پاکستان، چار محاذوں چار زاویوں کی سفارتی جنگ اور بقا کا امتحان

جنوبی ایشیا اس وقت غیر معمولی جغرافیائی اور سفارتی دباؤ سے گزر رہا ہے۔ پاکستان ایک ہی وقت میں افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی، بھارت کے ساتھ پانی، کشمیر اور سلامتی کے تنازعات، مشرقِ وسطیٰ میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان بدلتے توازن، اور اپنی داخلی معاشی و سیاسی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔

اسی پس منظر میں اقوامِ متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کا اعلیٰ سطحی اجلاس نیویارک میں شروع ہو رہا ہے۔ دنیا کے رہنما ایک ایسے وقت میں جمع ہیں جب یوکرین، فلسطین، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سمیت کئی خطوں میں جنگ اور کشیدگی عالمی امن کو مسلسل آزمائش میں ڈال رہی ہے۔

پاکستان کے لیے نیویارک محض سالانہ سفارتی اجتماع نہیں، بلکہ چار باہم جڑے بحرانوں کے درمیان سفارت کاری کے لیے ایک اہم موقع ہے۔

افغانستان: مغربی سرحد دوبارہ گرم

پاک افغان تعلقات اب صرف سخت بیانات تک محدود نہیں رہے۔ سرحد پار عسکریت پسندی اور جوابی فوجی کارروائیوں نے دونوں ملکوں کو خطرناک مقام پر پہنچا دیا ہے۔

21 ستمبر کو پاکستان نے افغانستان میں فضائی حملوں کے دوران 28 مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ افغان حکام اور اقوامِ متحدہ نے شہری ہلاکتوں کی اطلاع بھی دی۔ کابل نے پاکستانی کارروائیوں کی مذمت کی۔ (Reuters)

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان اور دوسرے مسلح گروہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں؛ کابل پاکستانی کارروائیوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔

لیکن مسئلہ صرف فوجی نہیں۔ سرحدی بندش، تجارت، ٹرانزٹ، مہاجرین اور قبائلی آبادیوں کی نقل و حرکت بھی اس کشیدگی کی قیمت ادا کرتی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا دونوں ملک ایک قابلِ اعتماد مشترکہ سکیورٹی نظام قائم کر سکتے ہیں، یا ہر حملہ اگلے ردعمل کی بنیاد بنتا رہے گا؟

بھارت: کشمیر، پانی اور حادثاتی جنگ کا خطرہ

پاکستان کا دوسرا بڑا محاذ بھارت کے ساتھ ہے۔

سندھ طاس کا پانی پاکستان کے لیے محض ایک سفارتی یا قانونی مسئلہ نہیں؛ اس کا تعلق زراعت، خوراک، بجلی اور کروڑوں لوگوں کے روزگار سے ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی سے متعلق اختلافات بڑھنے کی صورت میں ایک پہلے سے کشیدہ تعلق مزید غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔

اسی ماحول میں شمالی بحیرۂ عرب میں بھارتی اور پاکستانی بحری جہازوں کا حالیہ تصادم خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا الزام لگایا اور سفارتی احتجاج کیا۔ (AP News)

ایٹمی صلاحیت رکھنے والے دو ہمسایوں کے درمیان کسی غلط اندازے، حادثاتی تصادم یا رابطے کی ناکامی کو معمولی واقعہ سمجھنا خطرناک ہوگا۔

اور اس سب کے درمیان کشمیر اپنی جگہ موجود ہے۔

کشمیر کو محض ایک منجمد سرحدی تنازع سمجھنا حقیقت سے فرار ہوگا۔ اس تنازع کے انسانی، سیاسی اور نفسیاتی پہلو آج بھی زندہ ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان دیرپا امن کا کوئی بھی عمل اس وقت زیادہ معتبر ہوگا جب کشمیریوں کے متنوع نمائندہ نقطۂ نظر کو بھی سننے کا کوئی قابلِ اعتماد طریقۂ کار موجود ہو۔

کشمیر، پانی اور سلامتی اب الگ الگ فائلیں نہیں رہے؛ یہ ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ: ریاض اور تہران کے درمیان باریک رسی

