺ کے جلوسوں میں شریک تھے اس وقت پمز کی نرسری میں نومولود بچے جل کر مر چکے تھے، ان کے والدین اپنے بچوں کی لاشوں کے منتظر تھے اور یہ خبر ٹیلی وژن کی اسکرینوں پر آ چکی تھی۔
یہ کوئی معمولی حادثہ نہیں تھا۔ یہ ایسا دردناک واقعہ تھا جس نے پتھر دل انسانوں کی آنکھوں میں بھی نمی پیدا کر دی۔ وہ بچے جنہوں نے ابھی دنیا کو دیکھا تک نہیں تھا، جنہوں نے ابھی ماں کی گود سے باہر زندگی کا پہلا قدم بھی نہیں رکھا تھا، وہ ایک سرکاری ہسپتال کی نرسری میں آگ کی نذر ہو گئے۔ ایک باپ اپنے بچے کو لینے آیا اور اسے بچے کے بجائے اس کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار کرنا پڑا۔ ایک ماں جس نے اپنے بچے کو نو ماہ اپنے وجود میں رکھا تھا، اسے چند لمحوں میں ایسی خبر ملی جس کے بعد دنیا کی ہر خوشی بے معنی ہو جاتی ہے۔
حکومت نے افسوس کیا۔ وزیراعظم نے نوٹس لیا۔ تحقیقات کا حکم دیا گیا۔ بعد کی تحقیقات میں فائر سیفٹی اور انتظامی غفلت کے سنگین سوالات بھی سامنے آئے اور متعدد اہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع ہوئی۔
میرا سوال یہ ہے جب یہ سب کچھ ہوا تب ہمارے مذہبی رہنما کہاں تھے؟
میری تحقیق کے مطابق عید میلاد النبی ﷺ کے دن یا اس سانحے کے فوراً بعد اور آج کی تاریخ تک کسی بڑے اور نمایاں عالم دین یا مفتی کا ایسا واضح اور قابلِ حوالہ بیان سامنے نہیں آیا جس میں پمز میں جل کر جاں بحق ہونے والے ان معصوم بچوں کے لیے باقاعدہ اظہارِ افسوس کیا گیا ہو، اس واقعے کی مذمت کی گئی ہو یا اسے اپنی تقریر کا موضوع بنایا گیا ہو۔
یہ سوال کسی ایک مسلک سے نہیں ہے۔
یہ سوال مولانا فضل الرحمٰن سے بھی ہے۔
یہ سوال مفتی محمد تقی عثمانی سے بھی ہے۔
یہ سوال مفتی منیب الرحمٰن سے بھی ہے۔
یہ سوال مولانا طارق جمیل سے بھی ہے۔
یہ سوال مفتی رفیع عثمانی کے مکتبِ فکر سے وابستہ بڑے علما سے بھی ہے۔
یہ سوال دعوتِ اسلامی کے علما اور مفتیان سے بھی ہے۔
یہ سوال اہل حدیث کے نمایاں علما سے بھی ہے۔
یہ سوال شیعہ مکتبِ فکر کے بڑے علما و ذاکرین سے بھی ہے۔
اور یہ سوال ہر اس بڑے مذہبی رہنما سے ہے جس کی آواز لاکھوں لوگ سنتے ہیں۔
ہمارے علماء کرام کو امت کی بس اتنی فکر رہ گئی ہے کہ کہیں چندہ کسی اور کی جیب میں نہ چلا جائے یا امت ان کے بجائے کسی اور جماعت کو ووٹ نہ دے دے۔
ہمارے علماء کرام کو صرف اپنے مفادات سے غرض ہے۔ اس امت کے مسائل سے انہیں اس کے علاوہ کوئی سروکار نہیں۔ امت جہنم میں جائے یا بھاڑ میں جائے انہیں کوئی غرض نہیں۔
کیا ان چودہ نومولود بچوں کا غم صرف حکومت کی ذمہ داری تھا؟
کیا ایک مسلمان معاشرے میں مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ میلاد کی خوشی، جلوس کی شان، چراغاں اور مذہبی جوش کی بات کریں؟
کیا ان معصوم بچوں کی موت پر دو منٹ کا اظہارِ افسوس بھی ہماری مذہبی ترجیحات میں شامل نہیں تھا؟
رسول اللہ ﷺ کی سیرت رحمت، شفقت اور انسانیت سے عبارت ہے۔ ایک نومولود بچے کی موت پر خاموش رہ کر ہم کس طرح اپنے مذہبی جوش کو مکمل سمجھ سکتے ہیں؟
میلاد کا مطلب صرف چراغاں نہیں۔ میلاد کا مطلب رحمت ہے۔ میلاد کا مطلب انسانیت ہے۔ میلاد کا مطلب مظلوم اور غم زدہ کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔
26 اگست کو پاکستان کی سڑکوں پر نعتیں تھیں، درود تھا، جھنڈے تھے، جلوس تھے اور چراغاں تھا۔ یہ سب اپنی جگہ۔ مگر اسی پاکستان میں ایک ہسپتال کی نرسری میں چودہ ننھے چراغ بجھ گئے تھے۔
اور سوال صرف اتنا ہے:
کیا ان چراغوں کے بجھنے کی خبر ہمارے مذہبی منبروں تک پہنچی تھی؟
اگر پہنچی تھی تو خاموشی کیوں تھی؟
اور اگر نہیں پہنچی تھی تو پھر سوال اس سے بھی بڑا ہے کہ ایسی مذہبی قیادت عوام کے دکھ درد سے کتنی دور کھڑی ہے؟
یہ تنقید کسی مسلک کے خلاف نہیں۔ یہ سوال ہم سب سے ہے۔
کیونکہ چودہ بچے کسی مسلک کے نہیں تھے۔
وہ صرف بچے تھے۔
اور ان کی موت پر خاموشی اختیار کرنا کم از کم ایک سوال ضرور چھوڑ جاتی ہے:
ہم نے میلاد تو منا لیا، مگر کیا ہم نے رحمتِ عالم ﷺ کی امت ہونے کا حق بھی ادا کیا؟