پاکستان کے لیے تیسرا امتحان مشرقِ وسطیٰ ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان کے تاریخی دفاعی و معاشی تعلقات ہیں، جبکہ ایران پاکستان کا براہِ راست ہمسایہ، اہم علاقائی طاقت اور توانائی و سرحدی سلامتی کا ایک ناگزیر فریق ہے۔

سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے حالیہ دفاعی بندوبست نے اس توازن کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ ترکیہ نے بھی اس معاہدے کے تحت سعودی دفاعی ضروریات میں مدد کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ (Reuters)

پاکستان کے سامنے سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ریاض اور تہران میں سے کس ایک کے ساتھ کھڑا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسلام آباد اپنے دفاعی تعلقات، ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ رابطے اور خطے میں ممکنہ ثالثی یا سہولت کاری کے درمیان توازن برقرار رکھ سکتا ہے؟

ایسی سفارت کاری کو میں متحرک غیر جانبداری کہوں گا—یعنی اپنے مفادات کا دفاع کرتے ہوئے کسی بڑی علاقائی جنگ کا حصہ بننے سے گریز۔

لیکن یہ راستہ آسان نہیں۔

چوتھا محاذ: پاکستان کے اندر

پاکستان کا سب سے فیصلہ کن محاذ شاید کسی سرحد پر نہیں بلکہ ملک کے اندر ہے۔

خارجہ پالیسی کی اصل قوت معاشی اور سیاسی استحکام سے پیدا ہوتی ہے۔ قرض، مہنگی توانائی، کمزور مالی گنجائش، صنعتی دباؤ اور سیاسی بے یقینی کسی بھی ریاست کی سفارتی آزادی محدود کر دیتے ہیں۔

قومی سلامتی صرف ٹینک، میزائل اور فوجی طاقت کا نام نہیں۔

اس میں معاشی استحکام، خوراک، توانائی، تجارت، مضبوط ادارے اور عوامی اعتماد بھی شامل ہیں۔

اگر داخلی بنیاد کمزور ہو تو بیرونی سفارت کاری زیادہ تر بحرانوں کے ردعمل تک محدود ہو جاتی ہے۔

نیویارک: بحران یا موقع؟

اقوامِ متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کا جنرل ڈیبیٹ 22 سے 28 ستمبر تک جاری ہے۔ عالمی رہنما ایسے وقت میں نیویارک پہنچ رہے ہیں جب بین الاقوامی نظام کو بیک وقت کئی جنگوں، علاقائی تصادموں اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ (United Nations)

جنوبی ایشیا کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا خطہ مسلسل crisis management سے نکل کر حقیقی conflict resolution کی طرف بڑھ سکتا ہے؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت محدود ہے۔

افغانستان کے ساتھ سرحد غیر محفوظ ہے۔

پانی تیزی سے سلامتی کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ پاکستان کی معیشت اور دفاعی ترجیحات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

اور کشمیر کا بنیادی سیاسی مسئلہ حل طلب ہے۔

ان تمام بحرانوں میں ایک مشترک سبق موجود ہے:

رابطہ کم ہوتا ہے تو غلط اندازے بڑھتے ہیں۔
تجارت رکتی ہے تو باہمی مفاد کم ہوتا ہے۔
اور سفارتی راستے بند ہوتے ہیں تو فوجی طاقت پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔

جنگ جیتنا یا جنگ کو غیر ضروری بنانا؟

جنوبی ایشیا کو ایسی جامع سفارت کاری کی ضرورت ہے جس میں پاک افغان سکیورٹی رابطہ، پاک بھارت ہاٹ لائنز، پانی پر ادارہ جاتی مکالمہ، مرحلہ وار تجارتی بحالی اور کشمیر کے سیاسی و انسانی پہلوؤں پر سنجیدہ رابطہ شامل ہو۔

جوہری deterrence جنگ کی قیمت بہت زیادہ کر سکتا ہے، لیکن سیاسی تنازع خود حل نہیں کرتا۔

نیویارک میں شاید اس ہفتے کوئی تاریخی معاہدہ نہ ہو، لیکن یہ ضرور طے ہو سکتا ہے کہ ریاستیں اگلے بحران کا انتظار کریں گی یا موجودہ بحران کو مذاکرات کے نئے عمل کا آغاز بنائیں گی۔

جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا امتحان شاید جنگ جیتنا نہیں.جنگ کو غیر ضروری بنا دینا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے